مختلف صوبوں کے امراء کی فہرست - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مختلف صوبوں کے امراء کی فہرست

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جس وقت زہر پیا اس وقت ایمان و یقین کی انتہائی بلند چوٹی پر فائز تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور اس کے اندر خصائص ودیعت کیے ہیں اور وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ جب چاہے ان خصائص کی تاثیر کو بلند مقاصد اور عظیم حکمت کے پیش نظر ختم کر دے۔ جس طرح جب ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے تو اس کی تاثیر کو ختم کر دیا اور اس آگ کو ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا۔ ایسا انبیائے کرام علیہم السلام کے علاؤہ لوگوں کے لیے بھی واقع ہوا جیسا کہ ابو مسلم خولانی نے جب اسود عنسی کذاب کی نبوت کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا تو اس نے ان کو آگ میں جھونک دیا لیکن اس نے دیکھا کہ آپ آگ میں کھڑے ہو کر نماز میں مصروف ہیں۔ آگ آپ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکی۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 153)

یہاں یہ یاد رہے کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے جس وقت زہر پیا اس وقت آپ کے دل میں ذرا بھی ریا کاری، شہرت طلبی اور طلب جاہ وغیرہ خواہشات نفس کا گزر نہ تھا کیونکہ اگر ایسی کوئی نیت ہوتی تو آپؓ کو یہ پتہ تھا کہ اس حالت میں اللہ تعالیٰ ساتھ چھوڑ دے گا اور پھر زہر کے اثر کو ختم کرنے کی ان کے پاس کوئی قوت و صلاحیت نہیں ہے۔ یہ ایک نادر تجربہ تھا، اب کسی مسلمان سے اس کا تجربہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا اگرچہ اس کا وہی مقصد ہو جو حضرت خالدؓ کا تھا کیونکہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کا یقین و ایمان اور اللہ پر بھروسہ جس معیار کا تھا وہ آج نادر الوجود ہے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 154)

سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے جس وقت حیرہ کو فتح کیا، آٹھ رکعت ایک سلام کے ساتھ نماز ادا کی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 4 صفحہ 353)

فتوحات عراق سے متعلق عربي ادب: فتح حیرہ سے متعلق حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے قصیدہ کہا، جس کے چند اشعار یہ ہیں:

سقی اللہ قتلی بالفرات مقیمۃً

واخری بأثباج النجاف الکوانف

ترجمہ: اللہ تعالیٰ ان مقتولین (شہیدوں) کو سیراب کرے جو فرات میں مقیم ہیں اور دوسروں کو بھی جو نجاف کے درمیان محفوظ علاقہ میں ہیں۔

ونحن وطئنا بالکواظم ہرمزا

وبالثنی قرنی قارن بالجوارف

ترجمہ: اور ہم نے کواظم میں ہرمز کو روند دیا اور ثنی میں قارن کی دونوں قوتوں کو گڑھے میں پامال کر دیا۔

ویوم احطنا بالقصور تتابعت

علی الحیرۃ الروحاء احدی المصارف

ترجمہ: اور جس روز ہم نے محلوں کا گھیراؤ کیا تو پے در پے حیرہ پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی رہی۔

حططناہم منہا وقد کان عرشہم

بمیل بہم فعل الجبان المخالف

ترجمہ: اور ہم نے انہیں وہاں سے اتار پھینکا اور ان کا تخت، مخالف بزدل کی طرح انہیں لے کر ڈولتا تھا۔

رمینا علیہم بالقبول وقد رأوا

غبوق المنایا حول تلک المحارف

ترجمہ: ہم نے اپنی شرائط کو انہیں قبول کرنے پر مجبور کر دیا اور انہوں نے ان مقامات پر موت کی تاریکی دیکھی۔

صبیۃ قالوا نحن قوم تنزلوا الی الریف من ارض العریب القمانف

ترجمہ: اس صبح کو انہوں نے کہا: ہم وہ قوم ہیں جو عربوں کی چٹیل زمین سے سبزہ زاروں کی طرف چلے گئے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 353)

(2) انبار (ذات العیون) کی فتح: حیرہ اور اس کے گرد و نواح میں جب حالات قابو میں آ گئے اور امن و استقرار بحال ہو گیا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے حیرہ پر حضرت قعقاع بن عمرو تمیمیؓ کو اپنا نائب مقرر کر کے خود سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کی امداد کے لیے روانہ ہوئے، جنہیں سیدنا ابوبکرؓ نے شمال سے عراق کی فتح کے لیے روانہ کیا تھا اور انہیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جا ملنے کا حکم فرمایا تھا۔ حضرت خالدؓ انبار پہنچے، دیکھا دشمن قلعہ بند ہیں اور اپنے چہار طرف خندق کھود رکھی ہے اور قلعوں کے اوپر جا بیٹھے ہیں،

(تاریخ الدعوۃ الی الاسلام: صفحہ 350)

تو مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر لیا ہے، اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ دشمن کی آنکھوں کو نشانہ بنائیں۔ جب جنگ شروع ہوئی تو مسلمانوں نے تیر برسا کر ہزار آنکھیں بیکار کر دیں، اسی لیے اس معرکہ کو ذات العیون کا نام دیا گیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 353)


صفحہ 2 از 2