سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا - دفاعِ…

سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

آپؓ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سے چار ہزار تک تھی اور اس لشکر کی منزل مقصود حمص تھی۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ مدینہ سے روانہ ہوئے، وادی القریٰ سے ہوتے ہوئے حجر (مدائن صالح) پہنچے اور وہاں سے ’’ذات منار‘‘ پھر ’’زیزا‘‘ اور پھر وہاں سے ’’موآب‘‘ پہنچے، وہاں دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی، ان سے قتال کیا، پھر آپؓ سے انہوں نے مصالحت کر لی۔ یہ پہلی صلح تھی جو شام میں ہوئی۔ پھر جابیہ کی طرف آگے بڑھتے رہے۔

(الکامل لابن الأثیر: جلد 2 صفحہ 66)

یہ لشکر پہلے لشکر کا دایاں بازو اور دوسرے لشکر کا بایاں بازو تھا۔

(العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین: نہاد عباس: صفحہ 141)

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ قیس بن ہبیرہ بن مسعود المرادی عرب کے مشہور سورما تھے۔ ان کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو روانہ ہونے سے قبل وصیت فرمائی۔ فرمایا: تمہارے ساتھ ایک عظیم شرف و منزلت کا آدمی عرب کے سورماؤں میں سے ہے، اس کی رائے اور مشورے سے اور جنگی قوت سے مسلمان بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ اس کو اپنے سے قریب رکھنا اس کے ساتھ لطف و کرم کا برتاؤ کرنا اور اسے یہ محسوس کرانا کہ تم اس سے بے نیاز نہیں ہو اور نہ اس کو معمولی سمجھتے ہو۔ اس سے تمہیں اس کی خیر خواہی حاصل رہے گی اور دشمن کے مقابلہ میں اس کی کوششیں تمہارے ساتھ ہوں گی پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قیس بن ہبیرہ کو بلایا اور فرمایا: میں تمہیں ابوعبیدہ امین امت کے ساتھ بھیج رہا ہوں۔ ان پر اگر ظلم کیا جائے تو وہ اس کے بدلہ میں ظلم نہیں کرتے اور اگر ان کے ساتھ بدسلوکی کی جائے تو معاف کر دیتے ہیں اور اگر ان سے تعلق توڑا جائے تو اس کو جوڑنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ اہل ایمان کے ساتھ بڑے رحیم و شفیق ہیں اور کفار کے مقابلہ میں سخت ہیں۔ تم ان کی حکم عدولی نہ کرنا اور ان کی رائے کی مخالفت نہ کرنا۔ یہ تمہیں خیر ہی کا حکم دیں گے، میں نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمہاری بات سنیں۔ لہٰذا تم انہیں تقویٰ کا حکم دینا۔ ہم سنتے آئے ہیں کہ تم طاقتور اور بڑے شریف انسان ہو اور دور جاہلیت کے تجربہ کار سردار ہو جبکہ جاہلیت میں گناہ ہی گناہ پایا جاتا تھا لہٰذا تم اپنی قوت و طاقت اور بہادری کو اسلام کی حالت میں مشرکین اور ان لوگوں کے خلاف استعمال میں لاؤ جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اجر عظیم اور مسلمانوں کے لیے عزت و غلبہ رکھا ہے۔ یہ نصیحت سن کر قیس بن ہبیرہ نے عرض کیا: اگر آپ باقی رہے (اللہ آپ کو باقی رکھے) تو آپؓ کو میرے بارے میں مسلمانوں کی حفاظت اور کفار کے خلاف جہد وکوشش سے متعلق ایسی خبریں پہنچیں گی جو آپؓ کو محبوب و پسندیدہ ہوں گی اور آپؓ خوش ہو جائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم پر رحم فرمائے، ایسا کرو۔ اور جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جابیہ میں رومیوں کے دو جرنیلوں کے ساتھ ان کی مبارزت اور ان دونوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: قیس نے سچ کر دکھایا اور وعدہ پورا کر دیا۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 26، 27 )

یہاں ہم یہ ملاحظہ کر رہے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قیس بن ہبیرہ کی ہمت کو ابھارا اور ان کے اندر پوشیدہ طاقتوں میں جوش پیدا کیا اور ان کی اعلیٰ درجہ کی ممکنہ قوت کو بیدار کر کے اسلام کی حمایت اور جہاد میں لگا دیا۔ بلاشبہ عظماء و قائدین کے فضائل کو ذکر کرنے اور ان کی تعریف کرنے سے ان کی معنویات میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کو عظیم قوت حاصل ہوتی ہے، جو انہیں فدائیت اور قربانی پر ابھارتی ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 206)

لشکر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فوج کے ساتھ فلسطین روانہ کیا۔ عمرو بن عاصؓ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ اختیار دیا تھا کہ چاہیں تو اپنے اس عمل پر قائم رہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سونپا تھا، (یہ قضاعہ کے صدقات پر عامل تھے۔) اور چاہیں تو وہ ان کے لیے وہ اختیار کریں جو دنیا و آخرت میں ان کے لیے بہتر ہو مگر یہ کہ موجودہ عمل ان کو محبوب ہو۔ اس پر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے آپ کو جوابی خط تحریر کیا: میں اسلامی تیروں میں سے ایک تیر ہوں اور اللہ کے بعد آپ اس تیر کو چلانے والے اور جمع کرنے والے ہیں، تو آپ دیکھیں کہ کون سا تیر قوی، افضل اور خوفناک ہے اس کو چلا دیں۔

(إتمام الوفاء بسیرۃ الحلفاء: صفحہ 55)

جب آپؓ مدینہ واپس آئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ مدینہ سے باہر جا کر خیمہ زن ہو جائیں تاکہ لوگ آپؓ کے ساتھ جمع ہو جائیں۔ اشراف قریش میں سے بہت سے لوگ آپؓ کے ساتھ شامل ہوئے، جن میں حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ جب آپؓ نے روانہ ہونے کا ارادہ فرمایا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کو رخصت کرنے نکلے، فرمایا: اے عمرو! تم رائے و تجربہ کے مالک ہو اور جنگی بصیرت رکھتے ہو، تم اپنی قوم کے اشراف اور مسلم صلحاء کے ساتھ جا رہے ہو اور اپنے بھائیوں سے ملو گے۔ لہٰذا ان کی خیر خواہی میں کوتاہی نہ کرنا اور ان سے اچھے مشورہ کو نہ روکنا کیونکہ تمہاری رائے جنگ میں قابل تعریف اور انجام کار بابرکت ہو سکتا ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کتنا بہتر ہے میرے لیے کہ میں آپؓ کے گمان کو سچ کر دکھاؤں اور آپؓ کی رائے میرے بارے میں خطا نہ کرے۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 48، 51)

صفحہ 4 از 5