فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 12 از 13

جس کا یہ گمان ہو کہ ان بارہ سے مراد وہ بارہ امام ہیں جن کی امامت کا اعتقاد رافضی رکھتے ہیں تو وہ انتہائی جہالت کا شکار ہے۔اس لیے کہ ان بارہ میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں گزرا جسے قوت و شوکت حاصل ہو سوائے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے۔(یعنی صرف آپ ہی حکمران بنے اور آپ کے ہاں لشکرو سطوت اور بیعت حاصل تھی ) ۔ مگر اس کے باوجود آپ اپنے عہد خلافت میں کفار کے ساتھ کوئی جنگ نہ لڑ سکے۔ نہ ہی کوئی شہر فتح کیانہ ہی کسی کافر کو قتل کیا۔بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے میں مشغول ہوگئے۔یہاں تک کہ مشرق میں کفار اور بلاد شام میں مشرکین اور اہل کتاب ان کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بعض اسلامی شہروں پر بھی قبضہ کرلیا۔ اوربعض کفارکو خیر سگالی کے پیغام بھیجے جانے لگے تاکہ وہ مسلمانوں پر حملہ نہ کریں ۔ اس میں اسلام کی کونسی عزت ہے؟کہ ان کا دشمن انہیں للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ اوربعض علاقے بھی اس نے قبضہ کرلیے۔

جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ باقی تمام ائمہ میں سے کسی ایک کو بھی قوت و سطوت حاصل نہ تھی خصوصا امام منتظر کو۔بلکہ جو لوگ اس کی امامت کا اعتقاد رکھتے ہیں ان کے نزدیک یہ انتہائی خوفزدہ اور عاجز امام ہیاور ساڑھے چارس وسال سے بھاگ کر کہیں چھپ گیا ہے۔یہ امام نہ ہی کسی کو کوئی ہدایت کی بات بتا سکا۔ اور نہ ہی امر بالمعروف کرسکا اور نہ ہی نہی عن المنکر۔ نہ ہی کسی مظلوم کی مدد کی اور نہ ہی کسی ایک مسئلہ میں کوئی فتوی دیا۔ نہ ہی کسی جھگڑے میں کوئی فیصلہ کیا۔ نہ ہی اس کے وجود کا کوئی اتہ پتہ ہے۔ اگر اس امام کو موجود ما ن بھی لیا جائے تو اس سے کونسا فائدہ حاصل ہوا؟ چہ جائے کہ اس کی وجہ سے اسلام کوغلبہ نصیب ہو۔

نبی کریم بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردی ہے کہ:اسلام غالب رہے گا۔اوریہ امت صراط مستقیم پر رہے گی یہاں تک کہ بارہ خلفا جانشین ہوجائیں ۔اگر ان سے وہ بارہ مراد ہیں جن کا آخری امام منتظر ہے اور ان کے نزدیک وہ ابھی تک موجود ہے۔یہاں تک کہ اس کا ظہور ہوگا۔اسلام بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں غالب اور عزیز تھا۔اور مشرق و مغرب سے کفار کا خروج ہوا اور انہوں نے جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کیا اس کی تفصیل کے بیان کا یہ موقع نہیں اور اسلام آج تک غالب اور عزیز ہے۔ یہ تو اس حدیث کی دلالت کے خلاف ہے۔

