شیعہ مناظرکی عجیب منطق :موضوع دو ہیں ، دعوی تبدیل کرنے کا…

شیعہ مناظرکی عجیب منطق :موضوع دو ہیں ، دعوی تبدیل کرنے کا مطالبہ!

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 5

آپ کے یہ مطالبے دراصل میری سچائی کا ثبوت ہیں کہ اہل تشیع کے ہاں اصول حدیث اور اقوال جید علماء کی کتنی وقعت  ہے۔ بہتر ہے کہ آپ کھل کر کہہ دیں کہ چاہے کتنی ہی صحیح روایات اور متقدمین کے اعترافات ہوں۔۔۔ آپ کسی کو بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ اس سے زیادہ مہذب الفاظ میرے پاس نہیں ہیں۔

    ممبرز توجہ فرمائیں!میری شرائط اور میرا چیلنج بمعہ میرا دعوی ٰ ایک  سال سے شیعہ حضرات کے سامنے پڑا ہے۔  شرائط بالکل مناسب اور حق تک پہنچنے کی غرض سے لکھی گئی ہیں۔ اس کے باوجود اگر مناسب اشکال پیش کیا گیا تو ترمیم کی گنجائش بھی ہے۔مدعی کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس طرح بھی چاہے اپنا دعویٰ پیش کر سکتا ہے۔ فریق مخالف جواب دعویٰ لکھ کر اسی دعویٰ کے مطابق دلیل کا مطالبہ کرتا ہے۔

ایسا کبھی کسی مناظرے یا مکالمے میں نہیں ہوا کہ مدعا علیہ کی فرمائش کے مطابق مدعی اپنے دعویٰ اور دلائل کو بدل دے۔۔ خاص طور پر ایسے موضوع پر جو بذات خود کئی پردوں میں چھپا ہوا ہو اور بظاہر اس کے خلاف دلائل کا ہونا ناممکنات میں سے ہو کیونکہ کوئی شیعہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ جس دین پر ہے اس کے تانے بانے کسی یہودی سے جاکر ملتے ہیں۔

رانا محمد سعید شیعہ : اللہ کی پناہ ۔ لفظی ہیرا پھیری میں آپ جتنا مرضی گھماؤ پھیراؤ سے کام لے لیں۔  ککھ فائدہ نہیں محترم ۔ ایک طرف آپ کا دعویٰ اور ایک طرف گفتگو کا عنوان ، دونوں میں لفظ افسانہ کی شمولیت اور عدم شمولیت واضح ہے پھر بھی آپ یہ باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ دونوں میں کچھ فرق ہے ہی نہیں۔  سبحان اللہ سبحان اللہ ، داد دینی پڑے آپ کے حسنِ کمال کو ۔

اس لاحاصل بحث سے میں یہیں ختم کرتا  ہوں  ۔ ممبرز بھی لاحاصل بحث سے تنگ آ گئے ہوں گے  کہ دعویٰ،  موضوع ، شرائط بس یہی گھوم رہے ہیں ۔ آگے چلتے ہیں ۔

    سبحان اللہ حضور سبحان اللہ ، آپ کی شرائط شرائط ہیں اور میری شرائط مطالبہ ۔ واہ حضور واہ ۔ کس دنیا میں رہتے ہیں آپ ، لفظی بیان بازی سے لوگوں کو بیوقوف بنا لیں گے ؟؟؟

آپکا دعویٰ ہے کہ شیعہ کے عقائد کا بانی ابن سباء ہے ۔ جس پر میں نے شرط واضح کی کہ جتنے عقائد کو آپ ابن سباء کی طرف منسوب کریں گے انہیں آپ ابن سباء سے صحیح روایت سے ثابت بھی کریں گے ۔اس میں اصول سے ہٹ کر کون سی چیز ہے ؟؟؟؟؟؟

دوسری شرط یہ کہ عالم کا فقط کسی کتاب میں کسی قول کو نقل کر دینا اسکا عقیدہ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ بالجزم اس قول کو اس عالم کا عقیدہ ثابت کرنا ہوگا ۔

اس میں اصول سے ہٹ کر کونسی چیز ہے محترم ، وہ واضح کریں ۔

  سبحان اللہ یقین کیجئے آپ کے ان دعوؤں کی وجہ سے آپکے ہاتھ چومنے کو دل کرتا ہے ۔ ایسے نفیس دعوے اور ایسی نفیس شرائط کیسے لکھ لیتے ہیں ۔ ماشاءاللہ

مطلب میدان بھی آپکا ، گھوڑا بھی آپ کا اور اصول بھی آپ کے لیکن فریق مخالف آپ کے ساتھ مقابلہ کرے ۔ سبحان اللہ

