فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری] - ردِ رافضیت |…

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 4

فصل:....[حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری]

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:چوتھی دلیل: ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ سب لوگوں سے زیادہ شجاع تھے۔ آپ کی تلوار سے اسلام کے قواعد و ارکان ایمان میں پختگی آئی۔آپ کبھی بھی کسی بھی موقع پر پسپا نہیں ہوئے۔اور نہ ہی کبھی اپنے کسی قرابت دار کو تلوار سے قتل کیا اور تلوار ہی سے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تکلیفات کو دور کیا۔ آپ دوسرے لوگوں کی طرح جنگ سے کبھی نہیں بھاگے تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بستر پر رات گزاری تو اپنی جان پر کھیل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر لپیٹ کر سو گئے۔ مشرکین نے آپ کو ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم گمان کیا۔حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے پر تمام مشرکین کااتفاق ہو گیا تھا ؛ اورا نہوں مسلح ہوکر آپ کا گھیراؤ کرلیا تھا۔وہ [نماز] فجر کا انتظار کررہے تھے تاکہ آپ کو کھلے عام قتل کریں ۔اور آپ کا خون قبائل میں بٹ جائے۔اور بنی ہاشم دیکھ لیں کہ قاتلین میں ہر قبیلہ کے لوگ موجود ہیں ؛ اور ان کے لیے اتنی بڑی تعداد کے قتل میں شریک ہونے کی وجہ سے خون کا بدلہ لینا ممکن نہ رہے۔اور ہر قبیلہ اپنے افراد کی حفاظت کے لیے مستعد رہے۔یہ[تدبیر] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کی حفاظت کا سبب بن گئی ۔سلامتی پوری ہوئی۔ اس غرض نے ان کو ایک ملت کی لڑی میں پرو دیاتھا ۔لیکن جب لوگوں نے صبح کی اور انہوں نے آپ کی یہ بہادری دیکھی تو انہیں اپنے آپ پر غصہ آیا ‘اورآپ کو پہچان لینے کے بعد وہ لوگ بکھر گئے۔وہ اس حالت میں پلٹے کہ ان کے تمام حیلے ناکام ہوچکے تھے اور ان کی تدبیریں الٹ چکی تھیں ۔ ‘‘ [شیعہ مصنف کا بیان ختم ہوا]

[جواب]: اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بہادر ترین صحابہ میں سے تھے۔جن کی شجاعت سے اللہ تعالیٰ نے نصرت اسلام کی خدمت لی ہے۔آپ کا شمار مہاجرین و انصار کے بڑے بزرگ سابقین اولین میں سے ہوتا ہے۔آپ ان لوگوں کے سردار ہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا؛ اور اپنی تلوار سے کئی کفار کوقتل کیا ۔ مگر یہ آپ کی خصوصیت نہیں ، بلکہ متعدد صحابہ اس میں آپ کے سہیم و شریک تھے۔اس وجہ سے دوسرے بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر آپ کی فضیلت ثابت نہیں ہوسکتی۔تو پھر چہ جائے کہ باقی خلفاء راشدین پر آپ کی فضیلت ثابت ہوجائے‘خلیفہ کے لیے متعین ہونا تو دور کی بات ہے۔

’’شیعہ مصنف کا یہ کہنا کہ :’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بہادر تھے ۔‘‘

یہ بات جھوٹ ہے۔بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اشجع الناس[تمام لوگوں سے بہادر] تھے۔جیسا کہ صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک روز اہل مدینہ گھبرا کر جدھر سے آواز آرہی تھی ادھر کو چل پڑے، کیا دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو طلحہ کے گھوڑے پر سوار تلوار گلے میں ڈالے اس طرف سے واپس آتے ہوئے ملے ؛ آپ پہلے ہی اس آواز کی سمت چل پڑے تھے۔ آپ فرما رہے تھے ’’ مت گھبراؤ۔‘‘ [صحیح بخاری، کتاب الجہاد۔ باب الحمائل و تعلیق السیف (حدیث:۲۹۰۸)، صحیح مسلم ۔ کتاب الفضائل باب شجاعتہ رضی اللّٰہ عنہم (حدیث:۲۳۰۷)۔]

