فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]…

فصل:....[حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے قول سے باطل استدلال]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

پس اگر کہاجائے کہ امام کی نافرمانی اور اس کو غصہ دلانے کے سبب وہ اس بات کے مستحق ہوگئے تھے کہ ان سے قتال کیا جائے تو ہم بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ :جو شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نافرمانی کرے یا آپ کو تکلیف دے تو آپ اس کی سرزنش کرسکتے ہیں جس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے مخالف کی تادیب وسرزنش کے مجاز ہیں ۔[لیکن حضرت ابوبکر نے ایسا نہیں کیا ]۔ اور اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے مستحق ہیں تو یہ کہنا درست نہیں کہ جو شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نافرمانی کرے اورانہیں غصہ دلائے اس سے تو قتال جائز ہے ‘ مگر جو شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نافرمانی کرے تو اس کی تأدیب و تربیت جائز نہیں ۔‘‘

پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فعل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فعل کی نسبت زیادہ کامل ہے۔ مسند احمد میں حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا،آپ کسی شخص سے ناراض ہوئے ،تووہ شخص درشت کلامی پر اتر آیا ۔ میں نے کہا : اے خلیفہ رسول! آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ میرے ان الفاظ سے ان کا سارا غصہ جاتا رہا ، وہ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اورمجھے بلالیا؛ ....اورفرمایا:’’ اگر میں تمہیں اجازت دیتا تو تم یہ کر گزرتے ؟میں نے کہا: کیوں نہیں ؟ ضرور کرتا ؛آپ نے فرمایا:

’’ اللہ کی قسم یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں -یعنی محض اپنی نافرمانی کی وجہ سے کسی مسلمان کو قتل کردیا جائے ۔‘‘[الصارم المسلول ۲۰۵۔ابود اؤد ۲؍۲۵۲۔]

علماء کرام رحمہم اللہ کے اس حدیث کی شرح میں دو قول ہیں :

پہلا قول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے انسان کو گالی دینے والے کو قتل کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ’’کسی انسان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے علم و اجتہاد سے لوگوں کے خون کے فیصلے کرے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ۔

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی بیعت نہ کی تو آپ نے اپنے ہاتھ سے تو درکنار ؛ اپنی زبان سے بھی انہیں تکلیف ہیں دی۔ اور دوسرے لوگ جیسے حضرت علی وغیرہ رضی اللہ عنہم نے بھی چھ ماہ تک آپ کی بیعت نہ کی تھی۔ مگر آپ نے ان میں سے کسی ایک کو بھی ذرا بھر بھی تکلیف نہیں دی۔ اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک کو اپنی بیعت پر مجبور کیا ۔ یہ سب ان کے کمال عدل اور معراج تقوی کی وجہ سے تھا۔ اور کمال احتیاط تھی کہ کہیں پر امت کو کوئی ذرا بھر بھی تکلیف نہ پہنچے۔ بلکہ یہاں تک فرمادیا کہ جب مجھے غصہ لاحق ہو تو مجھ سے دور رہا کرو ۔

پانچویں بات:....صحیح حدیث میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اس کے ساتھی جن[شیطان] کو مسلط کیا گیا ہے۔‘‘

صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! کیا آپ کے ساتھ بھی جن ہے؟ توآپ نے فرمایا:’’ ہاں ! مگر میں بتوفیق الٰہی اس سے محفوظ رہتا ہوں ، اور وہ مجھے اچھی بات ہی کا حکم دیتا ہے۔‘‘[مسلم ۲۱۶۷]

حدیث صحیح میں حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے آپ نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں ! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھرعرض کی : کیاوہ ہر انسان کے ساتھ ہے ؟

تو آپ نے فرمایا: ہاں ! تو انہیں نے پھر عرض کی : کیاوہ آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ہاں ! مگر میرے رب نے اسے میرے لیے مسخر کردیا ہے؛ اوروہ مسلمان ہوگیا ہے۔ ‘‘[صحیح مسلم ‘ کتاب صفات المنافقین ‘ باب : تحریش الشیطان۴؍۲۱۶۸۔]

علماء کرام رحمہم اللہ کے دو اقوال میں سے صحیح ترین قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ وہ میرا مطیع و فرمانبردار ہوگیا ہے ۔ بعض علماء کرام نے یہ لکھ دیا کہ: اس سے مراد یہ ہے کہ : یہاں تک کہ میں مسلمان ہوگیا ۔ اس طرح انہوں نے معنی بدل دیا اور بعض علماء کرام نے لکھ دیا کہ : وہ شیطان مؤمن ہوگیا ؛ تو انہیں نے لفظ کو بدل دیا ۔

ایسے ہی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو قتل کردیا تو آپ نے فرمایا:

﴿ ھٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ﴾ [القصص۱۵]

’’ یہ تو شیطانی کام ہے یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے ۔‘‘

اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم نے کہا تھا:

﴿وَ مَآ اَنْسٰنِیْہُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ ﴾ [کہف۶۳]

’’ اور مجھے تو شیطان نے ہی بھلا دیا کہ میں اسے یاد رکھتا ۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حوا رضی اللہ عنہا کے قصہ میں فرمایا ہے :

﴿فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ﴾ [البقرۃ ۳۶]

’’ شیطان نے آدم و حوا دونوں کو ور غلادیا۔ اور جس حالت میں وہ تھے انہیں وہاں سے نکلوا کر ہی دم لیا۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَاوٗرِیَ عَنْہُمَا مِنْ سَوْاٰتِہِمَا ﴾ [اعراف۲۰]

’’پھر شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ان سے چھپائی گئی تھی انہیں کھول دکھائے۔‘‘

پس جب شیطان کا لاحق ہونا انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت میں عیب شمار نہیں ہوتا؛تو خلفاء کرام کی خلافت میں کیسے عیب شمار ہوسکتا ہے ؟

اور اگر کوئی انسان یہ دعوی کرے کہ مذکورہ نصوص میں تأویل کی گئی ہے [یعنی وہ اپنے ظاہر پر نہیں ]؟

تو اس کے جواب میں کہا جائے گاکہ: ’’ پھر کسی دوسرے کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قول میں تأویل کرنا بھی درست ہے۔ اس لیے کہ آپ کے ایمان وعلم و عمل ؛ تقوی و طہارت پر بہت سارے دلائل موجود ہیں ۔ اور جب کوئی ایسا مجمل لفظ وارد ہوجو کہ معلوم شدہ حقیقت کے خلاف ہو تو اس کی تاویل کرنا واجب ہو جاتا ہے ۔

صفحہ 2 از 4