شام میں پوزیشن خراب ہونا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شام میں پوزیشن خراب ہونا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

’’اے بھتیجے! تم جو بھی نیزے چلاؤ اور جو ضرب بھی لگاؤ اس سے مقصود اللہ کی رضا ہو۔ اور یاد رکھو تم دنیا سے ہدایت یاب ہو کر دنیا سے رخصت ہونے والے ہو اور عنقریب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہو اور دنیا سے لے کر آخرت تک تمہارے ساتھ تمہارے اچھے کارنامے یا اعمال صالحہ ہوں گے جو تم نے کیے ہیں۔‘‘

ہاشم نے کہا: چچا جان! اس کے علاوہ کی مجھ سے توقع نہ کریں۔ اگر میرا قیام و سفر، صبح وشام کی نقل وحرکت، نیزے مارنا اور تلوار چلانا لوگوں کو دکھانے کے لیے ہو تو پھر میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے روانہ ہوئے اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے جا ملے، ان کے پہنچنے سے مسلمان خوش ہو گئے۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 33، 35)

ہاشم بن عتبہ کے کوچ کر جانے کے کچھ دن بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کریں، انہوں نے اعلان کیا: مسلمانو! سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ کے ساتھ شام کی مہم کے لیے تیار ہو جاؤ۔ چند دنوں میں سات سو افراد تیار ہو گئے اور جب سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اگر آپؓ نے مجھے اس لیے آزاد کیا تھا کہ میں آپؓ کے ساتھ رہوں اور آپؓ مجھے خیر کی دلی خواہش کی تکمیل سے روک دیں، تو میں آپؓ کے ساتھ مدینہ میں رہنے کے لیے تیار ہوں اور اگر اللہ واسطے آزاد کیا تھا تاکہ میں اپنے نفس کا مالک رہوں اور نفع بخش چیز کے سلسلہ میں نقل وحرکت کروں، تو آپؓ مجھے اجازت دیں کہ میں اپنے رب کی راہ میں جہاد کروں۔ مجھے بیٹھے رہنے سے جہاد زیادہ محبوب ہے۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تمہاری خواہش جہاد کرنے کی ہے تو میں تمہیں ٹھہرنے کا کبھی حکم نہیں دوں گا۔ میں تمہیں اذان کے لیے چاہتا ہوں اور مجھے تمہاری جدائی سے وحشت محسوس ہوتی ہے لیکن ایسی جدائی ضروری ہے جس کے بعد قیامت تک ملاقات نہ ہو گی۔ اے بلال! تم عمل صالح کرتے رہنا، یہ دنیا سے تمہارا زاد راہ ہوگا اور جب تک تم زندہ رہو گے تمہاری یاد باقی رکھے گا اور جب وفات پاؤ گے تو اس کا بہترین ثواب عطا کرے گا۔ بلال نے عرض کیا: اللہ آپ کو اسلامی بھائی اور احسان مند کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ آپؓ نے جو ہمیں اللہ کی اطاعت پر صبر اور حق و عمل صالح پر مداومت کا حکم فرمایا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اذان دینا نہیں چاہتا۔ پھر سعید بن عامر بن حذیم رضی اللہ عنہ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ روانہ ہو گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ یزید بن ابی سفیان سے جا ملیں۔ وہ ان سے جا ملے اور عربہ اور دائنہ کی جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہوئے۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 35، 38، بتصرف)

جہادی وفود کے آنے کا سلسلہ مدینہ میں جاری تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انہیں مہمات پر روانہ کرتے رہتے۔ ان وفود میں بعض دیہات کے رہنے والے تھے جن میں جہالت اور سختی پائی جاتی تھی، جس کی وجہ سے مدینہ کے صحابہ اور تابعین کو اذیت پہنچتی تھی کیونکہ ان کی ابھی اسلامی تربیت مکمل نہ ہو سکی تھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی شکایات پہنچائی جاتیں لیکن کثرت وفود کے باوجود کوئی نزاع رونما نہیں ہوا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے لوگوں سے اپیل کی

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 224)

اور فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دلاتا ہوں جو مسلمان میری یہ اپیل سنے اور اپنے اوپر میرا حق سمجھتا ہے، وہ ان کی زبان کی تیزی اور شست و ناپسندیدہ حرکات برداشت کرے جب تک کہ یہ لوگ شرعی حد کو نہ پہنچیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے ہمارے دشمنوں ہرقل روم کے لشکر کو ہلاک کرنے والا ہے۔ یہ تمہارے بھائی ہیں اگر ان سے کسی پر زیادتی ہو جائے تو برداشت کرے۔ کیا یہ صحیح رائے اور انجام کے اعتبار سے بہتر نہیں کہ ان کے ذریعہ سے مدد و غلبہ ملے؟

تمام مسلمانوں نے یک زبان ہو کر کہا: کیوں نہیں، ضرور۔

فرمایا: تو پھر یہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور دشمن کے مقابلہ میں تمہارے معاون ہیں۔ ان کا تم پر حق ہے لہٰذا تم برداشت کرو۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر سے اتر آئے۔

(التاریخ الاسلامی للحمیدی: جلد 9 صفحہ 223)


صفحہ 3 از 3