فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 7

اور اسے بھی جملہ طور پر عجماء کے حکم میں شامل مانا ہے۔ اور ان میں سے بعض نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کے واقعہ کو ضعیف قراردیا ہے۔[المحلی ۸؍۱۴۶۔ ابن حزم فر ماتے ہیں : ’’رات اوردن میں کسی وقت بھی چوپایہ کوئی جانی یا مالی نقصان کردے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔لیکن اس کے مالک سے کہا جائے گا کہ اسے باندھ کر رکھے۔اگروہ اسے باندھ کر رکھے تو درست ہے ۔ اگر دوبارہ ایسی حرکت کا ارتکاب کیا تو جانور بیچ کر تاوان ادا کیا جائے گا۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :’’اگر جانور کسی کو زخمی کردے تواس کے مالک سے تاوان نہیں لیا جائے گا۔‘‘ یہی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور ابو سلیمان رحمہ اللہ کامسلک ہے ۔ جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ چوپایہ رات یا دن میں کسی وقت بھی کوئی نقصان کردے تو اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔ قاضی شریح اور امام شعبی رحمہما اللہ کا یہی فیصلہ ہے۔انہوں نے اسی حدیث براء سے استدلال کیا ہے۔ ابو محمد ابن حزم فرماتے ہیں : اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہوجاتی تو ہم اسے ہی اختیار کرتے۔ مگر یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ نیز انہوں نے حضرت سلیمان کے فیصلہ سے بھی استدلال کیا ہے ۔ اورکہا ہے : اس کی موجود گی میں اگر کوئی حدیث ہوتی بھی تو اس کا کوئی تاوان نہ ہوتا۔]

ہاں اگر مویشیوں کے مالک نے ظلم کیا ہو‘اور مویشیوں کو لوگوں کے کھیتوں کی طرف چھوڑا ہوا؛ یا کھیتیوں کے قریب لے جاکر چھوڑا ہو؛ یا پھر گدھے کے اصطبل میں اسکے مالک کی اجازت کے بغیر داخل کیا ہو؛ اوراس نے گدھے کو ماردیا [ یا نقصان پہنچایا] تو اس موقعہ پر مالک اپنے ظلم کی وجہ سے تاوان ادا کرے گا۔

یہ مسئلہ توگدھے اور گائے کا ہے اور اگر گائے کے مالک نے کوئی کوتاہی نہ کی ہو؛ کوتاہی گدہے کے مالک کی طرف سے ہو؛تو پھر جیسا کہ اگر دن کے وقت مویشیاں کھیتی میں داخل ہوکر اسے تباہ کردیں ‘ [ویسے ہی یہ فیصلہ بھی ہوگا] اس لیے کہ گدھے کے مالک نے اس کا دروازہ بند نہیں کیا۔جیسا کہ اگر گائے گدھے کے اصطبل میں داخل ہوجائے ‘ اور گدھا سویا ہوا ہو ؛ اور گائے کے مالک نے جان بوجھ کر گائے کو وہاں چھوڑا ہو تو اس صورت میں گائے کے مالک پر تاوان ہوگا۔ مجرد گائے کی گدھے پر زیادتی یا گدھے کی گائے پر زیادتی کو مالک کی کوتاہی کے بغیر ہی اگر تاوان کا سبب قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چوپاؤں کو بھی انسان کی طرح سمجھا جانے لگا ہے اور اس کے نقصان کا تاوان اس پر لگایا جارہا ہے۔حالانکہ یہ مسلمانوں کا حکم نہیں ہے۔ جوکوئی ایسی باتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے نقل کرتا ہے ‘ وہ حقیقت میں آپ پر جھوٹ بولتا ہے۔

ہم کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں : یہ[شیعہ] لوگ جاہل ہیں ۔ جس چیز کو اپنے تئین مدح سمجھتے ہیں ‘ وہ اپنی طرف سے تراش کر جھوٹی مدح سرائی شروع کردیتے ہیں ۔ پس جھوٹ اور مدح کوجمع کرتے ہیں ۔نہ ہی اس میں کوئی مدح ہوتی ہے نہ ہی علم اور نہ ہی عدل ۔ وہ اپنی ان حرکات کی بنا پر خیر و عدل کی راہوں سے گمراہ ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بارے میں کلام پہلے اس آیت کی تفسیر میں گزرچکا ہے: ﴿یَہْدِی إِِلٰی الحَقِّ﴾ [یونس 35]


صفحہ 7 از 7