امام بخاری فرماتے ہیں : آپ واقعہ کی خبر لیکر واپس آرہے تھے کہ لوگوں سے ملاقات ہوئی۔‘‘

مسند میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سخت خطرہ کا موقع ہوتا تو آپ سب سے آگے آگے دشمن کے قریب تر ہوا کرتے تھے۔[مسند احمد(۱؍۸۶)۔صحیح۔]

شجاعت [بہادری]کی تفسیر دو چیزوں سے کی جاسکتی ہے :

۱۔ قوت قلب اور خطرات میں ثابت قدم رہنے کا نام ۔

۲۔ جسمانی طور پر سخت جنگ وقتال کرنا‘ بہت سارے لوگوں کو قتل کرنا؛ تاکہ ایک عظیم مقتل سجادیا جائے۔

پہلی چیز شجاعت ہے ۔جب کہ دوسری چیز جسمانی قوت پر دلالت کرتی ہے اور ایسا ہر گز نہیں ہوتا کہ جس کا بدن قوی ہو اس کا دل بھی قوی ہے ‘یا اس کے برعکس معاملہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کوئی انسان بہت سخت جنگ و جدال کرتا ہے اور بہت سارے لوگوں کو قتل کرتا ہے ؛ لیکن یہ اس وقت جب کوئی اسے حفاظت فراہم کرنے والا ہو۔ اور اگر اسے خوف محسوس ہوجائے تو پھر اس پر بزدلی چھاجاتی ہے۔ اوراس کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔اور آپ کسی ایسے انسان کو بھی دیکھ سکتے ہیں جو ثابت القلب ہو ‘مگر اس نے اپنے ہاتھ سے بہت سارے لوگوں کو قتل نہ کیا ہو۔ ایسا انسان خوف کے اوقات میں ثابت قدم رہنے والا اور انتہائی خطرناک موڑ پر پیش قدمی کرنے والاہوتا ہے۔ جنگی سالاروں اور قیادت میں اور ہر اول دستہ کے لوگوں میں اس خصلت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے کہ پیش قدمی کرنے والا جب بہادر اور ثابت ِ قلب ہو ؛ تو وہ آگے ہی بڑھتا رہتا ہے ؛ پیچھے نہیں ہٹتا۔ پس اس کے ساتھی بھی جنگ و قتال کرتے ہیں ۔ اوراگر بزدل اور کمزور ڈرپوک ہو تو وہ پسپا ہوجاتا ہے ‘آگے نہیں بڑھ سکتا ‘اورنہ ہی ثابت قدم رہ سکتا ہے۔بھلے اس کا بدن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ [شدید گرفت اور جنگی مہارت بھی شجاعت میں داخل ہے]۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت ہر لحاظ سے کامل تھی‘وہ شجاعت جو میدان جنگ میں سالار لشکر سے مطلوب ہوتی ہے۔اس انتہائی شجاعت کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن خلف کے سوا کسی کو قتل نہیں کیا تھا۔[سیرۃ ابن ہشام(ص:۳۸۹)۔] اسے غزوۃ احد میں قتل کیا تھا۔اس سے پہلے یا بعد آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو قتل نہیں کیا۔حالانکہ آپ کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ آپ تمام صحابہ سے زیادہ بہادر تھے۔تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنگ حنین میں منتشر ہو گئے تھے۔ مگر آپ خچر پر سوار ہو کر بدستور دشمن کی طرف بڑھے جا رہے تھے۔آپ کی خچر نہ بھاگتی تھی اورنہ ہی پیچھے ہٹتی تھی۔اور اس کیساتھ ساتھ آپ 

فرماتے جارہے تھے:

اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ ....اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

صفحہ 1 از 4