فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 13

جیسا کہ دو آدمی اگر طب اور حساب کے عالم ہو یا پھر فقہ اور نحو کے ‘ یا کسی دیگر علم و فن کے۔تو ان دونوں میں سے علم میں زیادہ کامل وہ ہوگا جس کے پاس علم زیادہ ہوگا۔اور اگر اس برابر ہونگے تو علم بھی برابر ہوں گے۔ان میں سے کوئی ایک اپنے باپ یا بیٹے کی وجہ سے دوسرے سے بڑا عالم نہیں بن جائے گا۔یہی حال سخاوت؛ بہادری؛ زہد اور دینداری کا بھی ہے۔

جب یہ بات واضح ہوگئی توپتہ چلا کہ خارجی فضائل کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے؛ ہاں مگر اس وقت جب یہ داخلی فضائل میں بھی اضافے کا سبب بن جائیں ۔تو اس وقت فضیلت داخلی فضائل کی وجہ سے ہوگا۔

رہ گیا بدنی فضائل کا مسئلہ تو ان کا کوئی اعتبار اس وقت تک نہیں جب تک ان کا نفسانی فضائل نہ ہوں ۔ وگرنہ جو کوئی روزہ رکھے؛ نماز پڑھے‘جہادکرے‘صدقہ و خیرات کرے ‘مگر اس کی نیت خالص نہ ہو تو اسے کوئی فضیلت حاصل نہ ہوگی۔ یہاں پر معتبر دل [میں نیت ]ہے۔ جیساکہ حدیث شریف میں آتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( ألا إِن فِی الجسدِ مضغۃ ِإذا صلحت صلح لہا سائِر الجسدِ، وإذا فسدت فسد لہا سائِر الجسدِ، ألا وہِی القلب۔))[البخاری کتاب الإیمان ‘ باب فضل من استبرأ لدینہ ۱؍۱۶۔مسلم کتاب المساقاۃ ‘ باب أخذ الحلال و ترک الشبہات ۳؍۱۲۱۹’ ابن ماجۃ کتاب الفتن ‘باب الوقوف عند الشبہات ۲؍۱۳۱۸۔]

’’ آگاہ ہوجاؤ ! جسم میں گوشت کاایک لوتھڑا ہے۔اگروہ درست ہوجائے تو ساراجسم درست ہوجائے گا ؛ اوراگر وہ بگڑ جائے تو ساراجسم بگڑجائے گا۔آگاہ ہوجاؤ وہ دل ہے ۔‘‘

پس درایں طور جوانسان نفسانی فضائل میں کامل ہوگا وہ مطلق طور پر افضل ہوگا۔اہل سنت و الجماعت کے ہاں کمال حضرت علی رضی اللہ عنہ میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ۔بلا شک وشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کمال کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے۔

بلکہ نزاع و جدال صرف اس بات پر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفاء ثلاثہ سے افضل و اکمل اور امامت و خلافت کے زیادہ حق دار تھے۔ شیعہ مصنف نے جو دلائل ذکر کیے ہیں ان سے اس کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔

افضلیت شیخین کے اثبات کے دو طریقے:

فضیلت کے اثبات کے لیے علماء کے ہاں دو طریقے رائج ہیں ۔

۱۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ بعض اشخاص کی فضیلت دوسرے بعض پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اورصرف نص کے ذریعہ معلوم کی جا سکتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ قلبی حقائق و مراتب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہوتا؛ یہ علم اس نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہے،[ لہٰذا وہی جانتا ہے کہ دونوں میں سے افضل کون ہے]۔یا پھر اس کی طرف سے خبر آنے پر معلوم ہوسکتا ہے۔

