فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

’’ میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ....میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ۔[صحیح بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب قول اللّٰہ تعالیٰ ﴿ وَ یَوْمَ حُنَیْنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ....﴾ (ح: ۴۳۱۵۔ ۴۳۱۷)۔ صحیح مسلم، کتاب الجہاد۔ باب غزوۃ حنین(حدیث:۱۷۷۶)۔]

پس آپ اپنا نام لے کر آگے بڑھ رہے تھے ‘ جب کہ صحابہ کرام بکھر چکے تھے۔اوردشمن مسلسل آپ کی طرف بڑھ رہاتھا۔اور آپ اپنی خچر پر سوار دشمن کی طرف بڑھ رہے تھے ؛ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی خچر کی لگام تھامی ہوئی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوٹ لیا کرتے تھے ‘اس لیے کہ آپ ان سب سے زیادہ بہادر تھے ؛ اگرچہ لوگوں میں ایسے بھی تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ لوگوں کو قتل کیا تھا۔

جب امام میں قلبی شجاعت کی ضرورت ہوتی ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی زیاد دلیر وبہادر تھے۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان و علی ‘طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر بہادر تھے۔ جو انسان بھی صحابہ کرام کے حالات وواقعات جانتا ہے ‘ اسے ان باتوں کا علم ہے۔ 

آپ آغاز اسلام ہی سے ان خطرات میں گھرے رہے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبتلا تھے۔مگر کبھی بزدلی دکھائی نہ بے قراری کا اظہار کیااورنہ ہی پیچھے ہٹے۔ بلکہ خطرات و مہالک میں کود کراپنی جان پر کھیل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے۔مشرکین سے مال و جان اور زبان سے جہاد میں حصہ لیتے۔یہ تمام باتیں گزر چکی ہیں ۔

جنگ بدر میں سائبان کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ تھے؛ حالانکہ سب یہ بات جانتے تھے کہ مشرکین کا اصل ہدف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔مگر آپ بالکل ثابت قلب تھے‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد و نصرت کر رہے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے لگے تو آپ فرما رہے تھے:

’’ اللہم أنجزلي ما وعدتني ؛ اللہم إن تہلک ہذہ العصابۃ ‘ لا تعبد؛ اللہم اللہم ۔‘‘

’’اے اللہ !جو وعدہ مجھ سے کیا ہے اس کو پورا کر۔اے اللہ! اگر یہ مختصر سی جماعت ہلاک ہو گئی تو دنیا میں تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ ہوگا؛ اے اللہ ! اے اللہ!....‘‘ [صحیح مسلم۔ کتاب الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر، (حدیث: ۱۷۶۳)۔ [ دعا کرنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی قدح وارد نہیں ہوتی، بلکہ یہ آپ کے کمال کی دلیل ہے اسباب پر تکیہ کرنا توحید کے منافی ہے اور اسباب سے بالکلیہ اعراض کرلینا بھی خلاف شرع ہے۔ رسول پر یہ فرض عاید ہوتا ہے کہ جہاد کے ذریعہ اقامت دین کی پوری پوری کوشش کرے اور اس راہ میں اپنی جان و مال اور بارگاہ ایزدی میں دعا کرنے اور اس پر مسلمانوں کو آمادہ کرنے سے گریز نہ کرے۔ بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہونا ایک عظیم جہاد ہے اور پیغمبر اس کا مامور ہوتا ہے ۔ جب دل پر خوف و ہیبت چھا جائے اور عجز و انکسار کا غلبہ ہو تو بعض چیزیں جو ذہن میں محفوظ ہوتی ہیں یاد نہیں رہتیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عظیم خصوصیت یہ ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست و بازو تھے۔ اور آپ کی مدافعت کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔[دراوی جی ]]

ابو بکر رضی اللہ عنہ برابر کہتے جا رہے تھے :

’’ اے اللہ کے رسول! آپ کی یہ دعا کافی ہے، اللہتعالیٰ آپ سے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں گے۔‘‘

اس سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یقین کامل؛اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر اعتماد اور عزم و ثبات؛شجاعت وبہادر پر روشنی پڑتی ہے؛ اور قدرتی بہادری پر ایمانی شجاعت وبہادری زیادہ تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت آپ سے زیادہ کامل تھی ‘اورآپ کا مقام ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقام سے اعلی تھا۔یہاں پر مقصودیہ بیان کرنا ہے کہ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد] لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے ۔ان سے بڑھ کر کوئی دوسرابہادر نہیں تھا۔

معاملہ ایسے نہیں جیسا کہ بعض جاہل لوگ گمان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام سے اعلی ہیں-نعوذ باللہ من ذلک-۔اس موقعہ پر دعا کرنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی قدح وارد نہیں ہوتی۔جیسا کہ بعض لوگوں نے اس بارے میں گفتگو کی ہے۔ اس میں ابن عقیل اور دوسرے لوگوں نے بھی بحث کی ہے۔[اس موقعہ پر دعاکرنا] یہ آپ کے کمال اور جامعیت کی دلیل ہے ۔آپ ہر مقام پر عظمت ورفعت کی انتہائی بلندیوں پر فائز ہیں ۔پس اس سے معلوم ہوا کہ صرف اسباب پر تکیہ کرنا توحید کے منافی ہے اور اسباب کو سرے سے ترک کردینا عقل و خردمیں قدح کا باعث ہے؛اور اعراض و اسباب سے بالکلیہ اعراض کرلینا بھی خلاف شرع ہے ۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ فرض عاید ہوتا ہے کہ جہاد کے ذریعہ اقامت دین کی پوری پوری کوشش کریں اور اس راہ میں اپنی جان و مال اور بارگاہ ایزدی میں دعا کرنے اور اس پر مسلمانوں کو آمادہ کرنے سے گریز نہ کریں ۔ بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہونا ایک عظیم جہاد ہے؛ اور مرغوب کے حصول اور مکروہ سے نجات کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے؛اور پیغمبر اس کا مامور ہوتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمزور اور مفلس مہاجرین سے فتح کی دعاء کروایا کرتے تھے۔ اور جب بدر کے موقعہ پر قریش آئے ؛ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ[مقام بدرپر] موجود تھے ؛ اور آپ نے اپنے صحابہ کو کفار کے مقتل کی خبر بھی دیدی تھی ؛ آپ نے فرمایا تھا:

صفحہ 2 از 4