فصل:....[سانپ کا واقعہ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ ] - ردِ…

فصل:....[سانپ کا واقعہ او رحضرت علی رضی اللہ عنہ ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

یہ جاننا ضروری ہے کہ اولیا اللہ کے لیے خوارق عادات ان کی ضرورت کے مطابق پیش آتی ہیں ۔پس ان میں سے جو کوئی کفار و منافقین یا فاسقین کے درمیان مقیم ہو ا ور اسے یقین زیادہ کرنے کی ضرورت ہو تو اس کے لیے اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں ۔ جیسا کہ اندھیرے میں روشنی کا ظاہر ہونا وغیرہ۔یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات مفضول کی اتنی کرامات ہوتی ہیں جتنی فاضل کی نہیں ہوتیں لیکن مفضول کی ضرورت اتنی زیادہ ہوتی ہے۔

یہ خوارق بذات خود مقصود و مطلوب نہیں ہوتیں بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا ایک وسیلہ ہوتی ہیں ۔جو کوئی انہیں ہی غایت سمجھ اور اس وجہ سے عبادت کرنے لگے تو پھر شیطان اس سے کھلواڑ کرنے لگتا ہے۔اور اس کے لیے ایسی ہی خوارق کو ظاہر کرتا ہے جو کہ کاہنوں اور جادوگروں کے کرتوتوں کی جنس سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اور جو کوئی کرامت یا خارق عادت تک رسائی صرف اس ذریعہ سے چاہتا ہے اور اسے اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے ت واس کے حق میں کرامات ان لوگوں کی نسبت زیادہ کثرت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں جتنی ان سے بے نیاز لوگوں کے حق میں ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تابعین میں کرامات کے واقعات صحابہ کرام کی نسبت زیادہ کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں ۔

علم میں اس کی مثال: اسماء اور لغات کا علم ہے۔اس لیے کہ نحو اور لغت کی معرفت سے مقصود کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا فہم حاصل کرنا ہے۔ اوریہ کہ انسان بول چال میں اہل عرب کے کلام کے مطابق چل سکے۔صحابہ کرام علم نحوسے مستغنی تھے۔ ان کے بعد آنے والے لوگوں کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی ۔چانچہ عربی زبان کے قوانین میں ان کے کلام کو حجت مل گئی ۔ ایسی کوئی چیز عصر صحابہ میں نہیں پائی جاتی تھی۔اس لیے کہ اس وقت زبان دانی میں کمی بہت کم تھی اور صحابہ کرام علم کی کمال پر فائز تھے۔ایسے ہی بعد میں آنے والوں کا کلام اسما الرجال اور ان کے واقعات میں حجت سمجھا جانے لگاایسی کوئی چیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں نہیں تھی۔ اس لیے کہ یہ وسائل ایک دوسرے مقصد کے لیے طلب کیے جاتے ہیں ۔ایسے ہی مناظرہ و بحت کی ضرورت متأخرین میں بہت زیادہ پیش آئی جب کہ صحابہ کرام اس سے مستغنی تھے۔

ایسے ان لوگوں کے لیے قرآن مجید کا ترجمہ کرنا جو عربی میں قرآن نہ سمجھتے ہوں ۔ضرورت تھی کہ فارسی ترکی اور رومی زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کیا جائے ۔جب کہ صحابہ کرام اس سے مستغنی تھے۔ایسے ہی بہت سارے لوگوں کے لیے تفسیر و معانی کے بیان کی ضرورت پیش آئی جب کہ صحابہ کرام اس سے بے نیازتھے۔

