فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 7

قرعہ کا قصہ[ابن مطہر نے لکھا ہے کہ : دو مالک ایک لونڈی پر ایک ہی طہر میں واقع ہوگئے۔لونڈی حاملہ ہوگئی۔پس مسئلہ میں اشکال پیدا ہوگیا۔ یہ معاملہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا۔تو آپ نے قرعہ اندازی کرنے کا حکم دیا۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلہ کو درست قرار دیا۔ اور فرمایا: ’’ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم اہل بیت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا جو حضرت داؤد علیہ السلام کی سنتوں کے مطابق فیصلے کرتے ہیں ۔یعنی ان کے فیصلے الہام پر مبنی ہوتے ہیں ۔‘‘یہ قصہ دیکھیں : ’’ سنن ابی داؤد ‘ کتاب الطلاق ‘ باب : من قال بالقرعۃ إذا تنازعوا في الولد۔ یہ حدیث ضعیف اور ناقابل استدلال ہے۔اس کی سند میں یحیٰ بن عبداللہ الکندی نامی ایک راوی ہے جسے اجلح کہا جاتاہے۔یحیٰ بن معین اور عجلی نے اسے ثقہ کہا ہے۔ علامہ منذری کہتے ہیں : اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ ابن عدی فرماتے ہیں : اس کا شمار شیعہ میں سے ہوتا ہے؛مستقیم الحدیث ہے۔ امام نسائی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ امام خطابی کہتے ہیں : حضرت زید بن ارقم والی حدیث کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔علامہ منذری فرماتے ہیں : یہ روایت مرسل سند سے نقل کی گئی ہے۔‘‘ ابو داؤد نے یہ روایت دو سندوں سے نقل کی ہے۔ ایک روایت عبداللہ بن خلیل نے زیدبن ارقم سے نقل کی ہے اور دوسری سند میں عبد خیر نے زید سے روایت کیا ہے۔ ] امام احمد اور ابو داود نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ لیکن جمہور فقہاء اس کے قائل نہیں ۔ امام احمد رحمہ اللہ سے اس روایت کا ضعیف ہونا نقل کیا گیا ہے۔ اورآپ نے اس روایت کو قبول نہیں کیا۔اوریہ بھی کہا گیا ہے : کہ بعد میں آپ اسی قول کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے۔امام احمد رحمہ اللہ قرعہ کے مسئلہ میں زیادہ وسیع علم رکھتے ہیں ۔نیز آپ نے زبیہ کے مسئلہ میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے۔[زبیہ کا مسئلہ امام احمد رحمہ اللہ نے مسند میں نقل کیا ہے : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا۔ہم ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جنہوں نے شیر کو مارنے کے لیے ایک گڑھا کھودا تھا۔ وہ لوگ ایسے ہی شیر سے اپنا دفاع کررہے تھے کہ ان میں(]

یہ حدیث دوسری حدیث کی نسبت زیادہ ثابت ہے؛ جسے سماک بن حرب روایت کیا ہے ؛ اور امام احمد رحمہ اللہ نے اسے قبول کیا ہے۔جب کہ وہ تین جو کہ اپنی منزل کو نہ پاسکے ؛ ان کی روایت یا توآپ تک پہنچی نہیں ‘ یا پھر آپ کے نزدیک وہ روایت ثابت نہیں ۔ امام احمد رحمہ اللہ کو آثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بہت زیادہ علم اور صحیح وسقیم کی معرفت حاصل تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عادل قاضی ہونا آپ کی فضیلت کی دلیل ہے ۔ اس میں کسی کو کوئی جھگڑا ہی نہیں ۔لیکن اس میں یہ دلیل کہیں بھی نہیں پائی جاتی کہ آپ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر عادل تھے۔

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے: ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ مسائل کا حل الہام کے ذریعے معلوم کرلیا کرتے تھے۔‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں کہ:’’ یہ غلط بات ہے۔ اس لیے کہ صرف الہام کی بنا پر فیصلہ کرنا ؛ یعنی اس طرح سے کسی انسان کے بارے میں الہام ہوگیا کہ وہ حق پر ہے؛ صرف اس الہام کی اساس پر دین اسلام میں کوئی فیصلہ کرنا حلال و جائز نہیں ہے ۔صحیح حدیث میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

’’بیشک تم میرے پاس اپنے جھگڑے پیش کرتے ہو؛ اوربسااوقات ایک انسان اپنی بات پیش کرنے میں دوسرے کی نسبت زیادہ تیز زبان والا ہوتا ہے؛ اور اس میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جس طرح سنتا ہوں ۔پس جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کردوں ‘ اسے چاہیے کہ وہ نہ لے ؛ بیشک میں اس کے لیے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں ۔‘‘

اس حدیث میں آپ نے خبر دی ہے کہ میں خود سن کر فیصلہ دیتا ہوں ‘ صرف الہام کی بنیاد پر نہیں ۔ اوراگر الہام کے ذریعہ شرعی احکام ثابت ہو جاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ اللہتعالیٰ وحی کے ذریعہ آپ کو مطلع کرتے کہ حق دار کون ہے اور اس طرح آپ کو شہادت کی ضرورت بھی لاحق نہ ہوتی؛اور نہ ہی مجرم سے اقرار کروانے

[سے ایک آدمی اس گڑھے میں گرگیا۔ اس نے گرتے گرتے دوسرے آدمی کو پکڑ لیا؛ دوسرے نے تیسرے کو اور تیسرے نے چوتھے کو پکڑ لیا۔ یہ چاروں انسان اس گڑھے میں گر گئے اور شیر نے انہیں زخمی کردیا۔ پھر ایک آدمی بھالا لیکر آیا اور اس نے شیر کو مار ڈالا۔ مگریہ چاروں زخمی بھی مر گئے۔ پہلے انسان کے رشتہ دار کھڑے ہوگئے تاکہ وہ دوسرے مرنے والے کے رشتہ داروں سے دیت وصول کریں ۔ یہاں تک کہ یہ لوگ اسلحہ نکال لائے ۔ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس پہنچے ۔ آپ نے فرمایا:’’ کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک دوسرے سے جنگ کرو گے؟میں تمہارے درمیان ایک فیصلہ کرتا ہوں ؛ اگر تم اس پر راضی ہوجاؤ تو ٹھیک ہے؛ ورنہ تمہیں بند کردوں گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے فیصلہ کروالاؤ۔اس کے علاوہ کوئی تیسری چیز نہیں ہوسکتی۔ فیصلہ یہ ہے کہ : جن لوگوں نے گڑھا کھودا تھا؛ ان سے دیت جمع کرو ۔دیت ایک چوتھائی ؛ ایک تہائی نصف اور پوری دیت ہونی چاہیے۔ پہلے انسان کے لیے چوتھائی دیت ہے۔اس لیے کہ اس نے اپنے اوپر والے کو بھی ہلاک کیا ہے۔ دوسرے انسان کے لیے ایک تہائی دیت ہے۔ اور تیسرے کے لیے آدھی دیت ہے۔ ان لوگوں نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ۔ آپ اس وقت مقام ابراہیم کے پاس تھے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا قصہ سنایا۔ ....ان میں سے ایک آدمی نے کہا: یارسول اللہ ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان یہ فیصلہ کیا تھا۔ اور پھر پورا قصہ سنایا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کو باقی رکھا۔ مجمع الزوائد ۶؍۲۸۷۔ صحح أحمد شاکرسندہ في أربعۃ مواقع۔]

صفحہ 5 از 7