سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ…

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ اجنادین و یرموک

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

دو عظیم قائدین کے مابین اس تعامل سے اسلامی اخوت کے معانی کا انکشاف ہوتا ہے جو توحید خالص سے وجود میں آتی ہے اور اخلاق حمیدہ سے مزین ہوتی ہے، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریۂ امتیاز تھا۔ عراق میں بے پایاں فتوحات اور خلیفہ کے اعتماد کے باوجود سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اندر کوئی تغیر نہ آیا اور اپنی برتری کا خمار سوار نہ ہوا، بلکہ اس کے برعکس حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و بزرگی کا اعتراف اور ان کی اطاعت کا اعلان کیا اور اس کے بالمقابل ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اس حکم کو بابرکت قرار دیتے ہیں اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا ابوعبیدہ اور خالد رضی اللہ عنہما خواہشات نفس سے پاک تھے، مصالح عامہ کو ترجیح دیتے تھے، ان کے پیش نظر اعمال میں اللہ کی رضا وخوشنودی تھی۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 231)

اس کے اندر حکام، تحریکات کے ذمہ داران، علماء، دعاۃ و مبلغین، قائدین اور زعماء سب کے لیے تقرری و معزولی کے موقع پر آپس میں طرز عمل کا عظیم درس ہے۔

1۔ معرکہ اجنادین: سیدنا خالد رضی اللہ عنہ شام پہنچے، بصریٰ فتح کیا، قائدین اسلام؛ ابوعبیدہ بن جراح، شرحبیل بن حسنہ، یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم سے ملے، عسکری صورت حال کا جائزہ لیا، دقیق تفصیلات پر مطلع ہوئے اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے مؤقف کی بھی تفصیلات معلوم کیں، جو دریائے اردن کے کنارے رومی افواج کی جھڑپ سے بچتے ہوئے اسے خالی کرنے میں مصروف تھے تاکہ اسلامی فوج سے جا ملیں جبکہ دشمن پوری تیاری سے ان کے تعاقب میں تھا اور اس کوشش میں لگا ہوا تھا کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو جنگ پر مجبور کر دے، لیکن عمرو رضی اللہ عنہ پوری طرح بیدار اور ہوشیار تھے اور بخوبی جانتے تھے کہ ان حالات میں جنگ کرنا مصلحت کے خلاف ہے کیونکہ آپؓ کی فوج سات ہزار سے زیادہ نہ تھی جبکہ رومی فوج اس سے کہیں زیادہ تھی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ عسکری پوزیشن کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان کے سامنے دو صورتیں ہیں: یا تو جلدی سے لشکر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے جا ملیں اور ان کے ساتھ مل کر رومی فوج کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کر کے رومی قوت کو تباہ کر دیں، اس طرح اسلامی فوج کا عسکری مؤقف مضبوط ہو جائے اور فلسطین میں مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے، یا اپنی جگہ ٹھہرے رہیں اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ آکر ملنے کو کہیں اور رومی فوج کا انتظار کریں جو دمشق سے ان کی طرف چل چکی تھی اور پھر اس کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کریں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے پہلی صورت کو ترجیح دی کیونکہ فلسطین میں رومی فوج پر غلبہ پانے کی صورت میں مسلمانوں کی واپسی کا راستہ محفوظ ہو جائے گا اور ان کے مراکز کو قوت ملے گی اور ایسی صورت میں وہ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ رومی فوج کو چیلنج کر سکیں اور دشمن اپنے پیچھے سے خطرہ محسوس کرے گا پھر اس کی تدبیر میں لگ جائے گا اور اس کی فوج کا ایک حصہ اس میں مشغول ہو جائے گا اور ہجوم کے بجائے دفاع کی پوزیشن میں آجائے گا۔

چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ یرموک سے فلسطین کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اطلاع بھیجی کہ وہ رومی فوج کو دھوکہ میں رکھتے ہوئے وہاں سے منتقل ہونے میں لگے رہیں، یہاں تک کہ لشکر خالد رضی اللہ عنہ وہاں پہنچ جائے پھر ایک ساتھ مل کر رومی فوج پر حملہ کریں۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اجنادین آگئے۔(اَجنادین فلسطین کے نواحی علاقہ میں ایک مقام کا نام ہے۔ المعجم الیاقوت: جلد 1 صفحہ 203)

اور جب لشکر خالد وہاں پہنچا تو اسلامی فوج کی تعداد تقریباً تیس ہزار ہو گئی۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ مناسب وقت پر پہنچے اور گھمسان کی جنگ شروع ہوئی۔ سیدنا خالد اور عمرو رضی اللہ عنہما کی عسکری مہارت کا اس فیصلہ کن فتح میں کافی دخل رہا۔ چنانچہ خطرات سے کھیلنے والی فوج کو مقرر کیا گیا، جو دشمن کی صفوں کو چیرتی ہوئی رومی جرنیل تک پہنچ گئی اور اس کا کام تمام کر دیا۔ جرنیل کے قتل ہوتے ہی رومی فوج ہمت ہار گئی اور مختلف سمتوں کی طرف راہ فرار اختیار کی۔

(ابوبکر رضی اللہ عنہ: نزار الحدیثی: صفحہ 70)

شام میں معرکہ اجنادین، روم اور مسلمانوں کے مابین پہلا بڑا معرکہ تھا۔ جب ہزیمت کی خبر حمص میں قیصر روم ہرقل کو پہنچی تو اسے حادثے کی سنگینی کا احساس ہو گیا۔ 

(ابوبکر رضی اللہ عنہ: نزار الحدیثی: صفحہ 71)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فتح کی خوشخبری دیتے ہوئے خط لکھا:

’’خلیفہ رسول ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام مشرکین کے خلاف اللہ کی کھلی تلوار خالد بن ولید کی طرف سے۔ السلام علیکم! میں اس اللہ کی حمدوثنا بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اما بعد!

اے صدیق! میں آپ کو یہ خبر دے رہا ہوں کہ ہم مشرکین کے مقابلہ میں اترے، انہوں نے اجنادین میں بہت بڑی فوج اکٹھی کی، اپنی صلیب بلند کی اور اپنی کتابیں کھولیں، اللہ کی قسمیں کھائیں کہ ہم کو ختم کر کے یا اپنے ملک سے نکال کر ہی دم لیں گے، میدان سے فرار نہیں اختیار کریں گے۔ ہم بھی اللہ پر اعتماد و توکل کرتے ہوئے ان کے مقابلہ میں ڈٹ گئے، نیزوں سے ان پر وار کیا، پھر ہم نے تلواریں سنبھالیں اور ہر وادی، میدان اور راستہ میں ان سے مقابلہ کیا۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اپنے دین کو غلبہ عطا کیا، دشمن کو ذلیل کیا اور اپنے دوستوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔‘‘

جب یہ خط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو موصول ہوا تو بے حد خوش ہوئے اور فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مسلمانوں کو فتح عطا کی اور اس سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ 

(فتوح الشام للازدی:  صفحہ 84، 93)

صفحہ 3 از 4