فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ جامع فضائل ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 10 از 13

واضح رہے کہ میں اس کی اجازت نہیں دیتا،میں اس کی اجازت نہیں دیتا،میں اس کی اجازت نہیں دیتا، [آپ نے تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے]۔ البتہ علی رضی اللہ عنہ اگر میری بیٹی کو طلاق دے دیں تو ان کی بیٹی کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں ۔ فاطمہ! میرا جگر پارہ ہے جو اس کو شک میں ڈالتا ہے، وہ مجھے شک میں مبتلا کرتا ہے اور جو چیز اس کو ایذا دیتی ہے وہ مجھے ایذا دیتی ہے۔ پھر آپ نے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا جو بنی عبد شمس کے قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔آپ نے فرمایا: اس (آپ کے داماد ابوالعاص) نے جب بات کی تو سچ بولا اور جب وعدہ کیا تو اسے پورا کیا۔‘‘

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ سسرالی و دامادی کے تعلق کا بھی یہی حال تھا۔ آپ ہمیشہ قابل تعریف ہی رہے۔ آپ سے کوئی ایسی حرکت نہیں ہوئی جوکہ قابل سرزنش ہو۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اگر ہمارے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو ہم اس کی شادی بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہی کردیتے ۔‘‘

یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دامادی تعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس تعلق سے زیادہ کامل تھا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ آ پ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں ۔ اور آپ کے بعد بھی کچھ عرصہ حیات رہیں آپ کی جدائی کا صدمہ اٹھایا۔تو آپ کو وہ فضائل حاصل ہوئے جو دوسری بیٹیوں کو حاصل نہ ہوسکے۔ اور یہ بات عام عادت کے مطابق معلوم ہے کہ چھوٹی سے پہلے بڑی بیٹی کی شادی کی جاتی ہے۔ تو ابو العاص نے پہلے زینب سے مکہ میں شادی کی۔ پھر اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما سے یکے بعد دیگر شادی کی۔

کہتے ہیں : شیعان عثمان رضی اللہ عنہ جو کہ آپ کے ساتھ خاص ہیں ۔ وہ خواص شیعان علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ افضل اور زیادہ بہتر ہیں ۔ ان کا شر بہت کم ہے۔ اس لیے کہ شیعان عثمان رضی اللہ عنہ پر جو سب سے بڑی تہمت ہے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے انحراف اور برسر منبر آپ پر سب و شتم کرناہے۔اس کی وجہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے مابین پیش آنے والے قتال اورجنگ وجدل کے واقعات ہیں ۔ مگر اس کے باوجود وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یا آپ کے محبین میں سے کسی ایک کو کافر نہیں کہتے تھے۔ جب کہ شیعان علی میں ایسے لوگ تھے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورامت کو کافر کہتے اکابر صحابہ پر لعنت کرتے تھے۔یہ جرم شیعان عثمان رضی اللہ عنہ کے جرم سے ہزار گنا بڑھ کر ہے۔

شیعان عثمان رضی اللہ عنہ کافروں سے جنگیں لڑا کرتے تھے۔ جب کہ رافضی کفار سے جنگ نہیں لڑتے۔شیعان عثمان میں کوئی ایک بھی زندیق اور مرتد نہیں تھا۔مگر شیعان علی رضی اللہ عنہ میں اتنے زیادہ زندیق اور مرتد داخل ہوگئے کہ ان کی صحیح تعداد کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ شیعان عثمان رضی اللہ عنہ نے کبھی کفار سے موالات نہیں کی۔جب کہ رافضی یہود و نصاری اور مشرکین سے دوستی کرکے مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں ۔ اس طرح کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں ۔

شیعان عثمان رضی اللہ عنہ میں سے کسی ایک نے بھی نبوت یا الوہیت کا دعوی نہیں کیا۔ جب کہ شیعان علی رضی اللہ عنہ میں داخل ہونے والے بہت سارے لوگوں نے آپ کے معبود برحق اور نبی ہونے کا دعوی کیا ہے۔

شیعان عثمان رضی اللہ عنہ میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے آپ کے امام معصوم یا منصوص ہونے کا دعوی کیا ہو۔ جب کہ رافضہ کا یہ ایمان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام منصوص اورمعصوم ہیں ۔شیعان عثمان رضی اللہ عنہ کا حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر تقدیم پر اتفاق ہے۔ جب کہ متأخرین شیعان علی رضی اللہ عنہ میں سے اکثر ان حضرات کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں گالیاں دیتے ہیں ۔دوسری طرف روافض کا ان دونوں حضرات سے بغض رکھنے اور مذمت کرنے پر اتفاق ہے۔ جب کہ ان میں سے بہت سارے انہیں کافر بھی کہتے ہیں ۔

جب کہ زیدیہ میں سے بہت سارے لوگ ان دونوں حضرات کی مذمت کرتے ہیں اوران پر سب و شتم اور لعن وطعن کرتے ہیں ۔ جبکہ زیدیہ میں سے جو اچھے لوگ ہیں وہ آپ کو حضرات شیخین رضی اللہ عنہما پر فضیلت و ترجیح دیتے ہیں ۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مذمت اور آپ پر دشنام طرازی کرتے ہیں ۔

ایسے ہی شیعان عثمان میں ایسے لوگ بھی تھے جو نماز کو دیر سے پڑھتے؛ ظہر اور عصر میں تأخیر کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بنو عباس کی حکومت قائم ہوگئی تو وہ بنو امیہ کی نسبت نماز کے وقت کا بہت اچھا خیال کرنے لگے۔ مگر خواص شیعان علی رضی اللہ عنہ ائمہ ثلاثہ یا دیگر میں سے کسی ایک کی بھی امامت کا اقرار نہیں کرتے۔اسی لیے وہ نماز ترک کرنے کے معاملہ میں سب فرقوں سے آگے ہیں ۔یہی نہیں بلکہ باقی شرائع کو بھی ترک کرتے ہیں ۔ اور یہ کہ یہ لوگ نہ ہی جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں اور نہ ہی باجماعت نماز۔ ان کی مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں ۔ یہ لوگ عصر اور عشاء کی نماز میں اتنی تقدیم اور مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر کرتے ہیں کہ شیعان عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت یہ لوگ دین سے بہت زیادہ منحرف ہیں ۔ اس پر مصیبت یہ ہے کہ ان کی مساجد تو ویران ہیں مگر درگاہیں آباد ہیں ۔ مشرکین اور اہل کتاب کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ان میں اگر کوئی نیک انسان مرجاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے۔ پس یہ سبھی ایک ہی کچھ ہیں ۔ 

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شیعان میں جو شر و فساد پایاجاتا ہے وہ اس شر و فساد سے کئی گنا بڑھ کر ہے جو شیعان عثمان میں پایا جاتا ہے۔ اور جو خیر و صلاح شیعان عثمان رضی اللہ عنہ میں پائی جاتی ہے وہ شیعان علی میں پائی جانے والی خیر و صلاح سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔ بنو امیہ سبھی شیعان عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔بعد والوں کی نسبت ان کے زمانے میں شرائع اسلام غالب اور ظاہر تھیں ۔ صحیحین میں حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((لا یزال ہذا الأمر عزِیزاً ِإلی اثنی عشر خلِیفۃ کلہم مِن قریش )) [سبق تخریجہ]

’’لوگوں کا معاملہ یعنی خلافت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک ان میں بارہ خلفا ان کے حاکم رہیں گے۔‘‘

یعنی دین اس وقت تک غالب رہیگا جب تک ان میں بارہ امام ہو گزریں ۔

صفحہ 10 از 13