فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 7

میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے :’’مجھے خواب میں ایک پیالہ پیش کیا گیا جس میں دودھ تھا، وہ میں نے پی لیا، یہاں تک کہ سیری کا اثر میرے ناخنوں میں ظاہرہونے لگا، پھرجو بچ گیا میں نے وہ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ صحابہ نے عرض کیا:’’ پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ فرمایا:’’ دودھ سے علم مراد ہے۔‘‘

صحیحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((یا ابن الخطابِ! والذِی نفسِی بِیدِہِ ما لقِیک الشیطان سالِکاً فجاً ِإلا سلک فجاً غیر فجِّک)) [سبق تخریجہ] 

’’ اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب بھی شیطان تمہیں کسی وادی میں ملتا ہے تو وہ تمہارا راستہ چھوڑ کردوسری وادی میں بھاگ جاتا ہے ۔‘‘

صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

((وافقت ربِی فِی ثلاث: قلت: ’’لوِ اتخذت مِن مقامِ ِبراہِیم مصلی‘‘ فنزلت: ﴿ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی ﴾[البقرۃ:125]۔وقلت: یا رسول اللّٰہِ: یدخل علی نِسائکَ البر والفاجِر، فلو أمرتہن یحتجِبن؛ فنزلت آیۃ الحِجابِ۔ واجتمع نِساء النبِیِ- صلی اللّٰہ علیہِ وسلم ـفِی الغیرۃِ، فقلت:﴿ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ﴾۔[التحریم:۵]فنزلت ذلکِ ۔)) [سبق تخریجہ] 

’’ میں نے اپنے پرودگار سے تین باتوں میں موافقت کی(ایک مرتبہ)میں نے کہا کہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش ! ہم مقام ابراہیم کو مصلی بنا تے، پس اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

﴿ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی﴾ [البقرۃ ۱۲۵]

’’ اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالو۔‘‘

حجاب کی آیت بھی میری خواہش کے مطابق نازل ہوئی ۔کیونکہ میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ! کاش آپ اپنی بیویوں کو پردہ کرنے کا حکم دیں ، اس لیے کہ ان سے ہر نیک وبد گفتگو کرتا ہے۔ پس حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ اور ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں آپ پر نسوانی جوش میں آکر جمع ہوئیں ، تو میں نے ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو طلاق دے دیں گے، تو عنقریب آپ کا پروردگار تم سے اچھی بیویاں آپ کو بدلے میں دے گا، جو مسلمان ہوں گی، تب یہ آیت نازل ہوئی:

﴿عَسٰی رَبُّہٗ اِِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہُ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ﴾ [التحریم۵]

’’اگر آپ انہیں طلاق دے دیں تو بہت جلدآپ کا رب تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائیگا۔‘‘

اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فضائل بہت زیادہ ہیں ۔

جب کہ روٹیوں میں فیصلہ کا قصہ [ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہاں پر روٹیوں کا قصہ ذکر نہیں کیا جیسا کہ ابن مطہر نے ذکر کیا ہے ۔ وہ کہتا ہے: آپ نے دیگر کئی مشکل مسائل حل کیے۔ آپ کے پاس دو آدمی حاضر ہوئے۔ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھیں اور دوسرے کے پاس تین ۔جب دونوں کھانے کے لیے بیٹھ گئے تو ایک تیسرا آدمی بھی آگیا۔ اور کھانے میں ان کے ساتھ شریک ہوگیا۔جب کھانا کھا چکے تو وہ ان کی طرف آٹھ درہم پھینک کر چلا گیا۔ زیادہ روٹیوں والے نے ان میں سے پانچ درہم طلب کیے مگر کم روٹیوں والا نہ مانا۔ یہ دونوں اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس آدمی نے کہا: ’’اے امیر المؤمنین! میرا حق زیادہ بنتا ہے؛اور میں تمہارے پاس انصاف کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ تو آپ نے فرمایا: ’’ اگر ایسا ہی ہے تو ایک درہم لو ‘ اور اپنے دوسرے ساتھی کو باقی دراہم دے دو۔‘‘ ]؛ اور اس سے بھی زیادہ باریک مسائل ایسے امور ہیں جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہت ادنی مرتبہ کے لوگ بھی فیصلہ کرلیتے ہیں ۔ فقہاء کرام کے ہاں فروعی مسائل اور قضاء میں اس سے زیادہ باریک و دقیق مسائل میں وہ لوگ بھی درست فیصلے کرلیتے ہین جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مانند بھی نہیں ہوتا۔

صفحہ 4 از 7