پس جو کوئی علم نحو؛معرفۃ الرجال اورنظری و جدلی اصطلاحات جوکہ نظروہ مناظرہ پر متعین ہوتی ہیں انہیں بذات خودمقصودبناتا ہے تووہ خیال کرتا ہے کہ ان علوم پر عبور رکھنے والے صحابہ کرام سے بڑے عالم ہیں ۔جس طرح کہ دوسرے بھی بہت سارے لوگ جن کی بصیرت کو اللہ تعالیٰ نے اندھا کردیاہے وہ بھی یہی خیال کرتے ہیں ۔اور جس کو یہ علم حاصل ہوجائے کہ یہ علوم بذات خود مقصود نہیں (بلکہ دوسرے علوم کو سمجھنے کے لیے بطور وسیلہ کے مقصود ہیں )تووہ جان لیتا ہے لیتا ہے کہ وہ صحابہ کرام جو اصل علوم مقصودہ پر دسترس رکھتے تھے وہ ان لوگوں سے بہت زیادہ افضل ہیں جنہیں ان علوم کی معرفت حاصل ہوخواہ وہ اپنے فن میں کتنا ماہر ہی کیوں نہ ہو۔ یہی حال خوارق کا بھی ہے۔ 

بہت سارے متاخرین کے ہاں خوارق ہی بذات خود مقصود ومطلوب ہوتی ہیں اور وہ اس غرض کے لیے بہت زیادہ عبادت کرتا ہے بھوک برداشت کرتا ہیرات جگے کرتا اور خلوت میں رہتا ہے تاکہ اسے بھی مکاشفات تثیرات وغیرہ حاصل ہوجائیں ۔جیسا کہ کوئی انسان کوشش کرکے بادشاہ تک پہنچتا ہے تاکہ وہاں سے کچھ مال وغیرہ حاصل کرسکے۔بہت سارے لوگ اپنے مشائخ کی تعظیم صرف اسی وجہ سے کرتے ہیں ۔جیسا کہ بادشاہوں اور امیر طبقہ کی تعظیم ان کی شاہی اور مال کی وجہ سے کی جاتی ہے۔اس قسم کے لوگوں کے بارے میں بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی افضل ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے لوگ اکثر طورپر پیغام رسالت اور اللہ اس کے رسول کے احکام سے خارج ہوجاتے ہیں اور اپنے ذوق و ارادہ کے مطابق کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ سلب احوال کے بعد سلب اعمال اور ادائے فرائض اور پھر ایمان سے محروم ہوجاتے ہیں ۔جیساکہ اگر کسی انسان کو حکومت اور مال مل جائے پس وہ اس مال و ملک کی وجہ سے شریعت اور اللہ اوراس کے رسول کی اطاعت سے خارج ہوجائے اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگ جائے اورلوگوں پر ظلم کرنے لگ جائے تو اس کی سزا اسے یہ ملے گی کہ:یاتو اسے اس کے منصب سے معزول کردیا جائے گا۔ یا پھر اس پر دشمن کا خوف مسلط کردیا جائے گا۔ یا پھر اسے فقیر و تنگدست کردیا جائے گا یا ان کے علاوہ کوئی اور سزا بھی مل سکتی ہے۔دنیا میں نفس کے لیے ظاہری و باطنی طور پر اللہ تعالیٰ کی محبت و رضامندی پر استقامت مقصود ہوتی ہے۔ پس جب بھی انسان اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے زیادہ تابع ہوگااللہ اور اس کے رسول کا زیادہ اطاعت گزار ہوگا۔ وہ اتنا ہی افضل ہوگا۔ پس جس انسان کو ایمان و یقین اور اطاعت کا مقصود بغیر کسی خارق یا کرامت کے حاصل ہوجائے تو اسے کسی خارق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیساکہ صدیق امت حضرت ابوبکر عمرو عثمان وعلی و طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہم اور ان کے امثال سابقین اولین کے لیے جب واضح ہوگیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو یہ لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔انہیں کسی خارق(معجزہ یا کرامت)کی ضرورت نہ رہی۔جیسے کہ ان لوگوں کو ایسی چیزوں کی ضرورت تھی جنہیں ان حضرات جیسی معرفت حاصل نہ ہوسکی تھی۔

صفحہ 2 از 4