۲۔ فضیلت معلوم کرنے کا دوسرا طریقہ بعض علماء کے نزدیک نظر و استدلال ہے۔ اہل سنت کے نزدیک مندرجہ بالا دونوں طریقوں سے اگر صحیح حق کے مطابق تحقیق کی جائے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خلفاء ثلاثہ کی افضلیت ثابت ہوتی ہے۔ ہم تو اس طریقہ کار کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی درست مانتے ہیں ۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہے تو حضرت ابوبکر و عم رضی اللہ عنہما کی فضیلت بدرجہ اولیٰ ثابت ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت کے بارے میں کسی کو کوئی اختلاف ہی نہیں ۔بلکہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہما پر صحابہ و تابعین اور ائمہ اہل سنت والجماعت میں سے امت کے کسی بھی شخص نے اختلاف نہیں کیا۔ بلکہ صدیوں سے اس پر اجماع چلا آرہا ہے ۔اور یہ اجماع اہل کبائر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت؛ گنہگاروں کے جہنم سے خروج؛ حوض و میزان کے اثبات ‘خوارج اور مانعین زکواۃ سے قتال ؛ کرایہ داری کے جواز ‘ اور خالہ پر بھانجی کے نکاح کی حرمت پر اجماع سے بڑھ کر اور واضح ہے۔بلکہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ایمان پر خوارج اپنی سرکشی اور تکبر کے باوجود متفق ہیں ‘ حالانکہ یہ لوگ حضرت عثمان اورحضرت علی رضی اللہ عنہما کے ایمان کو صحیح نہیں مانتے۔

خوارج کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تکفیر پر اجماع ہے۔ اور ان کی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر قدح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر قدح سے بڑھ کر ہے۔ جب کہ زیدیہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔جب کہ قدیم معتزلہ کامیلان خوارج کی طرف تھا۔ اور متأخرین کا میلان زیدیہ کی طرف ہے۔جیسا کہ قدیم رافضہ صراحت کے ساتھ تجسیم کا عقیدہ رکھتے تھے؛ جب کہ ان کے متأخرین معتزلہ اور جہمیہ کے قول پر چلتے ہیں ۔ ایسے ہی عصر اول کے شیعہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افضلیت اورتقدیم میں شک تک نہیں کرتے تھے ۔ جب کہ بہت سارے لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فضیلت دیتے تھے۔ یہ اہل کوفہ اور بعض بہت سارے دوسرے لوگوں کا عقیدہ بھی ہے۔ امام ثوری بھی پہلے یہی عقیدہ رکھتے تھے پھر آپ نے اس سے رجوع کرلیا۔ جب کہ ایک گروہ ان میں سے کسی ایک کو بھی دوسرے پر فضیلت نہیں دیتا۔ یہ قول ابن القاسم نے امام مالک سے نقل کیا ہے ‘ انہوں نے جن اہل مدینہ کو پایا وہ یہی عقیدہ رکھتے تھے۔ لیکن ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ : میں نے کسی ایک ایسے کو نہیں پایا جس کی بات مانے جانے کے قابل ہو اور وہ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت دیتا ہو۔ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ وہ لوگ اس مسئلہ میں گفتگو کرنے پر سکوت کوترجیح دیتے تھے۔ تو اس صورت میں یہ کوئی قول نہیں ہوگا۔ اور یہی بات زیادہ ظاہر لگتی ہے۔ اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ ان دونوں حضرات کومساوی سمجھتے ہوں ۔ابن القاسم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ : میں نے کسی بھی ایسے انسان کو نہیں دیکھا جس کی اقتداء کی جاتی ہواوروہ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کی حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما پرفضیلت میں شک کرتا ہو۔

جمہور الناس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو فضیلت دیتے ہیں ۔اور اہل سنت کے ہاں اسی قول کو استقرار حاصل ہے۔یہی محدثین اور اہل زہد و تصوف اور ائمہ فقہاء جیسے امام شافعی؛اور ان کے اصحاب ‘امام احمد بن حنبل اور ان کے اصحاب امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ کا مذہب ہے۔ امام مالک سے بھی ایک روایت یہی ہے اور ان کے اصحاب کا یہی عقیدہ ہے۔

صفحہ 5 از 13