فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 7

کی ضرورت پیش آتی۔اور نہ ہی جس کے حق میں فیصلہ کردیا ہوتا اسے وہ چیز لینے سے منع فرماتے ۔ اور نہ ہی زوجین میں لعان کے ذریعہ تفریق کی جاتی۔اور آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ’’ اگریہ عورت اس شکل وصورت کا بچہ پیدا کرے تو وہ اس کے شوہر کا ہوگا اوراگر اس شکل و صورت کا ہوا تو اس کا ہوگا جس پر الزام لگایا گیا ہے ۔‘‘

پھرجب عورت کوبچہ پیدا ہوا تو وہ ناپسندیدہ شکل و صورت کا تھا ؛ تو آپ نے فرمایا: ’’ اگر کتاب اللہ میں اس کا فیصلہ پہلے نہ ہوچکا ہوتا تو میں اس کا فیصلہ خود کرتا۔ ‘‘[البخاری کتاب التفسِیرِ، سورۃ النورِ، باب ویدر عنہا العذاب۔سننِ بِی داود۲؍۳۷۰:کتاب الطلاقِ، باب فِی اللِعان۔سننِ التِرمِذِیِ۵؍۱۲؛ کتاب التفسِیرِ، سورۃ النورِ۔ ] پس آپ نے قسم کی بنا پر حکم کو نافذ کیا گواہی کی بنیاد پر نہیں ۔ 

اگر شیعہ کہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو الہام کے ذریعہ شرعی احکام سے باخبر کیا جاتا تھا تو اس کے اثبات کے لیے کسی شرعی دلیل کی ضرورت ہے؛ صرف الہام کی بنیاد پر فیصلہ کرنا جائزنہیں ۔اس لیے کہ جس انسان کے بارے میں نص سے ثابت ہے کہ اسے الہام ہوتاہے وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ؛ احادیث صحیحہ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ اُمَم سابقہ میں مُلہم من اللہ ہوا کرتے تھے، اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہوا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔‘‘[سبق تخریجہ] 

اس کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے دل میں کیے جانے والے الہام کی بنا پر کوئی فیصلہ صادر کرنے ؛ فتوی دینے یا عمل کرنے کا حق نہ تھا جب تک کہ وہ اسے کتاب و سنت پر پیش نہ کرتے۔ اگر ان کا الہام کتاب و سنت کے معیار پر پورا اترے گا تو اسے قبول کیا جائے گا ورنہ نہیں ۔

[اشکال] :شیعہ مصنف ذکر کرتا ہے کہ:’’ ایک گائے نے ایک گدھے کو مارڈالا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں فیصلہ صادر کیا تھا۔‘‘

[جواب]: [شیعہ نے اس کی کوئی اسناد ذکر نہیں کی]اورنہ ہی اس کی کوئی معروف سند ہے۔اور نہ ہی کتب حدیث و فقہ میں اس کا کوئی وجود ہے؛حالانکہ فقہاء کرام رحمہم اللہ کو اس قسم کے مسائل میں نص کی بہت سخت ضرورت ہوتی ہے۔ توپھر کسی ایسی چیز سے صحت امر پر کیسے استدلا کیا جاسکتا ہے ؛ جب کہ خود اس میں کوئی صحت نہیں پائی جاتی؛ بلکہ دلائل اس کی تردید کرتے ہیں ۔

اس کے ساتھ ہی یہ جو حکم حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے ‘ اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برقرار رکھا۔اگر اس کو اس کے ظاہر پر محمول کیا جائے تو یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوراجماع مسلمین کے خلاف ہوگا۔ اس لیے کہ صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ جُرْحُ الْعُجَمَآئِ جُبَارٌ‘‘[صحیح بخاری، کتاب الدیات، باب المعدن جبار(حدیث:۶۹۱۲)، صحیح مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب جرح العجماء جبار(حدیث:۱۷۱۰)۔]

’’اگر جانور کسی کو زخمی کردے تواس کے مالک سے تاوان نہیں لیا جائے گا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری ومسلم اور دوسرے محدثین نے روایت کیا ہے ‘اوراس کے صحیح ہونے پر علماء کرام کا اتفاق ہے ؛ اور اسے قبولیت بھی حاصل ہے اوراس پرعمل بھی ہے۔

عجماء أعجم کی تانیث ہے۔ہر چوپایہ جیسے :گائے؛ بھیڑ وغیرہ عجماء کہلاتاہے۔

اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ جب کوئی گائے یا بکری یا گدھا کسی چراگاہ میں چر رہے ہوں اوروہ کسی کے کھیت میں جا داخل ہوں ؛ کھیت کو تباہ کردے یا گدھے کو مار دے[یازخمی کردے]۔ دن کا وقت ہو اور مالک کا اس میں کوئی قصور نہ ہو؛ تو مویشی کے مالک سے کھیت کا تاوان وصول نہیں کیا جائے گا۔اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔اس لیے کہ اس میں اس چوپائے کے مالک کا قصور نہیں ہے۔

ہاں اگر رات کے وقت کسی کا مویشی کھیت میں داخل ہو کر نقصان کردے تو بقول اکثر علماء جیسے : امام مالک و شافعی و احمد رحمہم اللہ مویشی کا مالک نقصان کا ضامن ہو گا۔انکی دلیل حضرت سلمان علیہ السلام کے پاس پیش ہونے والا بکریوں اور کھیت کا معاملہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کا قصہ ہے ؛ جوکہ ایک کھیت میں داخل ہوگئی تھی اور اسے تباہ کردیا تھا ۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: جن کے مویشیوں نے رات کو نقصان کیا ہے ‘ان پر تاوان ہے ۔ اور باغ والوں کو اس باغ کی حفاظت کرنے کا حکم دیا۔[سنن أبي داؤد ۳؍۴۰۳؛ کتاب البیوع و الإجارات ‘ باب المواشی تفسد زرع قوم؛ (ح: ۳۵۶۹؛ ۳۵۷۰۔ سنن ابن ماجۃ ۲؍۷۸۱؛ کتاب الأحکام ‘ باب: الحکم فیما أفسدت المواشي۔ الموطأ ۲؍۷۴۷؛کتاب الأقضیۃ باب القضاء في الضواري والحریسۃ ۔اس روایت کا شمار مراسیل ثقات میں ہوتا ہے۔اہل حجاز اوراہل عراق علماء کے ہاں اسے قبول حاصل ہے۔اہل مدینہ کے ہاں اسی پر عمل ہے ۔]

جب کہ امام ابوحنیفہ و ابن حزم اور دوسرے علماء کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ:’’ مالک ضامن نہیں ہوگا۔‘‘

صفحہ 6 از 7