فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]…

فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 4

رہا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد کہ:’’ اگر میں راہ استقامت پر قائم رہوں تو میری مدد کرنا او راگر میں ٹیڑھا ہوجاؤں تو مجھے سیدھا کردینا۔‘‘ آپ کے کمال عدل و انصاف اور تقویٰ کی دلیل ہے۔اورہر حاکم پر واجب ہوتا ہے کہ وہ اس مسئلہ میں آپ کی اقتداء کرے۔ اوررعایاپر بھی واجب ہوتا ہے کہ وہ اپنے ائمہ وحکام کے ساتھ اسی کی روشنی میں سلوک کریں ۔ یعنی اگر حاکم اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم ہو تو ان کی مدد کریں ‘اور اگر ان سے کوئی غلطی ہورہی ہو او روہ راہ ِ حق سے ڈگمگارہے ہوں تو ان کی رہنمائی و اصلاح کا کام کریں ۔ اگر وہ ظلم کا ارادہ کرے تو جہاں تک ہوسکے تو اسے روکیں ۔ اگر حاکم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جیسا حق کا پیروکار ہوگا تو عوام پر ترک ِنصیحت کے لیے کوئی عذر نہ ہوگا۔ اور اگر ظلم کو روکنا کسی بڑے فساد کے بغیر ممکن نہ ہو تو پھر اس صورت میں چھوٹی برائی کو ختم کرنے کے لیے بڑی برائی کو اختیار نہ کیا جائے۔ پس چھوٹے اور کم شر کو بڑے شر سے ختم نہ کیا جائے۔

[اشکال]:رہا شیعہ کا یہ قول کہ ’’ امام کا کام رعیت کو کمال تک پہنچانا ہے۔تو پھر امام رعایا سے طلب کمال کیسے کرسکتا ہے؟‘‘ 

[جواب ]:اس کے متعدد جواب ہیں :

پہلا جواب:....ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ امام کا کام رعایا کی تکمیل کرنا ہے ‘ اور رعایا اس کی تکمیل نہیں کرسکتی۔ یہ درست نہیں اس لیے کہ امام و رعیت دونوں باہم ایک دوسرے کی تکمیل کرتے اور برّ و تقویٰ میں ایک دوسرے کے معاون ہوا کرتے ہیں ۔اور گناہ اورنافرمانی کے کام میں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؛ جیسے لشکر کا سالار؛ قافلہ کا امیر ؛ نماز کاامام ؛ حج کا امیر ۔دین کی معرفت تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی گئی ہے ۔ لہٰذا امام کا کوئی الگ دین نہیں ہوتا جو اس کے لیے خاص ہو ۔ البتہ جزئیات میں اجتہاد کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ لیکن جب حق بالکل واضح ہو ‘ تو پھر اسی کے مطابق کا حکم بھی کرے ۔اوراگر یہ حکم صرف امام کے لیے واضح ہو تو اسے چاہیے کہ لوگوں کے سامنے بھی اسے واضح او ربیان کرے۔اورلوگوں پر واجب ہوتاہے کہ وہ اس کی اطاعت بھی کریں ۔ اور اگر حکم مشتبہ ہو تو ان پر واجب ہوتا ہے کہ آپس میں مشاورت کریں یہاں تک کہ حق ان کے سامنے واضح ہو جائے۔اور اگر اجتہادی فیصلہ رعایا میں سے کسی ایک کا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ امام و حاکم کو بتادے ۔اور اگر سب کا اجتہاد مختلف ہو تو اس صورت میں امام کے اجتہاد کی اتباع کی جائے گی۔ کیونکہ امام کی رائے کو ترجیح دینا ضروری ہے ‘ اور اس کے برعکس کرنا ممتنع ہے ۔

