سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا - دفاعِ…

سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ روانہ ہو گئے، آپؓ کی فوج چھ سات ہزار کے درمیان تھی اور ان کی منزل مقصود فلسطین تھی۔ یہ لشکر بحر احمر کے ساحلی راستہ سے ہوتا ہوا بحر مردار کے پاس وادی عربہ میں پہنچا۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار مجاہدین پر مشتمل دستہ تیار کیا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی قیادت میں روم کی پیش قدمی کی جانب روانہ کیا، یہ دستہ رومیوں سے جا ٹکرایا اور دشمن کی قوت کو پارہ پارہ کر کے ان پر فتح حاصل کی اور بعض قیدیوں کے ساتھ واپس ہوا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان قیدیوں سے پوچھ گچھ کی جس سے یہ پتہ چلا کہ رومی فوج رویس کی قیادت میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ ان معلومات کی روشنی میں عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو منظم کیا۔ جب رومی حملہ آور ہوئے تو مسلمان ان کا حملہ روکنے میں کامیاب ہو گئے اور رومی فوج کو واپس ہونے پر مجبور کر دیا اور اس کے بعد ان پر جوابی حملہ کر کے دشمن کی قوت کو تباہ کر دیا اور راہ فرار اختیار کرنے اور میدان چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اسلامی فوج نے ان کا پیچھا کیا اور روم کے ہزاروں فوجی مارے گئے اور اسی پر یہ معرکہ ختم ہو گیا۔

(العملیات التَّعرضیّۃ الدِّفاعیَّۃ عند المسلمین: صفحہ 143)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہر جرنیل کو اس بات کا حکم دیا تھا کہ وہ دوسرے کے راستہ سے ہٹ کر راستہ اختیار کرے کیونکہ آپؓ کے پیش نظر اس میں بڑی مصلحتیں تھیں گویا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہاں اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کی اقتدا کی تھی،

(البدایۃ والنہایۃ:  جلد 4 صفحہ 7)

جس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا:

وَقَالَ يٰبَنِىَّ لَا تَدۡخُلُوۡا مِنۡ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادۡخُلُوۡا مِنۡ اَبۡوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ‌ وَمَاۤ اُغۡنِىۡ عَنۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ‌ؕ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ‌ وَعَلَيۡهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُتَوَكِّلُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ يوسف آیت 67)

ترجمہ: اور (ساتھ ہی یہ بھی) کہا کہ : میرے بیٹو ! تم سب ایک دروازے سے (شہر میں) داخل نہ ہونا، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا میں اللہ کی مشیت سے تمہیں بچا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے، اور جن جن کو بھروسہ کرنا ہو، انہیں چاہیے کہ اسی پر بھروسہ کریں۔


صفحہ 5 از 5