شام میں پوزیشن خراب ہونا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

شام میں پوزیشن خراب ہونا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

تمہارا خط مجھے موصول ہوا، جس میں تم نے شاہ روم کے انطاکیہ کی طرف منتقل ہونے کو ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلم فوج کا خوف اس کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بذریعہ رعب ہمیں نصرت بخشی اور ملائکہ کرام کے ذریعہ سے مدد کی۔ یقیناً وہ دین جس کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بذریعہ رعب ہماری مدد ونصرت فرمائی یہی دین ہے جس کی طرف آج ہم دعوت دیتے ہیں۔ تمہارے رب کی قسم! اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مجرموں کی طرح نہیں کرے گا، اور نہ جو لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہیں انہیں ان لوگوں کی طرح کرے گا جو دوسرے معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور مختلف طرح کی عبادت کرتے ہیں۔ جب ان سے تمہارا مقابلہ ہو تو اپنے ساتھیوں کو لے کر ان پر ٹوٹ پڑو اور ان سے قتال کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ بحکم الہٰی چھوٹا گروہ بڑے گروہ پر غالب آجاتا ہے، اور اس کے باوجود میں تمہاری مدد کے لیے مجاہدین پر مجاہدین بھیج رہا ہوں، یہاں تک کہ تمہارے لیے کافی ہو جائیں گے اور مزید کی حاجت نہ محسوس کرو گے۔ ان شاء اللہ!

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ خط عبداللہ بن قرط ثمالی کے ذریعہ سے ارسال فرمایا۔ جب وہ خط لے کر یزید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپؓ نے مسلمانوں کو پڑھ کر سنایا جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے۔

(فتوح الشام للأزدی: صفحہ 30، 33 بحوالہ الحمیدی۔)

اسی طرح حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا بھی خط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا:

’’السلام علیک اما بعد!

تمہارا خط مجھے موصول ہوا، جس میں تم نے رومیوں کے فوج اکٹھی کرنے کا ذکر کیا ہے، تو یاد رہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کثرت فوج کی بنا پر ہمیں فتح و نصرت نہیں عطا کی، ہماری تو حالت یہ تھی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے اور ہمارے پاس صرف دو گھوڑے ہوتے اور اونٹ پر بھی باری باری سواری کرتے۔ احد کے دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس صرف ایک ہی گھوڑا تھا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمیں ہمارے دشمن پر غلبہ عطا فرماتا اور ہماری مدد کرتا تھا۔ عمرو! یاد رکھو اللہ کا سب سے بڑا مطیع وہ ہے جو معصیت سے سب سے زیادہ بغض رکھے۔ خود بھی اللہ کی اطاعت کرو اور اپنے ساتھیوں کو بھی اطاعت الہٰی کا حکم دو۔‘‘

(خطب ابی بکر الصدیق: محمد احمد عاشور: صفحہ 92)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شام میں اسلامی فوج کی مدد کے لیے مجاہدین، اسلحہ، گھوڑے اور دیگر ضروریات کی چیزیں بھیجنا شروع کیں۔ ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کو بلایا اور فرمایا: اے ہاشم! تمہاری سعادت مندی اور نیک بختی ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جس سے امت اپنے دشمن مشرکین کے خلاف جہاد میں مدد حاصل کر رہی ہے اور جس کی خیر خواہی، وفاداری، عفت اور قوت پر خلیفہ کو اعتماد و بھروسہ ہے۔ مسلمانوں نے مجھے خط لکھ کر اپنے دشمن کفار کے مقابلہ میں مدد طلب کی ہے تو تم اپنے ساتھیوں کو لے کر ان کے پاس جاؤ، میں لوگوں کو تمہارے ساتھ جانے پر تیار کر رہا ہوں۔ تم یہاں سے روانہ ہو کر ابوعبیدہ یا یزید سے جا ملو۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کر کے خطاب فرمایا، اللہ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا:

’’اما بعد! یقیناً تمہارے مسلمان بھائی خیر و عافیت سے ہیں، محفوظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے دلوں میں ان کا رعب بٹھا دیا ہے، وہ قلعہ بند ہو گئے ہیں، ان کی طرف سے پیغام رساں یہ خبر لائے ہیں کہ شاہ روم ہرقل نے ان کے سامنے سے بھاگ کر شام کے کنارے ایک بستی میں پناہ لے لی ہے، انہوں نے ہمیں یہ خبر بھیجی ہے کہ ہرقل نے اس جگہ سے بہت بڑی فوج ان سے مقابلہ میں روانہ کی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ تمہارے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے تمہاری فوج روانہ کروں، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے ان کی پشت مضبوط کرے گا اور دشمن کو ذلیل کرے گا اور ان کے دلوں میں ان کا رعب ڈال دے گا۔ اللہ تم پر رحم فرمائے۔ ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کے ساتھ تیار ہو جاؤ اور اللہ سے اجر و خیر کی امید رکھو۔ اگر تم کامیاب ہوئے تو فتح و غنیمت حاصل ہو گی اور اگر ہلاک ہوئے تو شہادت و کرامت حاصل ہو گی۔‘‘

پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے اور لوگ ہاشم بن عتبہ کے پاس جمع ہونے لگے اور ان کی تعداد بڑھ گئی۔ جب ایک ہزار ہو گئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ رخصت ہوتے وقت ہاشم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا

’’اے ہاشم! ہم بڑے بوڑھے کی رائے، مشورہ اور حسن تدبیر سے استفادہ کرتے تھے اور نوجوانوں کی قوت، طاقت اور صبر پر بھروسہ کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر یہ سب خصائل جمع کر دیے ہیں، تم ابھی نو عمر اور خیر کی طرف بڑھنے والے ہو۔ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور صبر کا مظاہرہ کرنا اور یاد رکھو اللہ کی راہ میں جو قدم بھی تم اٹھاؤ گے، جو خرچ بھی کرو گے اور جو تکلیف، تھکاوٹ اور بھوک وپیاس تمہیں لاحق ہو گی، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہارے نامہ اعمال میں عمل صالح لکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نیکو کار لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘

ہاشم نے عرض کیا: اگر اللہ نے میرے ساتھ خیر چاہی تو مجھے ایسا ہی کرے گا اور میں ایسا ہی کروں گا، قوت و طاقت اللہ ہی عطا کرنے والا ہے اور مجھے امید ہے کہ اگر میں قتل نہ کیا گیا تو میں دشمن کو قتل کروں گا۔ پھر ان شاء اللہ قتل کیا جاؤں گا۔ پھر ان سے ان کے چچا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا:

صفحہ 2 از 3