فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 13

اگر یہ بات کہی جائے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ امامت کا حق دار کوئی دوسرا ہو مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے افضل ہوں ۔

تو اس کا جواب یہ ہے: پھلی بات: یہ سوال کسی امامیہ کی طرف سے وارد کیا جانا ممکن نہیں ۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک جو سب سے افضل ہوگا وہی امامت کا حق دار بھی ہوگا۔اور یہی قول جمہور اہل سنت والجماعت کا بھی ہے۔

یہاں پر دو اہم نکات ہیں : یا تو یہ بات کہی جائے کہ افضل امامت کا زیادہ حق دار ہوتا ہے مگر مفضول کو مطلق طور پر یا کسی ضرورت کے تحت یہ منصب تفویض کرناجائز ہے۔ یا پھر یہ بات کہی جائے کہ جوکوئی بھی اللہ کے ہاں افضل ہو وہ امامت کا بھی زیادہ حق دار ہوگا۔

یہاں پر دونوں باتیں منتفی ہیں ۔ اس لیے کہ مفضول فی الاستحقاق کو ولایت تفویض کرنے کی حاجت منتفی تھی۔ اس لیے کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ولایت تفویض کرنے پر قادر تھے۔ اوروہاں کوئی ایسا بھی نہیں تھا جو اس مسئلہ میں تنازع کرتا۔نہ ہی ان لوگوں کو لالچ دینے یا ڈرانے دھمکانے کی ضرورت تھی۔ اورنہ ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس اتنی قوت و شوکت تھی جس کا خوف ہوتا۔ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی ایسے ہی آسانی سے خلیفہ بنایا جاسکتا تھا جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بنایا گیا۔ تو یہ بات ممتنع ثابت ہوگئی کہ یہ کہاجائے کہ مفضول کے علاوہ کسی کو خلیفہ بنائے جانے کا امکان ہی نہیں تھا۔جب وہ لوگ ایسا کرنے پر قادر تھے اوروہ کوئی بھی کام کرتے تو امت کی بہتری کے لیے کرتے تھے اپنے نفس کے لیے نہیں ۔ تو پھر اس صورت میں یہ جائز نہیں رہتا کہ وہ امت کے مصلحت یعنی افضل کو ولایت کی تفویض کو جان بوجھ کر چھوڑ دیں ۔ اس لیے کہ وکیل اور ولی اورغیر کے لیے تصرف کرنے والے کے لیے جائز نہیں جس نے اسے اپنے کام پر امین بنایا ہے اس کی مصلحت کو ترک کردے۔ اس کے باوجود کہ وہ مصلحت کے حاصل کرنے پر قادر بھی ہو۔ تو پھر اس صورت میں کیا کہا جاسکتا ہے جب وہ دونوں باتوں پر برابر کی قدرت رکھتا ہو۔

دوسری بات:اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق میں سب سے افضل تھے۔ جو انسان بھی آپ سے جتنا مشابہ ہو وہ اس دوسرے سے اتنا ہی افضل ہوگا جو ایسا نہ ہو۔ یہ خلافت خلافتِ نبوت تھی۔ آپ کوئی بادشاہ نہیں تھے۔ پس جو کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ بنا اور آپ کا قائم مقام ہوا ‘وہ آپ سے زیادہ مشابہت رکھتا تھا۔ اورجو آپ سے مشابہت زیادہ رکھتا ہو وہی افضل بھی ہو گا۔ پس جس کا جانشین دوسروں کی نسبت اس کے زیادہ مشابہ ہوتو مشابہت رکھنے والا افضل ہوگا۔ پس یہ خلیفہ یا جانشین افضل ٹھہرا۔جب کہ اس میں نظری طریقہ یہ ہے کہ :علما کرام نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قرآن کے بڑے عالم تھے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سنت کے بڑے عالم تھے۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے بہت بڑا جہاد کیا جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کیساتھ بہت بڑا جہاد کیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حکومت سے بے نیاز اور زاہد تھے۔ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مال و دولت سے بے نیاز اور زاہد تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خون خرابے سے بہت بچا کرتے تھے جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مال سے بچا کرتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جہاد بالنفس میں بھی حصہ لیا او ر اس میں صابر و ثابت رہے۔لیکن آپ نے اس وقت تک قتال نہیں کیا جب تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ایسا ہی مقام نہیں مل گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

((المجاہِد من جاہد نفسہ فِی ذاتِ اللّٰہ)) [الحدیث- مع اختِلاف فِی اللفاظِ-عن فضالۃ بنِ عبید رضی اللّٰہ عنہ ؛ فِی: سننِ التِرمِذِیِ؛ کتاب فضائِلِ الجِہادِ، باب ما جاء فِی فضلِ من مات مرابِطاً۔وقال التِرمِذِی: وفِی البابِ عن عقبۃ بنِ عامِر وجابِر۔ حدیث فضالۃ بنِ عبید حدیث حسن صحِیح ۔والحدیث أیضا فِی: المسندِ۶؍۲۰۔ ]

’’مجاہد وہ ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان کیساتھ جہاد کرے۔‘‘

حکومت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت و کردار حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ اکمل تھا۔تواس سے ثابت ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ افضل ہیں اس لیے کہ قرآن کا علم سنت کے علم سے زیادہ معظم اور اہم ہے۔ صحیح مسلم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((یؤم القوم أقرأہم لِکِتابِ اللّٰہِ، فِإن کانوا فِی القِرأۃِ سواء فأعلمہم بِالسنۃ)) [سبق ہذا الحدیث فِیما مضی 4؍280۔]

’’لوگوں کی امامت وہ کرائے جو کتاب اللہ کا سب سے زیادہ پڑھنے والا(ماہر)ہو۔ اور اگر کتاب اللہ میں سبھی برابر ہوں تو جو کوئی سنت کا بڑا عالم ہو۔ ‘‘

اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تمام قرآن جمع اور حفظ کیا۔اور کبھی کبھار ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے۔ جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ آپ کو پورا قرآن یاد تھا یا نہیں تھا؟ اور جہاد بالمال جہاد بالنفس پر مقدم ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:

﴿ جَاہِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ﴾ [التوبۃ41 ]

’’اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا وَجٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ﴾ [التوبۃ20 ]

’’جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی، اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں ، اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰٓئِکَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ﴾ [الأنفال:72 ]

’’جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیااور جن لوگوں نے ان کو پناہ دی اور مدد کی ؛یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔‘‘

صفحہ 7 از 13