دشمن کو بھاگنے کا موقع فراہم کرنا اور رومی پیادہ فوج کا…

دشمن کو بھاگنے کا موقع فراہم کرنا اور رومی پیادہ فوج کا صفایا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

خلیفہ رسول کی وفات پر مسلمانوں سے تعزیت کرتے ہوئے فرمایا: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وفات دی۔ وہ میرے نزدیک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبوب تھے اور تمام تعریف و شکر اللہ کے لیے ہے جس نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا حالانکہ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں مجھے ناپسند تھے اور اس نے ان کی محبت مجھ پر لازم کر دی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 14)

سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے فوج کی قیادت سنبھالی۔ معرکہ یرموک سے متعلق جو اشعار کہے گئے، ان میں سے قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کا یہ شعر ہے:

ألم تَرنا علی الیرموک فُزْنا

کما فُزْنا بأیَّام العِرَاق

’’کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم نے یرموک پر ایسے ہی فتح پائی ہے جیسے عراقی جنگوں میں پائی ہے۔‘‘

وعذرائَ المَدائنِ قد فَتَحْنَا

ومرج الصفر بالجراد العِتَاق

’’اور اصیل گھوڑوں پر سوار ہو کر مدائن اور مرج الصفر کے آزاد علاقوں کو فتح کیا ہے۔‘‘

فَتَحْنَا قَبْلَہَا بُصْریٰ وَکانَتْ

محرَّمَۃَ الجنَاب لدی النُّعَاق

’’اور اس سے قبل ہم نے بصریٰ کو فتح کیا جو کائیں کائیں کرنے والوں کے نزدیک ایسا شہر تھا جس کے صحن میں قدم رکھنا ممنوع تھا۔‘‘

قَتَلْنَا من أَقَامَ لَنَا وَفِیْنَا

نہابُہُم بأسیافٍ رِقاقِ

’’اور جس نے ہمارا مقابلہ کیا، ہم نے اسے قتل کر دیا، اور ہم نے باریک دھار والی تلواروں کے ساتھ ان سے غنیمت حاصل کی۔‘‘

قَتَلْنَا الروم حَتّٰی مَا تَسَاوٰی

عَلَی الیَرْمُوْکِ مَعْرُوق الوِرَاقِ

’’اور ہم نے رومیوں کو قتل کیا حتیٰ کہ وہ یرموک میں دبلے اور لاغر شخص کی برابری بھی نہ کر سکے۔‘‘

فَضَضْنَا جَمْعَہُمْ لما اسْتَجَالُوْا

علی الواقوص بالَبْتِر الرِّقاق

’’اور ہم نے شمشیر ہائے بُرّاں سے واقوصہ میں ان کی فوج کو پراگندہ کر دیا۔‘‘

غَـدَاۃَ تَہَافتُوا فیہا فَصَاروا

إلی أمرٍ یُعَضِّل بالذَّواق

(البدایۃ والنہایۃ:جلد 7 صفحہ 15)

’’اس صبح کو جب کہ انہوں نے وہاں بھیڑ کر دی اور وہ ایسی چیز کی طرف چلے گئے جس کا چکھنا مشکل ہوتا ہے (یعنی موت)۔‘‘

اس شکست سے ہرقل بہت افسردہ ہوا اور جب بچی کھچی اس کی فوج انطاکیہ پہنچی تو اس نے کہا:

’’تم برباد ہو، مجھے بتاؤ تم سے جو قتال کر رہے تھے کیا وہ تمہاری طرح انسان نہ تھے؟‘‘

انہوں نے جواب دیا: ضرور، کیوں نہیں۔

ہرقل نے کہا: تم زیادہ تھے یا وہ؟

انہوں نے کہا: ہر مقام پر ہم ان سے کئی گنا زیادہ تھے۔

ہرقل نے کہا: پھر تم کیوں شکست کھاتے رہے؟

رومیوں کے عظیم لوگوں میں سے ایک بوڑھے نے کہا: اس وجہ سے کہ وہ رات کو قیام کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں اور عہد کو پورا کرتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، آپس میں انصاف کرتے ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ ہم شراب پیتے ہیں، زنا کرتے ہیں، حرام کا ارتکاب کرتے ہیں، عہد شکنی کرتے ہیں، ظلم کرتے ہیں، ناپسندیدہ امور کا حکم دیتے ہیں اور جن باتوں سے اللہ راضی ہوتا ہے اس سے روکتے ہیں، زمین میں فساد کرتے ہیں۔

ہرقل بولا: تو نے مجھ سے سچ بات کہی۔

( البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 15، 16 )



صفحہ 2 از 2