فصل:....[سانپ کا واقعہ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ ] - ردِ…

فصل:....[سانپ کا واقعہ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

اسی لیے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ علم سے صحیح معنوں میں نفع حاصل کرنے والے اپنے نفس کا تزکیہ سب سے پہلے کرتے ہیں ۔اور ان کا مقصد اتباع حق ہوتا ہے نہ کہ اتباع ہویٰ۔اوروہ اس میں عدل و انصاف کی راہ پر گامزن رہتے ہیں ۔وہ علم سے محبت کرتے اوراس سے لذت حاصل کرتے ہیں ۔ اوروہ علم اور اہل علم کی کثرت سے محبت کرتے ہیں ۔اور ان کی ہمتیں انہیں اس علم کے موجب و مقتضی کے مطابق عمل کرنے کے لیے آمادہ کرتی ہیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ علم کی حلاوت کا ذوق ہی نہیں پاتے اوران کا مقصود صرف کرسی اور مال ہوتا ہے ان لوگوں کو اگر اپنا مقصد کسی دوسرے ذریعہ سے مل جائے تووہ اسی پر اکتفا کرلیتے ہیں ۔بلکہ بسا اوقات اگر کوئی دوسرا راستہ علم کے راستہ سے آسان ہوتو اسے ہی ترجیح دیتے ہیں ۔

جس انسان کو یہ معرفت حاصل ہوجائے اس پر یہ وواضح ہوجاتا ہے کہ وہ مقاصد جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور ان پر راضی ہوتا ہے وہ حضرت ابوبکر کو حضرت عمرکی نسبت زیادہ کامل انداز میں حاصل تھے۔ اور حضرت عمر کو حضرت عثمان کی نسبت ان میں زیادہ کمال حاصل تھا۔ اور حضرت عثمان کو حضرت علی کی نسبت زیادہ کمال حاصل تھا۔ اور یہ کہ صحابہ تمام مخلوق سے زیادہ حق کا علم رکھتے تھے۔سب سے بڑے اللہ کے تابعدار تھے اور عدل کے سب سے زیادہ حق دار۔ہر اہل حق کو اس کا حق دینے والے تھے۔ ان پر تنقید صرف وہی انسان کرسکتا ہے جو ان حقائق سے انتہائی بڑا جاہل ہو جن کی بنا پر یہ لوگ مدح اورتفضیل کے مستحق ہیں اور جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو راہ حق کی طرف ہدایت دی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو انسان عبادت کرنے میں اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے شرعی طریقہ کار پر نہیں چلتا اوروہ خوارق عادات کی تلاش میں رہتا ہے تو ایسے انسان کو جنات اور شیاطین اپنا شکار کرلیتے ہیں اوراسے کائنات میں ہونے والے چند امور کی خبریں دیتے ہیں یا پھر اسے ہوا میں اڑاتے ہیں یا پھر وہ پانی پر چلتا ہے۔تو وہ اسے کرامات اولیا میں سے شمار کرتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ وہ اللہ کا بہت بڑا ولی ہے۔ یہ بات اس کے مشرک بننے یا کفر کرنے یا فسق و بدعت میں مبتلا ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔

اس طرح کے واقعات تو بعض کفار اہل کتاب اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی پیش آجاتے ہیں اور بعض اسلام کی طرف نسبت رکھنے والے ایسے ملحدین کے ساتھ بھی پیش آتے ہیں جو نماز کو فرض نہیں سمجھتے۔بلکہ ان میں بعض ایسے بھی ہیں جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا نبی اوررسول نہیں مانتے بلکہ آپ سے بغض رکھتے ہیں اور بعض قرآن سے بغض رکھتے ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی اس طرح کے دیگر امور ان لوگوں میں پائے جاتے ہیں جن سے کفر واجب ہوجاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود شیاطین بعض خوارق عادات دیکھا کر اسے گمراہ کرلیتے ہیں ۔جیسا کہ وہ مشرکین کو گمراہ کرتے ہیں ۔جیساکہ یہ شیاطین کاہنوں اور بتوں میں داخل ہوجاتے ہیں ۔اور آج بھی اہل ہند ترک اورحبشہ کے بعض مشرکین کے ساتھ اور بعض بلاد اسلامیہ میں موجود مشہور کفاروفساق اور جہلا و مبتدعین کے ساتھ بعض ایسے واقعات پیش آتے ہیں ۔


صفحہ 4 از 4