شیعہ مناظرکی عجیب منطق :موضوع دو ہیں ، دعوی تبدیل کرنے کا…

شیعہ مناظرکی عجیب منطق :موضوع دو ہیں ، دعوی تبدیل کرنے کا مطالبہ!

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 5

شیعہ مناظرکی عجیب منطق :موضوع دو ہیں ، دعوی تبدیل کرنے کا مطالبہ!

رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق:  محترم آپکا مسئلہ یہ ہے کہ آپ اپنے لکھی ہوئی چیزوں سے مکر جاتے ہیں یا بعد میں کہتے ہیں یہ میں نے اس ضمن میں نہیں بلکہ اس ضمن میں بات کی تھی ۔ اسکی واضح مثال یہ ہے جو یہیں نظر آ رہی ہے ۔

آپ نے تسلیم کیا کہ آپ کا دعویٰ یہی ہے لیکن دعوی میں ایک موضوع جبکہ گفتگو کے عنوان میں دو موضوع واضح طور پر بدنیتی پر مبنی ہے۔

   آپکی پیش کردہ شرائط میں ترمیم ممکن ہے یا یہ بھی آپکی ضد ہے کہ انہیں شرائط پر بات ہو گی تو ہی بات کریں گے ورنہ وہی دھمکی کہ میں گفتگو ہی نہیں کروں گا۔

   جعفر صادق: چلیں دونوں موضوع الگ الگ نمبر ڈال کر لکھیں۔اور    آپ بتائیں۔۔۔ کونسی ترمیم کرنی ہے؟

 رانا محمد سعید شیعہ : دعویٰ تبدیل کریں گے ؟    ترمیم ممکن ہے ؟؟؟ 

   جعفر صادق: جو زیر بحث ہے اسے کلیئر کریں۔۔پھر اپنی شرائط پیش کریں۔دعویٰ پر گفتگو کی باری اس کے بعد آئے گی۔اعتراض اور اشکال درست ہوئے تو سب میں ترمیم کر سکتے ہیں۔۔۔ میری بات حرف آخر نہیں ہے۔ میں عاجز سا کم علم انسان ہوں۔ گفتگو کا مقصد ہار جیت نہیں ہے۔ اپنے اپنے علم کے مطابق اور تحقیق کی روشنی میں ابن سبا کی شخصیت پر تفصیلی گفتگو کریں گے تاکہ حقائق واضح ہوجائیں۔ان شاء اللہ

 رانا محمد سعید شیعہ : ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ حقائق واضح ہوں ۔ اسی لئے عرض خدمت ہے کہ آپ نے ایک دعویٰ پہلے سے لکھ رکھا ہے، چیلنج کر رکھا ہے۔   لیکن اب گفتگو کرنے آئے ہیں تو آپ کا شرائط کا لکھا ہوا  عنوان دعوے سے تھوڑا سا مختلف ہے محترم ۔ عرض خدمت یہ ہے کہ شرائط ہم طے کر رہے ہیں، جس موضوع کی شرائط طے کر رہے ہیں پہلے وہ موضوع تو کلیئر ہو جائے  ۔

 اوپر آپ نے فرمایا کہ دونوں موضوع الگ الگ نمبر ڈال کر لکھیں ۔ گویا آپ بھی دبے لفظوں میں اقراری ہیں کہ یہ دونوں الگ موضوع ہیں جبکہ آپ چیلنج ابن سباء کا شیعہ عقائد کے بانی ہونے پر ہے نا کہ اس پر کہ اس کی شخصیت یا کردار افسانہ ہے یا حقیقت ۔ میں نے تفصیلا عرض کر دیا کہ میرے نزدیک اس کی شخصیت مسلمہ ہے ۔ تو یہ موضوع تو یہاں ہی وائنڈ اپ ہو گیا کہ اسکی شخصیت حقیقت یا افسانہ ۔ جب اس کی شخصیت کا وجود تسلیم کر لیا گیا ہے تو اس موضوع کو ڈراپ کر کے اب اصل کی طرف آئیں جس کا آپ نے دعویٰ لکھا ہوا ہے سر ۔ مہربانی فرمائیں،  ضد کرنا اچھی بات نہیں اور ضد بھی غیر ضروری ۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ آپ کہو تم رانا سعید ہو اور شیعہ ہو ، میں کہوں جی میں رانا سعید ہوں شیعہ ہوں ۔ اب اس بات پر گفتگو ہی بیکار ہے کہ میں رانا سعید ہوں کہ نہیں ۔ اب گفتگو کا محور میرے عقائد ہیں کیونکہ میں تسلیم کر چکا ہوں کہ میں ہی رانا سعید ہوں ۔

( مثال بھی غلط! رانا سعید شیعہ کے متعلق کسی کو شک نہیں ہے، جبکہ ابن سبا کو خود  اہل تشیع محققین نے متنازعہ بنا رکھا ہے!)

