فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 13

اکثر علما کرام رحمہم اللہ کا مذہب یہ ہے کہ باغی جب تک امام سے جنگ نہ شروع کریں تو اس وقت تک ان سے قتال کرنا جائز نہیں ۔جیسا کہ خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کیساتھ کیا تھا۔ اس لیے کہ خوارج سے آپ کے قتال پر تمام علماء کرام رحمہم اللہ کا اتفاق ہے۔ جس کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔بخلاف معرکہ صفین کے۔اس لیے کہ ان لوگوں نے تو حضرت سے جنگ شروع نہیں کی تھی بلکہ آپ کی بیعت سے انکار کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ائمہ اہل سنت و الجماعت جیسا کہ امام مالک امام احمد رحمہما اللہ اور دیگر ائمہ کہتے ہیں :

’’خوارج کے ساتھ آپ کی جنگ و قتال ماموربہ تھا جب کہ جنگ جمل اور جنگ صفین فتنہ کی جنگیں تھیں ۔‘‘

اگر کچھ لوگ کہیں : ہم نماز پڑھتے ہیں اور زکواۃ ادا کرتے ہیں ؛ مگر اپنا مال زکوا ۃحاکم وقت کو نہیں دیتے؛اوردیگر واجبات اسلام بھی ادا کرتے ہیں ۔ تو اس صورت میں اکثر علماء کرام کے نزدیک ان لوگوں سے قتال کرنا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کا مذہب ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مانعین زکواۃ سے جنگ کی تھی اس لیے کہ انہوں نے زکواۃ ادا کرنے سے مطلق طور پر انکار کردیا تھا۔ ورنہ اگروہ لوگ یہ کہتے کہ: ہم اپنے ہاتھوں سے زکواۃ ادا کرتے ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیتے تو اس صورت میں اکثر علماء کرام کے نزدیک قتال جائز نہیں تھا۔ جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل اور دوسرے علما کرام رحمہم اللہ کا مذہب ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مختلف شہروں کے علماء ان (جمل و صفین کی)جنگوں کو فتنہ کی لڑائیاں قرار دیتے تھے۔ لہٰذا جو انسان ان جنگوں میں شریک نہیں ہوا وہ ان لوگوں سے افضل تھا جو ان میں شریک ہوئے۔ یہ امام مالک احمد ابو حنیفہ اوزاعی ثوری رحمہم اللہ اور دیگر اتنے ائمہ و علماء کا مذہب ہے جن کی تعداد کا شمار کرنا ممکن نہیں ۔حالانکہ امام ابو حنیفہ اور دیگر کوفی فقہاء کے نزدیک امام قدوری ک رحمہ اللہ اوردیگر علماء کی نقل کے مطابق باغیوں سے جنگ کرنا جائز نہیں ۔ہاں اگر وہ خود امام کے خلاف برسر پیکار جنگ ہوجائیں تو پھر ان سے جنگ و قتال کرنا جائز ہے۔اور اگر وہ واجب زکواۃ ادا کررہے ہوں ۔ مگر اسے حاکم وقت کے ہاتھوں میں دینے سے انکار کردیں تو پھر ان سے جنگ جائز نہیں ۔

ایسے ہی امام احمد اور دیگر ائمہ اور جمہور ائمہ وفقہا کا مذہب یہ ہے کہ قرآن میں مذکور ذوی القربی سے مراد رسول اللہ کے قریبی رشتہ دار مراد ہیں ۔ اور امام کو وہ مقام یا رخصت حاصل نہیں ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی۔یہاں پرمقصود یہ ہے کہ یہ دونوں خلفاء اگرچہ اپنے افعال میں متأول اورمجتہد تھے اور ان علماء کرام کی ایک جماعت نے ان کی موافقت بھی کی ہے جو صرف علم اوردلیل کی روشنی میں بات کرتے ہیں ؛ اور ان دونوں کا کوئی کام ایسا بھی نہیں جس کی وجہ سے ان پر کوئی تہمت آتی ہو۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اجتہاد مصلحت کے زیادہ قریب اور فساد سے بہت دور تھا۔ اس لیے کہ خون کا خطرہ اور فتنہ مال کے خطرہ اور فتنہ سے بہت بڑھ کر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بڑی پرامن اور پرسکون تھی۔ تمام امت اس وقت آپس میں متفق ومتحد تھی۔چھ سال تک لوگوں کو آپ کا کوئی برا نہیں لگا اور نہ ہی کسی چیزپر انکار کیا گیا۔ پھر باقی کے چھ سالوں میں کچھ ایسی چیزیں دیکھنے میں آئیں جن پر انکار کیا گیا۔ یہ ان چیزوں سے بہت کم تھی جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے منصب خلافت پر فائز ہونے کے وقت موجود تھیں ۔جن لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا وہ اوباش اور بے راہ رو نوجوانوں کا ایک گروہ تھا۔جب کہ بہت سارے سابقین اولین نے نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کی اور نہ ہی آپ کی بیعت کی۔ بلکہ بہت سارے صحابہ او رتابعین نے آپ کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ ایسے ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں شہروں کے شہر فتح ہوئے کفار کو قتل کیا گیا۔جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں نہ ہی کوئی نیا شہر فتح ہوا اور نہ ہی کسی کافر کو قتل کیا گیا۔

یہ جوکچھ بھی ہوا اگریہ سارا رائے کا نتیجہ ہے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے زیادہ کامل و اکمل ہے۔ اور اگر یہ قصد و ارادہ کی وجہ سے ہے تو آپ کا قصدو ارادہ زیادہ مکمل و اتم تھا۔

نیز یہ بھی کہتے ہیں اگرچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیوں سے شادی کی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا:

(( لو کان عِندنا ثالِث لزوجناہا عثمان)) [سبق تخریجہ]

’’ اگر ہمارے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو ہم اس کی شادی بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہی کردیتے ۔‘‘

اسی وجہ سے آپ کا نام ذوالنورین رکھا گیا۔ اس لیے کہ آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو نبی کی دو بیٹیوں سے شادی کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی۔ 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بنی امیہ میں سے ایسے انسان کو بھی اپنا داماد بنایا جس کا مقام و مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بہت کم تھا۔ آپ نے ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کو اپنی بڑی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا شادی کرکے دیدی تھی۔اور اس کے ساتھ سسرالی رشتہ کی شکر گزاری کے الفاظ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بطور حجت کے ارشاد فرمائے جب آپ ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے فرمایا تھا:

(( إِن بنِی المغِیرۃ استأذنونِی فِی أن ینکِحوا فتاتہم علِی بن بِی طالِب، وِإنِی لا آذن، ثم لا آذن، ثم لا آذن، إِلا أن یرِید ابن بِی طالِب أن یطلِق ابنتِی ویتزوج ابنتہم۔ واللّٰہِ لا تجتمِع بِنت رسولِ اللّٰہِ وبِنت عدوِ اللّٰہِ عِند رجل بدا، ِإنما فاطِمۃ بضعۃ مِنِی، یرِیبنِی ما رابہا ، ویؤذِینِی ما آذاہا،ثم ذکر صِہرا لہ مِن بنِی عبدِ شمس فأثنی علیہِ وقال:حدثنِی فصدقنِی، ووعدنِی فوفیٰ لِی )) [سبق تخریجہ]

’’بنی ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اپنی بیٹی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دینے کی اجازت طلب کی ہے۔‘‘

صفحہ 9 از 13