فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم…

فصل:....حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آسمانوں کے راستہ کا علم

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 7

یہ تمام عقائد ایسا کھلا ہوا کفر ہیں جس میں کسی بھی مسلمان عالم کو ذرا بھر بھی شک نہیں ہوسکتا۔یہ بالکل وہی عقیدہ ہے جو کہ میمون قداح کی اولاد اسماعیلیہ کا عقیدہ تھا۔ان کا دادا ایک یہودی کے پاس لے پالک تھا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ لوگ محمد بن اسماعیل بن جعفر کی اولاد ہیں ۔ ان کے بہت سارے پیروکاران ان کے خدا یا نبی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔اور ان کا عقیدہ ہےکہ محمد بن اسماعیل بن جعفر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کردیا تھا۔

یہی حال اس گروہ کا بھی ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ یا بعض دیگر اہل بیت کے خدا ہونے یا نبی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ خواہ یہ لوگ اثنا عشریہ میں سے ہوں یا دوسروں میں سے ۔

یہی حال جھوٹے صوفیاء اور زہاد کے ایک گروہ کا ہے جو اپنے مشائخ اور پیروں کے خدا ہونے یا نبی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔یا پھر ان کے انبیاء کرام سے بھی افضل ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ : خاتم الاولیاء خاتم الانبیاء سے افضل ہے۔ اور ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اولیاء کو انبیاء کرام سے افضل مانتے ہیں ۔

ابن عربی اور اس طرح کے بعض دوسرے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ خاتم الانبیاء خاتم الاولیاء سے استفادہ کیا کرتے تھے۔اور بعض لوگ یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ: ’’ ایک کامل فلسفی نبی سے بڑھ کر علمی حقائق او رمعارف الٰہیہ کا جانکار و شناساہوتا ہے۔

اہل اسلام کا اتفاق و اجماع ہے کہ یہ عقائد کفر اور دین اسلام کے مخالف ہیں ۔اور جو کوئی انسان اس قسم کا عقیدہ رکھتا ہو اس سے توبہ کروائی جائے گی۔جیسا کہ ان جیسے دوسرے کفریہ کلمات کہنے والے اور کھلم کھلا مرتدین سے توبہ کروائی جاتی ہے۔ اگر ان عقائد کا کھل کر اظہار نہ کیا جارہا ہو تو پھر بھی یہ عقیدہ رکھنے والوں کا شمار اہل نفاق اور زندیق لوگوں میں سے ہوتا ہے۔

اگر یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ بعض لوگوں پر ایسے عقائد کا دین اسلام کے مخالف ہوتا مخفی رہ جاتا ہے اس کی وجہ یا تو ان لوگوں کا نیا نیا مسلمان ہونا ہے ‘اور پھر ایسے لوگوں میں ان کا موجود ہونا ہے جو بالکل جاہل ہوں اور اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہوں ۔ تویہ انسان بھی اسی انسان کی طرح ہوگا جو نماز کے واجب ہونے سے لاعلم ہو ؛یا اس کا نظریہ ہو کہ واجبات عوام الناس پر عائد ہوتے ہیں خواص پر نہیں ۔

[ صحابہ اورفتاویٰ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع ]:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’صحابہ مشکل مسائل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بہت سے فیصلے مسترد کردیے تھے؛ یہ دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’ اگر علی نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتا۔‘‘

[جواب]: ہم کہتے ہیں کہ:’’ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینی امور میں صرف آپ کی طرف ہی؛یا کسی دوسرے فرد واحد کی طرف ہی رجوع نہیں کیا کرتے تھے۔بلکہ جب کوئی نیا مسئلہ پیش آتا تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ حضرت علی، عثمان، ابن عوف، ابن مسعود، زید بن ثابت اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہم کے ساتھ مشورہ فرمایا کرتے تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صغیر السن ہونے کے باوجود اس مشورہ میں شرکت فرماتے۔اور سوال کرنے والا کبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کرتا اور کبھی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ۔ 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ مسائل دریافت کیے گئے۔اور آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ مشکل مسائل کے جوابات دیے۔اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑے عالم تھے ؛ بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ سے بڑے عالم تھے ؛ مگر اس کا سبب یہ ہوا کہ جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پاسکے تھے ؛ انہیں اس چیز کی ضرورت پیش آئی۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق کسی ایک نے بھی یہ نقل نہیں کیا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کچھ علمی استفادہ کیا ہو۔ بلکہ یہ منقولات موجود ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے علمی استفادہ کیا ہے جیسا کہ نماز توبہ کی حدیث (اوراس طرح کے دیگر مسائل)۔ [سنن الترمذی ‘ و أبوداؤد و ابن ماجۃ ]۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کثیر العلم ہونے کے باوصف مشکل مسائل میں مشورہ لینے کے عادی تھے۔لوگ اکثر آپ کے قول کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ مثلاً عمر یتین اور ’’عول‘‘ کے مسئلہ میں صحابہ نے آپ کے قول پر عمل کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اوّلین شخص تھے جنھوں نے یہ فیصلہ صادر کیا تھا کہ جب میت کا خاوند اور والدین یا بیوی اور والدین موجود ہوں تو میت کی ماں کو باقی ماندہ ترکہ کا ایک تہائی ملے گا۔ اکابر صحابہ و فقہاء مثلاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، ابن مسعود، علی، زید اور ائمہ اربعہ نے اس مسئلہ میں آپ کا اتباع کیا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کا پتہ نہ چل سکا اور انھوں نے یہ فتویٰ دیا کہ میت کی ماں کو پورے ترکہ کا ایک تہائی ملے گا۔ صحابہ کی ایک جماعت نے آپ کے قول کو اختیار کیا ہے، مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول اقرب الی الصحت ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فاروق نے صرف ایک مسئلہ میں فرمایا تھا کہ:’’ اگر علی نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتا۔‘‘

بشرطیکہ اس روایت کی صحت ثابت ہو جائے، اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس قسم کے الفاظ ان لوگوں کے حق میں بھی کہہ دیا کرتے تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فروتر درجہ کے لوگ ہوا کرتے تھے۔ جس عورت نے مہر کے مسئلہ میں آپ سے تکرار کی تھی اس کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا:’’آدمی نے غلطی کھائی اور عورت کی بات صحیح نکلی۔‘‘[المقصد العلی فی زوائد ابی یعلی الموصلی(۷۵۷)، مجمع الزوائد(۴؍۲۸۴)۔]

صفحہ 2 از 7