سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر امہات المومنین رضی اللہ…

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر امہات المومنین رضی اللہ عنہن کے مشترکہ فضائل

  علماء مشائخ کمیٹی سعودی عرب

صفحہ 2 از 2
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ وَاُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا۞
(سورۃ الاحزاب: آیت، 28)
وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞
(سورۃ الاحزاب: آیت، 29)
ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ سامان دے دوں اور تمہیں رخصت کر دوں اچھے طریقے سے رخصت کرنا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخری گھر کا ارادہ رکھتی ہو تو بے شک اللہ نے تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔
تو رسول اللہﷺ‎ نے اپنی بیویوں کو دو میں سے ایک چیز پسند کرنے کا اختیار دیا تو تمام ازواجِ مطہراتؓ نے اللہ، اس کے رسول اور دارِ آخرت کو پسند کیا اور دنیاوی عیش و عشرت کو ٹھکرا دیا۔ یہ ان کی صدقِ قلبی کی دلیل ہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس وقت نبیﷺ‎ مادی فوائد نہ رکھتے تھے جو ان کی ترغیب کا باعث بنتے اور آپ اپنے ساتھ اپنی زوجات کو تنگ حالی پر صبر، صدق ایمان اور حقیقت تقویٰ کی تلقین کرتے۔ چنانچہ ان کی طرف سے یہ اختیار تقویٰ پر مبنی تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے شرفِ قبولیت سے نوازا اور انہیں خصوصی تکریم عطا کی:
الف: اللہ تعالیٰ نے آپﷺ‎ کو ان کے بعد کسی اور سے شادی کرنے سے روک دیا۔
ب: اللہ تعالیٰ نے آپﷺ‎ کو منع کر دیا کہ ان میں سے کسی کو طلاق دیں ، کیونکہ آپﷺ‎ کی یہی زوجات آخرت میں بھی آپﷺ‎ کی زوجات ہوں گی اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر بھی ان میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنا حرام کر دیا۔
(شذی الیاسمین فی فضائل امہات المومنین، صفحہ 17)
6: اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات سے شرک وغیرہ جیسی نجاست کی نفی کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيۡرًا۞
(سورۃ الاحزاب: آیت، 33)
ترجمہ: اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے ، خوب پاک کرنا۔
یہ بات ہم نے اس قول کی بنیاد پر کہی جس کے علاوہ کوئی دوسری رائے صحیح نہیں ہے۔ یعنی اہلِ بیتؓ میں زوجات رسول اللہﷺ‎ بھی شامل ہیں۔
7: عمل صالح اور اطاعات کے کاموں میں ان کا اجر دوگنا ہوگا اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا۞
(سورۃ الاحزاب: آیت، 31)
ترجمہ: اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک عمل کرے گی اسے ہم اس کا اجر دوبار دیں گے اور ہم نے اس کے لیے با عزت رزق تیار کر رکھا ہے۔
8: اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کا تذکرہ تلاوتِ قرآن اور حکمت کے ساتھ کیا ہے یہ ایسا شرف ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِىۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا۞
(سورۃ الاحزاب: آیت، 34)
ترجمہ: اور تمہارے گھروں میں اللہ کی جن آیات اور دانائی کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انہیں یاد کرو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے نہایت باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ 
بہرحال درج بالا چند فضائل کو جمع کر کے یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ امہات المؤمنینؓ کے بس اتنے ہی فضائل ہیں ۔ نہیں بلکہ امہات المؤمنینؓ کے قرآن و حدیث میں اتنے فضائل و مناقب موجود ہیں کہ ان کو جمع کر کے کئی ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں، تاہم ہمارے موضوع سے متعلق مذکورہ فضائل ہی کافی سمجھے جائیں عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے اور آزاد کے لیے بشارت کافی ہے۔

صفحہ 2 از 2