محترم مدعی کی اپنی مرضی کا دعویٰ نہیں ہوتا بلکہ دعویٰ حقائق کی روشنی میں ہوتا ہے ، اصول بھی حقائق کی روشنی میں ہوتے ہیں ۔ یہ نہیں ہوتا کہ آپ من مرضی کا دعویٰ کر کے اس پر من مرضی کی دلیل لے آئیں ۔ دعوے کی ایک بنیاد ہوتی ہے ، اس بنیاد کو ثابت کرنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔ یہ نہیں ہوتا کہ دعویٰ آپ اپنی مرضی کا مخالف کے عقائد پر کر دیں اور دلیل کیلئے بھی اپنے ہی وضع شدہ اصول کو معیار بنا لیں ۔ یہ تو سیدھا سیدھا میدان سے فرار ہونے کا ایک عندیہ ہے ۔

  مجھے پہلے سے ہی علم ہے کہ آپ خود کے اصولوں اور خود کی شرائط پر مناظرہ کے خواہاں ہیں ۔ اسی لئے تو میں نے  پہلے ہی عرض کر دیا تھا کہ شرائط میں ترمیم ممکن بھی ہے کیا ؟

آکے دلائل بہت پختہ ہیں ، ہر چیز ثابت شدہ ہے تو کم از کم اصولی معیار تو مقرر کرنے دیں نا ۔ کسی کی طرف کسی عقیدے کی بنیاد کی نسبت دے دینا کافی ہے کیا ؟؟؟ کیا اس عقیدہ،  اس شخصیت سے صحیح روایات سے ثابت کرنے کی ذمی داری نہیں بنتی ؟؟؟؟؟

عالم خصوصا علمائے تاریخ اپنی کتب میں مختلف اقوال اور رجال کے احوال میں اقوال نقل کرتے ہیں لیکن یا تو ثابت ہو کہ یہ وہ اپنی نتیجہ خیز تحقیق دے رہے ہیں تو اور بات ہے اگر وہ فقط تاریخی روایات اور اقوال بیان کر رہے ہوں تو ان اقوال کو ان کا عقیدہ تب تک کیسے کہا جا سکتا ہے جب تک بالجزم ثابت نا ہو۔  

*میری  دونوں شرائط میں جو بات نا مناسب ہے اسے واضح کریں*

  جعفر صادق: کیا پہلی مرتبہ مناظرہ کر رہے ہیں۔ شرائط دونوں فریق بھیجتے ہیں۔اشکالات دور کئے جاتے ہیں اس کے بعد فائنل شرائط کا اعلان کیا جاتا ہے۔آپ نے کل سے میری شرائط پر کئی طرح سے اعتراضات وارد کئے جن کے جوابات دیکر کئی جوابی وضاحتیں بھی طلب کی گئیں۔ آپ نے ان کا جواب دینا ہی مناسب نہ سمجھا۔۔ اس سے یہ تو ظاہر ہوگیا کہ آپ گفتگو کرنے سے فرار ہونا چاہتے ہیں لیکن کوئی راستہ نہیں مل رہا۔

کبھی میرے دئے گئے چیلینج اور موضوع میں تضاد تو کبھی دعوی ہی مختلف ہے کی گردان شروع۔۔۔ پوچھنے کے باوجود  بتاتے بھی نہیں!جب دیکھا کہ بالکل پھنس چکا ہوں تو شرائط کے بہانے سے ایسے مطالبات شروع کردئےہیں جو براہ راست میرے دعوے اور دلائل کو بدلنے کی مذموم کوشش ہے۔

آپ نے شرائط پیش نہیں کیں بلکہ براہ راست مطالبہ کیا ہے تاکہ اس گفتگو سے جان بچ جائے۔۔

 علی میلانی صاحب نے بھی  ایک  سال پہلے شرائط اور دعوی وغیرہ طئے کر کے پہلے یہ بہانہ کیا کہ امتحانات ہیں پھر چھ ماہ بعد جب دوبارہ گفتگو پر مجبور کیا گیا تو یہ مطالبہ پیش کردیا کہ ابن سبا کو قرآن اور متواتر روایات سے ثابت کروں۔ (دیکھیں شروعاتی پیجز)  

  محترم۔۔۔ موضوع ہے عبداللہ ابن سبا۔۔۔شیعہ عوام کو بتلاتے ہیں کہ یہ افسانہ ہے۔۔۔ جبکہ مناظروں میں اقرار کرتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے۔کئی شیعہ محققین نے ابن سبا کو افسانہ قرار دینے کے لئے کتب تصنیف کی ہیں۔ ہماری گفتگو کے دو مقاصد ہیں۔

1: ابن سبا ⬅️ ناقابل تردید حقیقت ہے۔ (سنی و شیعہ معتبر کتب سے ثابت ہے)

2: ابن سبا ⬅️ موجد عقائد شیعیت ہے۔

*یہی چیلنج ہے، یہی موضوع ہے جسے آپ نے دیکھ کر،  پڑھ کر اور سمجھ کر قبول کیا اور یہاں مجھ سے گفتگو کر رہے ہیں۔*اب آجائیں دعوی پر۔۔

صفحہ 2 از 5