سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ…

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام کی طرف روانہ کرنا اور معرکہ اجنادین و یرموک

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

اس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نزدیک افواج کو نقل وحرکت میں لانے کا فن بالکل واضح تھا۔ جس وقت سیدنا ابوبکرؓ نے انہیں مدینہ سے روانہ فرمایا اس وقت یہ افواج قدرے دور دراز راستوں سے روانہ ہوئیں، جو نیزے یا پنکھے کی شکل اختیار کرتی تھیں، جنہیں آج عسکری اصطلاح میں ’’حرکت انتشار‘‘ کہا جاتا ہے اور جب فیصلہ کن جھڑپ وتصادم اور مڈبھیڑ کا وقت آیا تو اپنے منتخب کردہ مقام پر سب افواج کو اکٹھا کر دیا، اس سے افواج کو استعمال کرنے کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکرؓ کی ماہرانہ صلاحیت و قدرت کا پتہ چلتا ہے، جسے آج عسکری اصطلاح میں فوجی حکمت عملی (Stredegy) کہا جاتا ہے۔

(الفن العسکری الاسلامی: صفحہ 89، ابوبکر الصدیق: الحدیثی 60)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اسلامی فوج کے قائد عام (کمانڈر اِن چیف) کی حیثیت سے میدان قتال میں اوامر و فرامین کے ذریعہ سے معنوی طور پر حاضر رہنے کے حریص تھے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ فرامین بصیرت افروزی، بالغ نظری، نفاذ بصیرت، میدان قتال میں جنگی صورت حال کی برجستہ وضاحت میں امتیازی حیثیت کے حامل تھے۔ صورت حال کے مطابق افواج کو حرکت میں لانا، قائدین کا صحیح انتخاب، خلیفہ اور قائدین کے مابین ایک دوسرے پر اعتماد۔ قائدین سیدنا ابوبکرؓ کے افکار کو پڑھتے اور سیدنا ابوبکرؓ کی رغبتوں اور ارادوں کو محسوس کرتے اور سیدنا ابوبکرؓ جو جنگی تدابیر نافذ کرنا چاہتے وہ ان کے ذہن و دماغ میں اتر جاتیں، وہ لوگ اس کو اسی طرح نافذ کرتے گویا کہ خلیفہ ہی نافذ کر رہا ہو۔ ان وسائل کے ذریعہ سے خلیفہ مختلف میدان قتال میں معرکوں کی تنظیم کرتا گویا کہ خود میدان میں موجود ہو چنانچہ قائدین اور فوج تمام ہی لوگ یہ محسوس کرتے گویا کہ خلیفہ ان کے درمیان موجود ہے جو ان کی قیادت کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے اعمال خلیفہ کے ارادے اور رغبت کے عین مطابق ہوتے اور آپ کے اوامر و توجیہات کے عین موافق ہوتے۔

(الفن العسکری الاسلامی: صفحہ 98)

جس وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شام جانے اور وہاں اسلامی افواج کی امارت سنبھالنے کا حکم فرمایا تو ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو اس سے باخبر کیا، اس کے اسباب بتائے اور سمع و اطاعت کا حکم دیا۔ فرمایا:

’’اما بعد! میں نے شام میں رومیوں سے جنگ کی قیادت خالد کو سونپ دی ہے، تم اس کی مخالفت نہ کرنا، سمع و اطاعت کا مظاہرہ کرنا۔ میں نے ان کو تمہارے اوپر قائد مقرر کیا ہے حالانکہ مجھے معلوم ہے کہ تم ان سے افضل ہو۔ لیکن میرے خیال میں جو جنگی مہارت انہیں حاصل ہے تمہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سے اور تم سے دین ہدایت کا کام لے۔

والسلام علیک ورحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘

(مجموعۃ الوثائق السیاسۃ: صفحہ 392، 393)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا خط ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے نام عراق سے شام تک کی مسافت طے کرتا ہوا ایمان و زہد کا پیغام لے کر پہنچا۔ خط ملاحظہ ہو:

’’ابوعبیدہ بن جراح کے نام خالد بن ولید کی جانب سے، السلام علیک!

میں اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

اما بعد! میں اپنے اور آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے خوف کے دن امن اور دنیا میں گناہوں سے بچاؤ کا سوالی ہوں۔ میرے پاس خلیفہ رسول کا خط آیا ہے، جس میں انہوں نے مجھے شام پہنچ کر وہاں کی اسلامی فوج کی قیادت سنبھالنے کا حکم فرمایا ہے۔ اللہ کی قسم! نہ میں نے اس کا مطالبہ کیا ہے اور نہ کبھی اس کا ارادہ تھا اور نہ اس سلسلہ میں نے ان کو لکھا ہے۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ اپنی پوزیشن پر برقرار رہیں گے، آپ کا حکم نہیں ٹالا جائے گا، اور نہ آپ کی رائے کی مخالفت کی جائے گی اور آپ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ آپ تو اسلامی سربراہوں میں سے ہیں، آپ کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور نہ آپ کی رائے سے بے نیازی ہو سکتی ہے۔ ہمارے اور آپ کے اوپر جو اللہ تعالیٰ نے نعمت و احسان کیا ہے اس کو مکمل فرمائے، ہمیں اور آپ کو عذاب جہنم سے محفوظ فرمائے۔

والسلام علیک ورحمۃ اللہ و برکاتہ‘‘

(مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ: صفحہ 392)

اسی طرح سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے مذکورہ خط کے ساتھ شام میں موجود مسلمانوں کے نام بھی خط ارسال فرمایا، جس میں لکھا:

اما بعد! اللہ تعالیٰ جس نے ہمیں اسلام کے ذریعہ سے عزت بخشی، اپنے دین کے ذریعہ سے شرف بخشا، اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے مکرم کیا اور ایمان کے ذریعہ سے فضیلت بخشی، اللہ کی رحمتیں ہمارے لیے بڑی وسیع ہیں اور اس کی نعمتوں سے ہم گھرے ہوئے ہیں۔ اس اللہ سے سوالی ہوں کہ اپنی نعمت کو ہم پر تمام کر دے۔ اللہ کے بندو! اللہ کی حمد و شکر بیان کرو، وہ اور عطا کرے گا؛ اور اللہ سے تمام عافیت کی رغبت کرو وہ عافیت کو دوام بخشے گا۔ اللہ کی نعمتوں کے شکر گذار بن کر زندگی بسر کرو۔ خلیفہ رسول اللہ کا خط مجھے موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے مجھے آپ لوگوں کے پاس پہنچنے کا حکم دیا ہے۔ میں مکمل تیار ہو چکا ہوں گویا میرا گھوڑا مجاہدین کے ساتھ تمہارے پاس پہنچ چکا ہے لہٰذا اللہ کے وعدہ کی تکمیل اور حسن ثواب سے خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں ایمان کے ساتھ محفوظ رکھے اور ہمیں اور تمہیں اسلام پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں اور تمہیں مجاہدین کا بہترین ثواب عطا فرمائے۔

والسلام علیکم۔‘‘

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 68، 72 بحوالہ الحمیدی)

عمرو بن طفیل بن عمرو ازدی یہ دونوں خط لے کر شام میں مسلمانوں کے پاس پہنچے، اس وقت مسلمان جابیہ میں تھے، انہیں خط سنایا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا خط ان کے حوالے کیا۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خط پڑھا تو فرمایا: اللہ خلیفہ رسول کو ان کی رائے میں برکت عطا فرمائے، اور اللہ تعالیٰ خالد کو صحیح سالم رکھے۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 68، 72 بحوالہ الحمیدی)

صفحہ 2 از 4