فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 13

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے واضح کیا کہ : اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہو۔ اگرچہ وہ کسی نبی کا بیٹا نہ بھی نہ ہی کسی نبی کا باپ ہو۔ اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام یوسف علیہ السلام کی نسبت اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ مقام و مرتبہ والے ہیں ‘ اگرچہ ان کا والد آزر ہے ؛ اور حضرت یوسف علیہ السلام کے والدمحترم اللہ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں ۔ایسے ہی حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے ہاں بنی اسرائیل سے بڑھ کرباعزت تھے۔ او راگرچہ یہ انبیاء کرام آپ کی ہی اولاد ہیں ؛ اور دوسرے لوگ بھی آپ کی اولاد ہیں جو کہ انبیاء نہیں ہیں ۔

لیکن جب لوگوں نے آپ کو یاد دلایا کہ ان مقصودصرف نسب ہے توآپ نے انہیں بتایا کہ : ’’ سب سے زیادہ باعزت نسب والے وہ لوگ ہیں جو کسی انبیاء کے نسب سے تعلق رکھتے ہوں ۔تاہم نسب کے اعتبار سے حضرت یوسف علیہ السلام بنی آدم میں عدیم النظیر تھے۔اس لیے کہ آپ خود اللہ کے نبی ‘ اللہ کے نبی بیٹے اورنبی کے پوتے ہیں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب پھر اشارہ کیا کہ ان کا مقصود ان کی اپنی ذات سے متعلق ہے تو آپ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے عرب قبائل کے بارے میں سوال کرتے ہو؟بیشک لوگ بھی ایسے کانیں ہیں جیسے سونے چاندی کی کانیں ہوتی ہیں ۔اور جو ان میں سے جاہلیت میں بہتر ہو وہ اسلام میں بھی بہتر ہوتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ دین اسلام کی سمجھ حاصل کرے۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جس زمین سے سونا نکلتا ہے وہ اس زمین سے افضل ہوتی ہے جس سے چاندی نکلتا ہے۔ پس ایسے ہی حال ان لوگوں کا حال ہے جن کے ہاں فضلاء جنم لیتے ہوں ۔ پس اس کی اولاد ان لوگوں سے افضل ہوگی جو کہ صرف ادنی [مفضول]قسم کے لوگوں کو جنم دیتے ہیں ۔لیکن یہ ایک سبب اور خیال و تصور ہے؛ کوئی لازمی بات نہیں ہے۔ ایس بھی ہو سکتا ہے کہ زمین سونا اگلنا کم کردے ‘یا بند کردے۔تو اس صورت میں وہ زمین جو چاندی دیتی ہے وہ انسان کے نزدیک اس زمین سے افضل و محبوب ہوگی جو بنجر و ویران ہوگئی ہو۔پس بہت زیادہ چاندی جو تھوڑے سے سونا کی قیمت سے زیادہ ہو وہ انسان کو زیادہ محبوب ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ اچھے نسب والوں سے خیر کی امید کی جاتی رہی ہے۔ اور اس بنا پر ان کی عزت و توقیر کی جاتی ہے۔ اوراگر کسی سے اس کے خلاف ثابت ہوجائے تو اس صورت میں حقیقت کو خیال پر مقدم رکھاجائے گا۔اور جوکچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ خالی وہم وگمان سے یا محض دلائل کی بنیاد پر ثابت نہیں ہوتا؛اس کی ثبوت ان اعمال صالحہ کی بنیاد پر ہوتا ہے جن کا اسے علم ہے۔ اس کے لیے نہ ہی کسی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ایسی جگہوں پر گمان کفایت کرسکتا ہے۔

پس اس وجہ سے[اللہ کے ہاں ] سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے بڑا متقی ہو۔اگر دو شخص تقوی میں برابر ہوں تو انہیں درجہ میں برابرکیا جائے گا۔اور اگر ان میں سے ایک کا والد یا بیٹا دوسرے کے والد یا بیٹے سے افضل ہو[تواس لحاظ سے اسے بھی مقام حاصل ہوگا]۔لیکن اگر ان میں سے کسی ایک کو کسی سبب کی بنا پر تقوی میں زیادہ نسبت حاصل ہوتووہ اپنے اس تقوی کی وجہ سے افضل ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم نے جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو راضی کیا ‘اور نیک اعمال کیے تو [انہیں یہ بلند مقام نصیب ہوا؛ جو کہ محض ]سسرالی رشتہ کی وجہ سے نہیں ملا‘ بلکہ کمال اطاعت کی وجہ سے ملا تھا۔ جیسا کہ ان میں سے کوئی ایک اگر برائی کا کام کرتی تو انہیں دوہرا عذاب معصیت کی قباحت کی وجہ سے ہوتا۔

پس صاحب شرف انسان جو اپنے آپ پر تقوی کو لازم کرلیتا ہے تو اس کا تقوی دوسروں سے زیادہ کامل ہوتا ہے۔ جیسا کہ جب بادشاہ عدل قائم کرتا ہے تو اس کا عدل و انصاف کرنے انسان کے اپنے گھر میں عدل انصاف سے بہت زیادہ بڑا اور کامل ہوتا ہے۔اور ایسے ہی جب کوئی انسان کسی خیر کے کام کا پکا ارادہ کرلیتا ہے ‘ تو وہ اس میں سے جس قدر کام کرپاتا ہے اس کے لیے کامل اجر ہوتاہے۔ جس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایاہے:

’’ بیشک مدینہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم کوئی بھی منزل طے نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی وادی پار کرتے ہو ‘مگر وہ اجر وثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہوتے ہیں ۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مدینہ میں رہ کر بھی ؟ آپ نے فرمایا: ہاں مدینہ میں رہ کر بھی ‘ اس لیے کہ انہیں عذر نے روک رکھا ہے۔‘‘[یہ حدیث حضرت انس بن مالک سے مروی ہے۔ البخاری کتاب الجہاد ‘باب من حبسہ العذر عن الغزو ۴؍۲۶۔ سنن أبي داؤد ۳؍۱۷؛ کتاب الجہاد ‘ باب في الرخصۃ في القعود من العذر۔ سنن ابن ماجۃ کتاب الجہاد ‘ باب من حبسہ العذر عن الجہاد ۲؍۹۲۳۔]

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

(( من دعا إِلی ہدًی کان لہ مِن الأجرِ مِثل أجورِ منِ اتبعہ، مِن غیرِ أن ینقص مِن أجورِہِم شیئا، ومن دعا إِلی ضلالۃ کان علیہِ مِن الوِزرِ مِثل أوزارِ منِ اتبعہ، مِن غیرِ أن ینقص مِن أوزارِہِم شیئا۔))[مسلم ۴؍۲۰۶۰؛ کتاب العلم ‘ باب من سنَّ سنۃ حسنۃ أو سئیۃ۔ وسنن أبي داؤد۴؍۲۸۱؛ کتاب السنۃ ‘ باب لزوم السنۃ۔]

’’جو کوئی انسان ہدایت کی طرف بلاتا ہے تو اس کے لیے اس کے تمام ماننے والوں کے اجر کے برابر اجر ہوتا ہے اور ان میں سے کسی کے اجر میں کچھ کمی نہیں کی جاتی۔ او رجو کوئی گمراہی کی طرف بلاتا ہے ‘ اس اتنا ہی بوجھ ہوتا جتنا اس کے تمام ماننے والوں کا بوجھ ہوتا ہے ۔ ان کے بوجھ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی ۔‘‘

یہ بات کئی دوسرے مقامات پر تفصیل کے ساتھ بیان ہوچکی ہے۔

صفحہ 2 از 13