فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 13

’’ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے طلب گار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی راست باز لوگ ہیں ۔اور (ان کے لیے)جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ)اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ﴾ (الفتح: ۲۹)

’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں ۔‘‘

قرآن مجید میں امت کے اگلے اورپچھلے اہل ایمان؛ اہل تقوی اورمحسنین پر؛مقسطین اورصالحین اور ان جیسے دوسرے لوگوں پر ایسے ثناء بیان کی گئی ہے۔ رہا گیا نسب کا مسئلہ ؛ جو کچھ یہ لوگ قرآن کی طرف ذوی القربی کے حقوق منسوب کرتے ہیں جیسا کہ آیت خمس اور فئے میں ہے ؛ اور قرآن میں جو اہل بیت سے ناپاکی کو دور کرنے اور انہیں ہر طرح سے پاک کرنے کا بیان ہے ؛اور قرآن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کا بیان ہے ۔اس کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ آپ پر اور آپ کی آل پر درود پڑھا جائے۔اورقرآن میں اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کابیان ہے۔ آپ کے اہل خانہ سے محبت آپ کی محبت کا اتمام وکمال ہے۔ قرآن میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات امہات المؤمنین ہیں ۔

قرآن مجید میں محض قرابت یا اہل بیت ہونے کی وجہ سے کسی کی مدح نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کی ثنائے خیر اس بنا پر کی گئی ہے۔اور نہ ہی عند اللہ کسی کی فضیلت کا استحقاق اس بنیاد پر ذکر کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی کسی کی ایسے پر کوئی فضیلت بیان کی گئی ہے جو تقوی میں برابر کا ہم پلہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن میں آل ابراہیم اور آل اسرائیل کو چن لیے جانے کا بیان ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے عبرت بنادیے جانے کے بارے میں بھی خبر دی ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا ہے کہ جزاء اور مدح اعمال کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے چنیدہ لوگوں کا ذکر کیا ‘ اور پھر ان میں سے جو لوگ کافر ہوگئے ان کے کفر اور گناہوں اورسزا کا ذکر کیا تو اس میں دو چیزیں بیان کیں : ثواب اورعقاب ۔

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ عالی نسب کے ساتھ کبھی مدح بھی مل جاتی ہے ؛ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب صاحب مدح اہل تقوی او راہل ایمان میں سے ہو۔ وگرنہ صرف نسب والوں کی مذمت کثرت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔جیسا کہ ان لوگوں کی مذمت کا ذکر ہے جو بنی اسرائیل اور اولاد ابراہیم اور ان کے سسرالیوں میں سے مذموم ٹھہرے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِمْرَاَۃَ نُوحٍ وَّاِمْرَاَۃَ لُوطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَّقِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ o وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِمْرَاَۃَ فِرْعَوْنَ اِِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظٰلِمِیْنَ o﴾ [التحریم ۱۰۔۱۱]

’’اللہ نے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان کی، وہ ہمارے بندوں میں سے دونیک بندوں کے نکاح میں تھیں ، پھر انھوں نے ان دونوں کی خیانت کی تو وہ اللہ سے (بچانے میں ) ان کے کچھ کام نہ آئے اور کہہ دیا گیا کہ داخل ہونے والوں کے ساتھ تم دونوں آگ میں داخل ہو جاؤ ۔اور اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی، جب اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔‘‘

جب یہ بات واضح ہوگئی تو اب کہا جاسکتا ہے کہ : جب کوئی ایک انسان عجمی ہو اور دوسرا عربی ہے۔

ہم مجمل طور پر بالجملہ کہتے ہیں کہ:’’ عرب عجمیوں کی نسبت افضل ہیں ۔‘‘[ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں میں جو خیر و تقویٰ اور فضائل و محاسن پائے جاتے ہیں وہ عجمیوں میں موجود نہیں ]۔ ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل ہے نہ عجمی کو عربی پر؛نہ ہی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل ہے نہ کالے کو گورے پر ۔مگر فضیلت صرف تقوی سے حاصل ہوتی ہے۔[مسند احمد(۵؍۴۱۱)۔]سب لوگ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنے ہوئے تھے۔‘‘[سنن ابی داؤد، کتاب الادب۔ باب فی التفاخر بالاحساب(حدیث:۵۱۱۶)، سنن ترمذی کتاب المناقب۔ باب (۷۴)، فی فضل الشام والیمن (حدیث: ۳۹۵۵۔ ۳۹۵۶)۔]

سالار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے کبر و غرور اور آباء و اجداد پر فخر کرنے کو تم سے دور کردیا ہے۔ انسان دو ہی قسم کے ہوتے ہیں (۱) مومن متقی(۲) فاسق و فاجر۔[دیکھیں سابقہ تخریج]

اسی لیے جب کوئی انسان اگر عرب و عجم میں سے کہیں سے بھی ہو؛ اور دوسرا قریش میں سے ہو۔ تو ان دونوں کا مقام اللہ کے ہاں تقوی کے اعتبار سے ہوگا۔اگر وہ طاعت و تقویٰ میں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں تو جنت میں دونوں کا درجہ مساوی ہو گا۔ اوراگر تقوی ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہوں گے تودرجات میں بھی ایک دوسرے پر فضیلت ہوگی ۔ایسے ہی اگر ایک انسان بنی ہاشم سے تعلق رکھتا ہو‘اور کوئی دوسرا انسان عام عرب یا عجم میں سے ہو‘ تو ان دونوں میں سے اللہ کے ہاں افضل وہ ہے جو اللہ سے زیادہ ڈرنے والا متقی ہو۔اگریہ دونوں تقوی میں برابر ہوں گے تو ان کا مقام ومرتبہ بھی برابر کاہوگا۔ان دونوں میں سے کوئی ایک اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے باپ ‘ یا بیٹے یا بیوی ‘یا بھائی ‘یا چچا کی وجہ سے فضیلت نہیں پائے گا۔

صفحہ 4 از 13