فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 7

اس کی اصل یہ ہے کہ آپ کی رائے یہ تھی کہ عورت کے مہر کی شریعت میں مقدار مقرر ہونی چاہیے۔لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور بیٹیوں کے مہر سے زیادہ مہر نہیں ہونا چاہیے۔ جیساکہ بہت سارے فقہاء کا خیال ہے کہ عورت کے مہر کی کم ازکم مقدار اتنا مال ہے جس کے چوری کرنے پر حد لازم آتی ہو۔جب اسے شریعت میں مقدرمانا جائے اور جو اس سے زیادہ ہوگا وہ شوہر کی طرف سے خرچ ہوگا ‘ اوروہ اس کا بدلہ پالیتا ہے۔عورت اس کی مستحق نہیں ہوتی۔لہٰذا اسے بیت المال میں رکھا جائے۔ جیسے کہ اگر کوئی مسلمان شراب بیچ دے تو اس سے وہ رقم وصول کرکے مسلمانوں کے بیت المال میں شامل کر لی جائے گی۔اور اس مزدور کی مزدوری بھی ضبط کرکے بیت المال میں شامل کرلی جائے گی جو خود کو شراب اٹھانے پر مزدور بنائے۔اور اس طرح کے دیگر اقوال بھی ہیں جن پر علماء کرام کا فتوی ہے۔

بلاشک وشبہ جو انسان عوض کے بدلے حرام چیزسے منفعت حاصل کرلے؛ جیسا کہ وہ انسان جو کسی چیز کے بدلے زنا کرتا ہے ‘ یا پھر حرام گانے وغیرہ سنتا ہے ‘ یا شراب پیتا ہے ‘ تواس کی غرض پوری ہونے کے بعد یہ مال اسے واپس نہیں کیا جائے گا ‘ اس لیے کہ اس میں معصیت ونافرمانی پر تعاون اوراسے فروغ دینا ہے۔ اگرچہ وہ دوبارہ اپنی چیز کومعاوضہ کے بدلہ میں ہی حاصل کرنا چاہے۔ اوراگریہی چیز بیچنے والے یا مزدور کو دی جائے تو گویا کہ اس کے لیے خبیث چیزکو مباح کیا گیا ہے ‘ لہٰذا اس مال کو مسلمانوں کی مصلحت کے امور میں صرف کیا جائے گا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک عادل حکمران تھے۔آپ کا نکتہ نظر یہ تھا کہ زیادہ مہر شرعی کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے۔ توایک عورت آئی اور اس نے کہا: ’’ آپ ہم سے وہ چیز کیوں روکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہمارے لیے حلال کی ہے ؟ آپ نے فرمایا: ’’ کتاب اللہ میں کہاں ہے ؟وہ کہنے لگی : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰلہُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا﴾ [النساء۲۰]

’’اور تم ان میں سے کسی کو ایک خزانہ دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔‘‘

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس عورت نے آپ سے یہاں تک کہا:’’ کیا ہم آپ کی بات سنیں یا قرآن کی بات سنیں ۔ توآپ نے فرمایا: نہیں بلکہ کتاب اللہ کی بات سنو۔ تو اس نے یہ آیت پڑھ کرسنائی ؛ اس پر آپ نے فرمایا تھا:’’مرد نے؛ غلطی کھائی اور عورت کی بات صحیح نکلی۔‘‘[تفسیر ابن کثیر۲؍۲۱۲۔ مسند احمد برقم ۲۸۵۔ اس کی سند جید اورقوی ہے۔نیز دیکھیں : سنن الترمذی‘ ابن ماجہ ‘ اور ابوداؤد اورسنن کبری۔]

اس کے باوجود کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں علم ودین کے الہام کی خبر دی تھی؛ ایسی خبر حضرت عثمان‘علی؛ طلحہ زبیر رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کے بھی حق میں وارد نہیں ہوئی۔

سنن ترمذی میں حضرتِ ابن عمر سے روایت ہے : بیشک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( إِن اللہ جعل الحق علی لِسانِ عمر وقلبِہِ ))۔[سبق تخریجہ] 

’’بیشک اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل و زبان پر حق کو جاری کردیا ہے ۔‘‘

اورامام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایاہے: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ::

((ما نزل بِالناسِ أمر قط، فقالوا فِیہِ، وقال عمر فِیہِ، إِلا نزل فِیہِ القرآن علی نحوِ ما قال عمر)) [ترمذی ۵؍۲۸۰]

’’ لوگوں کوکوئی بھی مسئلہ ایسا پیش نہیں آیا جس کے بارے میں لوگوں نے بھی کوئی بات کی ہو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہو‘ مگر قرآن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوا۔‘‘

سنن أبی داود میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں :

(( سمِعت النبِی صلی اللہ علیہ وسلم یقول:’’إِن اللّٰہ وضع الحق علی لِسانِ عمر یقول بِہِ)) [سنن أبی داؤد من حدیث أبي ذر الغفاري رضی اللّٰہ عنہ : ۳؍۱۹۱]

’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ بیشک اللہ تعالیٰ نے حق عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے ‘اورآپ وہی حق بولتے ہیں ۔‘‘

سنن ترمذی حضرت عقبہ بن عامِر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((لو کان بعدِی نبِی لکان عمر )) [سبق تخریجہ] 

’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا ۔‘‘

صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((لقد کان فِیمن کان قبلکم مِن الأممِ ناس محدثون مِن غیرِ أن یکونوا أنبِیاء، فإِن یکن فِی أمتِی أحد فعمر))

’’ اُمَم سابقہ جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں ‘ ان میں مُلہم من اللہ ہوا کرتے تھے؛ جو کہ انبیاء نہیں ہوا کرتے تھے، اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہوا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔‘‘[سبق تخریجہ] 

ابن وہب رحمہ اللہ محدثون کی کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ملہمون ؛ یعنی جن کی طرف الہام کیا جاتا ہو۔ صحیحین میں ہے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

((سمِعت النبِی رضی اللّٰہ عنہم یقول:’’ بینا أنا نائِم رأیت الناس یعرضون وعلیہِم قمص، فمِنہا ما یبلغ الثدِی، ومِنہا ما یبلغ دون ذلک، وعرِض علی عمر وعلیہِ قمِیص یجرہ ۔قالوا: فما أولتہ یا رسول اللّٰہِ؟ قال:’’الدِین)) [سبق تخریجہ] 

’’میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’ میں نے خواب دیکھا کہ مجھ پر لوگ پیش کیے جا رہے ہیں ‘ اور انہوں نے قمیص پہن رکھے ہیں ۔ان میں سے کسی کی قمیص چھاتی تک پہنچتی ہے تو کسی کی اس سے کم ہے ۔ اور میرے سامنے عمر کو لایا گیا ‘ ان پر قمیص تھے ؛ اور آپ اسے کھینچتے ہوئے جارہے تھے ۔‘‘لوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی ؟ آپ نے فرمایا: ’’دین سے تعبیر کی ہے ۔‘‘

صحیحین میں ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

((سمِعت النبِی صلي اللّٰه عليه وسلم یقول:’’ بینا أنا نائِم أتِیت بِقدحِ لبن فشرِبت مِنہ، حتی إِنِّی لأری الرِّیَّ یخرج مِن تحتِ ظفارِی، ثم أعطیت فضلِی عمر بن الخطابِ؛ قال من حولہ: فما أوَّلت ذلک یا رسول اللّٰہِ؟ قال: ’’العِلم‘‘)) [سبق تخریجہ] 

صفحہ 3 از 7