مزید برآں امامیہ کے ہاں اسلام وہی ہے جس پر وہ لوگ قائم ہیں ۔ جب کہ یہ فرقہ پوری امت اسلامیہ کے تمام فرقوں سے زیادہ ذلیل اور راندہ درگاہ رہا ہے۔اہل اھوا میں سے کوئی بھی فرقہ روافض سے بڑھ کر ذلیل نہیں ہے ۔ اور نہ ہی کوئی ان سے زیادہ اپنی بات کو چھپانے والا اور بات بات میں تقیہ کرکے دھوکہ دینے والا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق-حدیث میں واردبارہ امام-شیعہ کے بارہ امام ہیں ۔جب کہ یہ لوگ انتہائی درجہ کی ذلالت ورسوائی کا شکار ہیں ۔ تو پھر ان کے اس گمان کے مطابق اسلام کو ان بارہ ائمہ کی وجہ سے کونسی عزت اور غلبہ نصیب ہوا۔ بہت سارے یہودی جب اسلام کا اظہار کرتے ہیں تووہ شیعہ بن جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ تورات میں بارہ ائمہ کا ذکر ہے۔ تو یہ نئے اسلام کا اظہار کرنے والے یہ گمان کرتے ہیں کہ یہی شیعہ کے بارہ امام وہ ائمہ ہیں جن کی بشارت تورات میں دی گئی ہے۔ جب کہ معاملہ ایسے نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد قریش کے وہ بارہ امام ہیں جنہیں امت کی عام ولایت نصیب ہوئی۔اوران کے زمانے میں اسلام غالب اور مستحکم تھا۔یہ بات بہت مشہور و معروف ہے۔

ابن ہبیرہ نے اس حدیث میں تاویل کی ہے کہ اس سے مراد بارہ ارکان مملکت ہیں مثلا وزیرقاضی اور اس طرح کے دوسرے لوگ۔ حالانکہ اس کی کوئی اہمیت یا ضرورت نہیں ۔ حدیث اپنے ظاہر پر ہے۔اس میں تکلف کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔بعض دوسرے لوگوں جیسے ابو الفرج ابن جوزی وغیرہ نے بھی اس کی بہت ضعیف تاویل کی ہے۔ اوربعض نے کہہ دیا ہے کہ ہم اس کا معنی سمجھنے سے قاصر ہیں جیسا کہ قاضی ابوبکر ابن العربی۔جب کہ مروان اور ابن زبیر میں سے کسی ایک کو بھی ولایت عامہ حاصل نہ تھی۔بلکہ ان کا زمانہ فتنہ کا زمانہ تھا۔اس دور میں نہ ہی اسلام کو کوئی غلبہ حاصل ہوا اور نہ ہی دشمنان سے جہاد کیا گیا جس کو حدیث شامل ہو۔یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو بھی اسی باب سے قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ :آپ کی خلافت نص اور اجماع سے ثابت نہیں ہوتی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور بعض دوسرے ائمہ کرام نے ان لوگوں پر رد کیا ہے۔ان ائمہ کا کہنا ہے : جو کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ شمار نہ کرے وہ گھر کے گدھے سے بھی بدتر ہے۔انہوں نے خلافت علی رضی اللہ عنہ کے اثبات پرحضرت سفینہ رضی اللہ عنہ والی روایت سے استدلال کیا ہے جس میں ہے بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ تکون خِلافۃ النبوۃِ ثلاثِین سنۃ ثم تکون ملکاً۔‘‘[سبق تخریجہ]

’’خلافت نبوت تیس سال تک ہوگی۔ پھر اس کے بعدبادشاہی ہوگی۔‘‘

فرمایا: کسی نے راوی سے کہا:بنو امیہ کہتے ہیں :حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہ تھے۔ تو آپ نے فرمایا: بنوزرقاء (نیلی آنکھوں والے کی اولاد)نے جھوٹ بولا۔ اس موضوع پرتفصیلی کلام دوسرے مقامات پر گزر چکاہے۔یہاں پر مقصود یہ ہے کہ جس حدیث میں بارہ خلفاء کا ذکر ہے خواہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان میں داخل مانا جائے یا نہ مانا جائے اس سے مراد قریش کے وہ خلفاء ہیں جو کہ گزر چکے ہیں ۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ میں دوسرے تمام لوگوں سے بڑھ کر خلافت کے حق دار تھے۔ اس میں کسی ایک عالم کو بھی کوئی ادنی شک بھی نہیں ہے۔

[ سیرت عثمان رضی اللہ عنہ کا پلڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سیرت سے مقابلۃ بھاری ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عمرمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیس سال زیادہ بڑے تھے۔ اس بات پر صحابہ کا اجماع قائم ہو چکا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔ ان دلائل سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی افضلیت واضح ہو تی ہے]۔

صفحہ 12 از 13