یہ اسی طرح ہے جیسے روافض میں سے امامیہ کا قول امام معصوم کے نائبین کے بارے میں ہے کہ انہیں کلیات معلوم ہو چکے ہیں تو ان پر ضروری ہوتاہے کہ وہ اجتہاد کے ذریعہ جزئیات معلوم کریں ۔اور اسی طرح ہر امام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہوتا ہے جس کی عصمت و پاکدامنی پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں ۔کسی اور کے نائب کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اتباع کے زیادہ حق دار ہیں ۔ او رآپ کے نائب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھائیں جو ذمہ داری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبھائی تھی؛ یہاں پر خلیفہ بننا مراد نہیں ۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہر والی پر واجب ہوتی ہے۔ خواہ اس کو والی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا ہو یا کسی اور نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی آپ کی اطاعت اسی طرح واجب ہے جیسے آپ کی زندگی میں واجب تھی۔ پس جس کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا دیگر کسی نے والی بنایا ہو تو اس پر وہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو دیگر حکام وامراء پر واجب ہوتی ہے۔

دوسرا جواب:....مخلوق کا ہر فرد اپنی تکمیل کے لیے دوسرے کا محتاج ہوتا ہے ۔ جیسے علمی بحث و مباحثہ کرنے والے ؛ باہم مشورہ کرنے والے ؛ اور دینی یا دنیاوی مصلحتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مشورہ کرنے والے [ایک دوسرے کے محتاج ہوتے ہیں ]۔لیکن خالق سبحانہ وتعالیٰ کے بارے میں یہ بات ممتنع ہے۔ اس لیے کہ ہر ممکن چیز اپنے وجود کے لیے کسی ایسے موجد کی محتاج ہوتی ہے جو اپنی ذات میں بے نیاز ہواو راسے کسی دوسرے کی کوئی ضرورت نہ ہو ۔ تاکہ اس سے دور اور تسلسل لازم نہ آئے۔ جب کہ مخلوق کے ہر دو افراد میں ہر ایک فرد اپنی قوت و طاقت اللہ تعالیٰ سے حاصل کرتا ہے ؛ نہ ہی وہ اپنی ذات سے قوت حاصل کرتا ہے اور نہ ہی اللہ کے سوا کسی دوسرے سے؛پس اس میں کوئی دور و تسلسل والی بات نہیں ۔

تیسرا جواب:....یہ سلسلہ چلا آرہا ہے کہ ہمیشہ سے شاگرد بعض باتوں میں اساتذہ کو آگاہ کرتے ہیں ۔ اور اساتذہ ان کی معلومات سے استفادہ کرتے ہیں ۔حالانکہ شاگرد جن اصولوں کے ذریعہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے ؛ وہ اس نے اساتذہ سے ہی حاصل کیے تھے۔ یہی حال صنعت کاروں اور دوسرے لوگوں کا بھی ہے۔

چوتھا جواب:....حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام سے افضل ہونے کے باوجود ان سے تین مسائل کا علم حاصل کیا۔ ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے کہا تھا: ﴿ اَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِہٖ﴾ [نمل۲۲]

’’ میں ایسی بات معلوم کرکے آیا ہوں جس کا علم آپ کو نہیں ہے ۔‘‘

اب کہاں [اللہ کے نبی ] حضرت سلیمان علیہ السلام اور کہاں میاں ہدہد [ایک پرندہ ]۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ اور بعض اوقات ان کی رائے کے مطابق رجوع کیا کرتے اور عمل بھی کیا کرتے تھے۔ جیساکہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس جگہ پڑاؤڈالنے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ؟ تو پھر ہم یہاں سے تجاوز نہیں کرسکتے ؛ یا پھر یہاں پر پڑاؤ ڈالنا محض جنگی تدبیر اور ایک چال ہے ؟

توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ محض رائے؛ جنگی تدبیر اور ایک چال ہے ۔‘‘ اس پر حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : تو پھر یہ جگہ جنگی پڑاؤ کے قابل نہیں ہے ۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کے مطابق رجوع کیا ۔

صفحہ 3 از 4