فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 13

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اصلاً کسی ایک انسان کی بھی ثناء اس کے نسب کی بنیاد پر نہیں کی۔ نہ ہی نبی کی اولاد ہونے کی بنیاد پر اور نہ ہی نبی کا باپ ہونے کی بنیاد پر۔بلکہ لوگوں کی تعریف ا ن کے اعمال اور ایمان کی بنیاد پر کی ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی صنف کا ذکر کرکے ان کی تعریف کرتے ہیں تو یہ ان کے ایمان اور عمل کی وجہ سے ہوتا ہے محض نسب کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اٹھارہ انبیاء کرام کاذکر کیاتو فرمایا:

﴿وَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَ ذُرِّیّٰتِہِمْ وَ اِخْوَانِہِمْ وَ اجْتَبَبْنٰہُمْ وَ ہَدَیْنٰہُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ

’’اور ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد وں اور ان کے بھائیوں میں سے بعض اوروں کو بھی ہم نے انھیں چنا اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔‘‘[الانعام۸۷]

یہ فضیلت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے چن لینے اور اختیار کرلینے کی وجہ سے؛ اور انہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دینے کی وجہ سے حاصل ہوئی؛ محض قرابت اور نسب کی وجہ حاصل نہیں ہوئی۔

اتنی بات ضرور ہے کہ قرابت کی وجہ سے بعض حقوق واجب ہوجاتے ہیں ؛ اور نسب بھی حقوق کو واجب کرتا ہے اور ان کے ساتھ واجب اور حرام اوراباحت کے احکام بھی معلق ہوتے ہیں ۔ لیکن ثواب اورعقاب اور وعد و وعید اعمال کی بنیاد پر ہوتے ہیں نسب کی بنیاد پر نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرَاہِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِیْنَ﴾ (آل عمران:۳۳)

’’اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و نوح اور آل ابراہیم و آل عمر ان کو سب جہانوں سے چن لیا۔‘‘

نیز ارشاد فرمایا:

﴿ اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ فَقَدْ اٰتَیْنَآ اٰلَ اِبْرٰہِیْمَ الْکِتٰبَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ اٰتَیْنٰہُمْ مُّلْکًا عَظِیْمًا﴾ (النساء ۵۴)

’’یا وہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، تو ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور ہم نے انھیں بہت بڑی سلطنت عطا فرمائی۔‘‘

یہاں پر اس پاکیزہ اور نیک نسل کی تعریف و مدح سرائی ان کے نیک اعمال اور اایمان کی بنا پر کی جارہی ہے ۔جوکوئی ان صفات سے متصف نہ ہو وہ اس مدح وتوصیف میں شامل نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوحًا وَّاِِبْرٰہِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِہِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ فَمِنْہُمْ مُہْتَدٍ وَّکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فَاسِقُوْنََ﴾ (الحدید: ۲۶)

’’ہم نے نوح و ابراہیم کو مبعوث کیا اور ان کی اولاد کو نبوت اور کتاب عطا کی ؛ پس ان میں سے ہدایت یافتہ بھی ہیں اور ان میں سے بہت سارے لوگ فاسق بھی ہیں۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿وَبَارَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰی اِِسْحَاقَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِمَا مُحْسِنٌ وَّظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ مُبِیْنٌ

’’اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر برکت نازل کی اور ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی نیکی کرنے والا ہے اور کوئی اپنے آپ پر صریح ظلم کرنے والا ہے ۔‘‘(الصافات ۱۱۳)

قرآن کریم کی کئی آیات میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرا م کے ایمان اوران کے اعمال صالحہ کی وجہ سے ان کی تعریف کی ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ﴾ ( التوبۃ ۱۰۰)

’’اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿لَا یَسْتَوِی مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُوْلٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنْ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنَی ﴾ [الحدید۱۰]

’’ تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے) برابر نہیں بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد صدقہ دیا اور جہاد کیا ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے ۔‘‘

نیز فرمان الٰہی ہے:

﴿ لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاo﴾ (الفتح:۱۸)

’’یقیناً اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوگیا، ، جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے، جو کچھ ان کے دلوں میں تھا اس نے معلوم کر لیا، ان پر اطمینان و سکون نازل کیا اور انہیں قریبی فتح سے نوازا۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْٓا اِِیْمَانًا مَّعَ اِِیْمَانِہِمْ﴾ [الفتح۴]

’’وہی ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں میں سکون اور اطمینان ڈال دیا تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ ہی ساتھ اور بھی ایمان میں بڑھ جائیں ۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿لِلْفُقَرَائِ الْمُہَاجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ ٭وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤا الدَّارَ وَالْاِِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّونَ مَنْ ہَاجَرَ اِِلَیْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ....﴾ [الحشر۸۔۹]

صفحہ 3 از 13