سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا - دفاعِ…

سپہ سالاروں کو متعین کرنا اور فوج کو روانہ کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

وعظ و نصیحت میں ایجاز و اختصار ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کیونکہ کثرت کلام کی صورت میں باتیں بھول جاتی ہیں اور مقصود فوت ہو جاتا ہے اور سامع متکلم و واعظ کی باتوں کا استیعاب کرنے اور اس کے وعظ و نصیحت سے استفادہ کرنے کے بجائے اس کی فصاحت و بلاغت میں محو ہو کر رہ جاتا ہے اور اگر متکلم و واعظ فصیح اللسان نہیں ہے تو پھر طول کلام سے کبیدہ خاطر ہو کر اکتاہٹ محسوس کرنے لگتا ہے اور پھر متکلم کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔

اگر مسئول و ذمہ دار اپنی اصلاح کرے، اپنے عیوب پر نگاہ رکھے اور اپنے آپ کو دوسروں کے لیے بہترین قدوہ اور آئیڈیل بنائے تو یہ اس کے ماتحتوں کی اصلاح کا سبب ثابت ہوتا ہے۔

ظاہر و باطن ہر اعتبار سے نماز کو مکمل طور سے ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے، ظاہری اعتبار سے یوں کہ نماز کے اقوال و افعال کو مکمل کیا جائے اور باطنی اعتبار سے یوں کہ اس میں خشوع وخضوع اور حضور قلب کا مکمل اہتمام ہو اور اس طرح مکمل نماز کے ذریعہ سے ہی زمین میں اللہ کا ذکر قائم کیا جا سکتا ہے اور ایسی نماز ہی اعمال و سلوک کو درست و مہذب کرتی، دلوں کو قوت بخشتی، نفوس کو راحت پہنچاتی اور مشکلات کے وقت مسلمانوں کے لیے جائے پناہ ثابت ہوتی ہے۔

دشمن کے سفراء جب آئیں تو ان کا اکرام کیا جائے اور اسلامی فوج کی صورت حال سے واقف ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ اکرام کرنا ایک طرح کی اسلام کی دعوت ہے کیونکہ اس سے دنیا کو مسلمانوں کے مکارم اخلاق کا پتہ چلتا ہے لیکن یہ اکرام اس حد کا نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں مسلمانوں کے راز ونیاز کا پتہ چل جائے بلکہ ان کے سامنے مسلم فوج کی قوت کا اظہار ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی قوم کو جا کر خوف دلائیں اور اس طرح وہ مسلمانوں سے مرعوب ہوں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 194)

اسرار کو مکمل طور سے محفوظ رکھا جائے، اس سلسلہ میں ذرا بھی سستی اور تہاون نہ کیا جائے۔ خاص طور سے وہ اسرار جو مسلمانوں کے امور عام سے متعلق ہوں۔ جب تک راز انسان اپنے اندر محفوظ رکھے ہوئے ہے تب تک ایک دانا شخص اپنے امور میں تصرف کر سکتا ہے اگرچہ ان کے وجوہ مختلف ہوں لیکن جب راز افشاء ہو جاتے ہیں تو وہ انسان کے قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور پھر امور گڈمڈ ہو کر رہ جاتے ہیں۔

مشورہ طلبی کی درستی اس کے نتائج میں غور وفکر سے اہم ہے کیونکہ اگرچہ مشیر عمدہ رائے اور عقل کامل کا مالک ہو لیکن وہ اس وقت تک مشورہ طلب کرنے والے کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک کہ اس کے سامنے مسئلہ بالکل واضح نہ ہو۔ اگر مشورہ طلب کرنے والا تفاصیل کو مخفی رکھتا ہے تو وہ اپنے اوپر ظلم ڈھاتا ہے کیونکہ اس مشورہ کا نقصان اسی کو ہوگا۔

قائد اور ذمہ دار کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ گھل مل کر رہنا چاہیے تاکہ ان کے معاملات کی اسے مکمل خبر رہے۔ ایسی صورتِ حال میں اسے ان کی مشکلات کو سمجھنے اور ان کا حل پیش کرنے میں بڑی مدد ملے گی اور جو ذمہ دار اپنے ماتحتوں سے بالکل الگ تھلگ رہتا ہے ان کے ساتھ گھل مل کر نہیں رہتا صرف خاص خاص بڑے طبقہ کے لوگوں کے ساتھ رہتا ہے، اس تک صحیح معلومات نہیں پہنچتیں، صرف یہی خاص لوگ جو بتا دیں وہی اس کو معلوم ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ لوگ بات کو پوری تفصیلات کے ساتھ اس تک نہیں پہنچاتے اور بسا اوقات ان معاملات کی توضیح و تجزیہ اس کے سامنے غلط طریقہ سے پیش کرتے ہیں۔

مسلمانوں کی حفاظت اور ان پر پہرہ کا اہتمام ضروری ہے۔ خاص کر پرخطر حالات میں اور پھر ان (محافظوں اور پہرہ داروں) پر مکمل بھروسہ کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ ان کی نگرانی ضروری ہے تاکہ ان کی طرف سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

ذمہ دار کو چاہیے کہ وہ حکم عدولی کرنے والوں کو سزا دینے میں اعتدال کی راہ اختیار کرے، مستحقین کو سزا دینے میں کوتاہی اور سستی نہ برتے کیونکہ اس سے وہ مزید مخالفت اور حکم عدولی پر جری ہو جاتے ہیں پھر دوسروں کو اس سے حکم عدولی اور مخالفت کی جرأت پیدا ہو جاتی ہے اور فساد و انارکی پھیلتی ہے اور نہ ہی سزا دینے میں سختی کا طریقہ اختیار کرے کیونکہ اس سے رعایا کے اندر نفرت پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ ناراضی کا شکار ہو کر گروہ بندی اور پارٹی بازی پر اتر آتے ہیں بلکہ سزا کے نفاذ کے سلسلہ میں حکمت و توازن، دوراندیشی اور غور و فکر ضروری ہے تاکہ تربیتی مقصد حاصل ہو جائے اور کوئی فساد برپا نہ ہو اور نہ تنقید و ناراضی پر لوگ اتر آئیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 195)

ذمہ دار کو انتہائی بیدار مغز ہونا چاہیے اور دائرہ کار کے اندر جو کچھ ہو اس کی پوری خبر رکھے تاکہ اس کی رعایا کو یہ احساس ہو کہ ان کے امور و مسائل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اچھی کارکردگی پیش کرنے والوں کے کام میں مزید حسن پیدا ہوگا اور تقصیر و کوتاہی کرنے والے اپنی غلط حرکت سے باز آجائیں گے۔ لیکن یاد رہے جاسوسی کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان کی فضیحت شمار ہو گی اور اس سے محبت و مودت اور پسندیدگی و شکر گذاری کا وہ تعلق منقطع ہو جائے گا، جو مسئول کو اس کی رعیت کے افراد سے مربوط رکھتا ہے۔ یہ تعلق جب تک قائم ہے جادئہ حق سے ہٹے ہوئے لوگوں کو ان مخالفتوں کے ارتکاب کا موقع نہیں ملتا، جن سے معاشرہ میں فساد و انار کی جنم لیتی ہے۔ جب یہ تعلق منقطع ہو جائے اور برائی سے روکنے والا اللہ سے تقویٰ بھی نہ ہو، تو پھر شہوتوں کو روکنے والی اہم چیز ختم ہو جاتی ہے اور پھر مسائل کا علاج مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے لیے بڑی قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کے مفاسد معروف ہیں۔

صفحہ 2 از 5