سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا - دفاعِ…

سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

ذمہ دار کو چاہیے کہ سچے وفادار اور عقلمند سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی ہم نشینی اختیار کرے اگرچہ بسا اوقات ان سے ناپسندیدہ تنقید و توجیہ سننی پڑے کیونکہ اس سے اس کو اور اس کی رعایا ہی کو فائدہ ہوگا۔ اسی طرح اس کو چاہیے کہ لہو و لعب اور دنیوی اغراض و مقاصد کے دلدادہ لوگوں کی ہم نشینی اختیار نہ کرے کیونکہ ایسے لوگوں کی باتوں اور تعریفی کلمات سے اگرچہ انسان مانوس ہوتا ہے لیکن ایسے لوگ اہم سنجیدہ امور میں غور و فکر سے مانع ثابت ہوتے ہیں اور ہوش اس وقت آتا ہے جب کہ آفت اس پر اور اس کی رعیت پر آن پڑتی ہے۔

سپہ سالار اور قائدین کو چاہیے کہ دشمن کے مقابلہ میں ڈٹ جائیں، بزدلی نہ دکھائیں کیونکہ سپہ سالار کی بزدلی اس کی فوج میں سرایت کر جائے گی، جس سے لازمی نتیجہ شکست و ناکامی ہے اور جنگ کے علاوہ دیگر امور میں ذمہ دار کو دلیر ہونا چاہیے کیونکہ اس کے کمزور پڑنے سے اس کے ماتحتوں پر ضعف طاری ہوگا اور پھر کام کی ادائیگی کا معیار گھٹ جائے گا اور نتیجہ کمزور پڑ جائے گا۔

سپہ سالار و قائد کو مال غنیمت میں خیانت سے بچنا چاہیے۔ تقسیم غنیمت سے قبل اس میں سے کچھ نہ لے اور میدان جنگ کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی ذمہ دار کو اپنے عمل سے کسی ایسے دنیاوی استفادہ سے احتراز لازم ہے جو اس کے لیے شرعاً حلال نہ ہو مثلاً وہ ہدیہ و تحفہ قبول کرنا جس کا مقصد ذمہ دار کو حق سے پھیرنا ہوتا ہے یہ بھی خیانت ہے۔ اس خیانت کا نتیجہ فقر و محتاجی اور فتح و نصرت سے محرومی ہوتا ہے جیسا کہ اس وصیت کے اندر بیان کیا گیا ہے۔

مندرجہ بالا فوائد سے اس وصیت کی عظمت و اہمیت کا پتہ چلتا ہے جو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک سپہ سالار کو کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ مسلمانوں کے مسائل کی فکر میں زندگی بسر کرتے تھے۔ سپہ سالار کو جو مسائل پیش آنے والے ہوتے سیدنا ابوبکرؓ ان کا صحیح تصور قائم کرتے اور پھر انہیں ایسی معلومات فراہم کرتے جو ان مشکلات سے بچنے اور ان کو حل کرنے کے سلسلہ میں مفید ومعاون ثابت ہوں۔

یہ اور اس طرح کی دیگر وصیتیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بے شمار مواقف میں مزید اضافہ ہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 196)

آپ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حکومت چلانے کے سلسلہ میں غور و فکر کریں گے تو آپ دیکھیں گے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میدان سیاست میں انتہائی ماہر تھے اور جب سپہ سالار اور قائدین حرب کی روانگی کا منظر دیکھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ سیدنا ابوبکرؓ جنگی امور میں انتہائی ماہر ہیں۔ ایسا محسوس ہوگا کہ گویا سیدنا ابوبکرؓ خود میدان جنگ میں قائدین کے ساتھ موجود ہیں، اور جب آپؓ ان کی رحمت و تالیف قلب کو دیکھیں گے تو پتہ چلے گا کہ آپؓ دعوت الی اللہ کے میدان میں انتہائی ماہر ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ مؤمنین کے ساتھ انتہائی شفیق ومہربان تھے۔ سچے اور اچھی کارکردگی پیش کرنے والوں کے درجات کو بلند کرنے والے، صلاحیت و قدرت رکھنے والوں سے باخبر اور اللہ کے دشمنوں کفار و منافقین پر انتہائی سخت اور قوی تھے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 197)

لشکر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ: شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی روانگی کے تین دن بعد کی تاریخ مقرر فرمائی۔ جب تیسرا دن گذر گیا تو سیدنا ابوبکرؓ نے شرحبیل رضی اللہ عنہ کو الوداع کہا اور فرمایا: اے شرحبیل! کیا تم نے یزید بن ابی سفیان کو جو وصیت میں نے کی اس کو نہیں سنا؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور سنا ہے۔ فرمایا: میں تمہیں بھی وہی وصیت کرتا ہوں اور مزید برآں ایسی باتوں کی وصیت کرتا ہوں جن کی وصیت یزید کو نہ کر سکا تھا۔ میں تمہیں نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنے، میدان جنگ میں ظفر مند ہونے یا شہادت تک ڈٹے رہنے، مریضوں کی عیادت کرنے، جنازہ میں شرکت کرنے اور ہر حال میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وصیت سن کر شرحبیل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ہی مدد کرنے والا ہے اور اللہ کی جو مشیت ہوتی ہے وہی ہوتا ہے۔

(فتوح الشام للأزدی: صفحہ 15)

شرحبیل رضی اللہ عنہ کے لشکر کی تعداد تین ہزار سے چار ہزار تک تھی۔ آپ کو یہ حکم فرمایا کہ تبوک اور بلقاء جائیں اور پھر بصریٰ کا رخ کریں اور یہ آخری منزل ہو۔ شرحبیل رضی اللہ عنہ بلقاء کی طرف آگے بڑھے، کوئی قابل ذکر مقابلہ نہ ہوا۔ آپ کا لشکر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بائیں اور لشکر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب چلتے ہوئے بلقاء پہنچا اور اندر گھس گیا اور بصریٰ پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا لیکن فتح حاصل نہ ہو سکی کیونکہ یہ رومیوں کے محفوظ اور مضبوط مراکز میں سے تھا۔

(ابوبکر الصدیق: نزار الحدیثی: صفحہ 62)

لشکر ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ: جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کرنے کا عزم فرمایا تو بلایا اور انہیں الوداع کہتے ہوئے فرمایا: اس شخص کی طرح میری بات سنو جو سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کی نیت سے سنتا ہے۔ تم بڑے لوگوں، عرب خانوادوں، مسلم صالحین اور جاہلیت کے سورماؤں کے ساتھ روانہ ہو رہے ہو، جو جاہلیت میں عصبیت وحمیت میں لڑ رہے تھے اور اب وہ اجر و ثواب اور اچھی نیت کی بنیاد پر قتال کر رہے ہیں لہٰذا تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرو اور حقوق کے معاملہ میں تمام لوگ تمہاری نگاہ میں برابر ہوں۔ اللہ سے مدد طلب کرو وہ مددگار ہونے کی حیثیت سے کافی ہے، اور اللہ ہی پر توکل کرو وہ کارساز ہونے کی حیثیت سے کافی ہے۔ کل ان شاء اللہ روانہ ہو جاؤ۔

(فتوح الشام للازدی: صفحہ 17)

صفحہ 3 از 5