فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

﴿وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اَفَاْئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَ سَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ

’’اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو صرف ایک رسول ہیں ، آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر گئے، اگر آپ وفات پا جائیں یا قتل کیے جائیں تو کیا تم دین اسلام سے منحرف ہو جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے گا تو اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘ ( آل عمران۱۴۴)

لوگوں نے جب یہ آیت سنائی تو یوں لگتا تھا کہ انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تلاوت سے پہلے کبھی یہ سنی ہی نہ تھی۔ پھرکوئی بھی ایسا نہیں رہ گیا تھا جو اس آیت کی تلاوت نہ کررہا ہو۔پھرآپ نے ایک خطبہ کے ذریعہ ان کی ڈھارس بندھائی اور ان میں جرأ ت و جلادت کے جذبات پیدا کیے۔[صحیح بخاری،کتاب المغازی، باب مرض النبی رضی اللّٰہ عنہم ووفاتہ (حدیث: ۴۴۵۳،۴۴۵۴)۔]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب ہمیں خطاب کیا تو ہم لومڑی کی طرح بزدل تھے‘ آپ کی مسلسل حوصلہ افزائی نے ہمیں شیر بنا دیا۔‘‘

نیز جیش اسامہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔حالانکہ لوگوں نے اس لشکر کوروکنے کامشورہ دیا تھا۔ پھر جلد مرتدین کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ لوگ ان کے ساتھ جنگ کے بجائے نرمی سے کام لینے اور انتظار کرنے کا مشورہ دے رہے تھے ۔

پھر اس کے بعد آپ نے مانعین زکواۃ سے جنگ چھیڑ دی۔اس کے ساتھ ہی اگر کوئی صحابی کسی مسئلہ سے لاعلم ہوتا تو آپ اسے تعلیم دیتے ‘ اور جب کوئی کمزوری دیکھاتا توآپ اسے آشیر باد کے ذریعہ طاقتور بناتے۔اگر لوگ تھک جاتے تو آپ انہیں ترغیب دلاتے۔ پس آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے دین ‘علم اور وقت کو تقویت بخشی۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ انتہائی شجاعت اورکمال قوت کے باجود حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے :’’ اے خلیفہ رسول ! لوگوں سے الفت و محبت کا سلوک کیجیے۔‘‘تو آپ فرماتے : کس بات پر ان کے ساتھ الفت کا سلوک کروں ؟ کیا اپنی طرف سے گھڑے ہوئے دین پر؟ یا بے ڈھب شعروں پر ؟ یہ باب بہت وسیع ہے ۔[یہاں اسکی گنجائش نہیں ]۔

امام سے مطلوب شجاعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کامل کسی میں نہ تھی۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کادرجہ آتاہے۔

جہاں تک قتل اور کفار کو تہ تیغ کرنے کا تعلق ہے، بلاشبہ اس ضمن میں دیگر صحابہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سبقت لے گئے تھے۔اگرہر قتل کرنے والا ہی بہادر ہوتا ہے تو پھر دوسرے بہت سارے ایسے صحابہ بھی ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ لوگوں کو قتل کیا ؛ تووہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ بہادر ہوں گے۔ [جو شخص سیر و مغازی کے احوال و واقعات بہ امعان نظر پڑھتا ہے، وہ اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے۔]

حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بھائی براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے مبارزت طلبی کرکے سو کافروں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ جن کے خون میں ان کے ساتھ اور لوگ بھی شریک تھے وہ اس پر مزید ہیں ۔[مستدرک حاکم(۳؍۲۹۱)، مصنف عبد الرزاق(۹۴۹۶)، طبقات ابن سعد(۷؍۲)]

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں جو کفار و اصل جہنم ہوئے ان کاشمارتو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ غزوۂ موتہ میں ان کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹی تھیں۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ موتۃ من ارض الشام(حدیث:۴۲۶۵)۔]

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت کئی گنا زیادہ لوگوں کو قتل کیا تھا۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر طبیعی شجاعت کے ساتھ ساتھ دینی شجاعت بھی کمال درجہ کی تھی۔یہ اللہ تعالیٰ پر یقین کی قوت ‘ اور مؤمنین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی نصرت پر ثقہ اعتماد۔ یہ شجاعت تو ہر قوت قلب والے کو حاصل نہیں ہوتی۔ یہ قوت ایمان ویقین کے زیادہ ہونے سے بڑھ جاتی ہے اوراس کے کم ہونے سے کم ہوجاتی ہے ۔ جس انسان کو یقین کو ہو کہ وہ دشمن پر غالب آئے گا تو وہ یقیناً ایسی پیش قدمی کرتا ہے جو عام پیش قدمی کی طرح نہیں ہوتی۔ یہ بات مسلمانوں کی اپنے دشمن کے خلاف پیش قدمی اوران کی شجاعت کے بڑے اسباب میں سے ایک تھی۔

وہ بلاشبہ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی خبر پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ آخرکار ان لوگوں کو کامیابی ملے گی اور اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھوں پر دنیا کے شہروں کوفتح کرے گا۔

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شجاعت کی ایک اور مثال جسے صحیحین میں حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا وہ سخت ترین بات کون سی تھی جو مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کی؟ انہوں نے فرمایا:’’ میں نے عقبہ بن ابی معیط کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے اس نے اپنی چادر آپ کی گردن مبارک میں ڈال کر آپ کا گلا بہت زور سے گھوٹنا شروع کیا اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے اور آ کر اس کو آپ سے ہٹایا اور کہا:

﴿اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّی اللّٰہُ وَقَدْ جَائَکُمْ بِالْبَیِّنَاتِ مِنْ رَّبِّکُمْ﴾ [غافر۲۸]

’’ کیا تم ایک آدمی کو اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے ’’میرا رب اللہ ہے ‘‘حالانکہ یقیناً وہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔‘‘[البخاری ۵؍۱۰؛ کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ وکتاب مناقب الأنصار‘ باب : ما لقي النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم وأصحابہ من المشرکین بمکۃ۔تفسیر ابن کثیر ۷؍۲۹۲۔]



صفحہ 4 از 4