رانا محمد سعید شیعہ :   میں نے سوال کیا تھا کہ شرائط میں ترمیم کی لچک کی سہولت ہے بھی آپ کی طرف سے یا نہیں ۔ ابھی میں کہوں کہ میری یہ شرائط ہیں ۔ آپ کہیں نہیں مجھے یہ منظور ہی نہیں شرائط تو وہی فائنل ہوں گی جو میں نے لکھ دیں ۔ تو شرائط لکھنے کا مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ بہتر ہوگا آپ کلئیر کریں کہ شرائط میں تبدیلی ممکن بھی ہے یا نہیں ۔ جزاک اللہ ۔

  جعفر صادق: شرائط کا عنوان موضوع ہے۔۔ دعویٰ موضوع کے مطابق ہوتا ہے۔ دعوی اور موضوع من و عن ایک نہیں ہوتے۔

میں نے الگ الگ نمبر ڈال کر لکھنے کا کہا ہے تو آپ لکھ کر سب کو بتادیں کہ موضوع کچھ اور ہے اور دعویٰ  کچھ اور ہے یا دونوں میں دو الگ الگ باتیں مذکور ہیں۔ میرے نزدیک تو ایسا کچھ نہیں ہے کل سے سمجھا رہا ہوں۔ یہ دیکھیں۔۔کل اسی اعتراض کا جواب دے چکا ہوں۔

    آپ میری شرائط میں ترامیم کردیں مناسب ہوئی تو قبول کرلوں گا۔اپنی شرائط بھی بھیج دیں۔

وقت کیوں ضایع کر رہے ہیں۔


 

 رانا محمد سعید شیعہ : ضد ہے آپکی بہرحال ۔ آپ کے دعویٰ میں واضح ہے ۔ خیر آپ نہیں چھوڑیں گے ضد تو اللہ کے سپرد ۔ بات تو میں نے کرنی ہے یہی میری مجبوری ہے کہ آپ گفتگو یہ کسی بھی بہانے فرار نا ہو سکیں اسلئے جائز و ناجائز مان رہا ہوں ۔

   شرائط کی طرف آتا ہوں۔  اپنی طرف سے میری صرف دو شرائط ایڈ کرلیں ۔

 

رانا سعید شیعہ اپنی فطرت سے مجبور موضوع اور مدعی کے دعویٰ کو سائیڈ پر کرکے من پسند مطالبات تاکہ گفتگو ان کی مرضی کے مطابق ہو!

شیعہ مناظر رانا سعید  کی طرف سے شرائط مناظرہ یا مطالبات!

1: آپ پہلے وہ عقائد ایک ایک کر کے لکھیں گے کہ  یہ یہ وہ شیعہ عقائد ہیں جن کا بانی ابن سباء ہے اور پھر ایک ایک کر کے اس عقیدہ کو بزبان ابن سباء صحیح روایات سے ثابت کریں گے ۔

2: کسی عالم کا قول تب ہی بطور دلیل لیا جائے گا جب بالجزم وہ عالم اسے اپنا عقیدہ قرار دے، صرف کسی روایت یا قول کو نقل کر دینا اس بات کا ثبوت نہیں سمجھا جائے گا کہ یہ اس عالم کا عقیدہ ہے ۔ 

 جعفر صادق: میں نے کب اور کہاں ضد کی ہے؟  آپ سے جو پوچھا جاتا ہے اس کا جواب دینے سے گھبرا کیوں جاتے ہیں۔

چیلنج اور عنوان/موضوع میں تفریق کہہ دی۔۔۔ دکھانے میں فیل ۔۔۔ بار بار پوچھا گیا۔۔۔ جواب ندارد

پھر موضوع اور دعوی میں تفریق کا کہتے رہے ۔۔۔ بار بار پوچھا۔۔۔ جواب ندارد

پھر دو الگ موضوع کا شوشہ چھوڑا۔۔۔ جب انہیں لکھنے کا کہا گیا تو جواب ندارد

بات کرنا آپ کی مجبوری کیوں ہے۔میں نے کوئی زبردستی کی ہے؟

اللہ کا واسطہ۔۔۔ یہ بتائیں کہ میری کونسی شرط ناجائز ہے جسے آپ مان کر مجھ پر احسان بھی فرما رہے ہیں؟

    آپ کو گفتگو کے اس مرحلے پر شرائط ہی فائنل کرنی ہے محترم۔     آپ کی یہ شرائط نہیں ہیں اللہ کے بندے۔یہ براہ راست مطالبات ہیں کہ میں اپنے دعویٰ  اور دلائل کو آپ کی مرضی اور پسند کے مطابق تبدیل کردوں۔۔

کیا شیعیت اتنا کمزور مذہب ہے کہ اپنی صحیح ترین روایات اور اپنے ہی متقدمین جید ثقہ جلیل القدر علماء کرام کی شرح کو بغیر معارض روایات اور بغیر اقوال شیعہ علماء کے ہی مسترد کر دے۔

صفحہ 1 از 5