مختلف صوبوں کے امراء کی فہرست - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مختلف صوبوں کے امراء کی فہرست

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

مختلف صوبوں کے امراء کی فہرست یہ ہے:

(1) فلالیج: عبداللہ بن وثیمہ نصری۔

(2) بانقیا: جریر بن عبداللہ.

(3) نہرین: بشیر بن خصاصیہ۔

(4) تستر: سوید بن مقرن مزنی۔

(5) روذستان: اُط بن ابی اط۔

سرحدوں کے قائدین یہ تھے:

(1) ضرار بن ازور

(2) مثنیٰ بن حارثہ شیبانی

(3) ضرار بن خطاب فہری

(4) ضرار بن مقرن مزنی

(5) قعقاع بن عمرو تمیمی

(6) بسر بن ابی رہم جہنی

(7) عتیبہ بن نہاس۔

(سیدنا ابوبکر الصدیقؓ: خالد الجنابی، نزار الحدیثی صفحہ 51، 52)

اہلِ فارس کے خاص و عام کے نام حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے خطوط: جب عراق کی فضا سازگار ہو گئی اور حیرہ و دجلہ کے درمیان عرب علاقوں سے فارسی حکومت کے ختم ہو جانے سے پیچھے سے خطرہ باقی نہ رہا، تو سیدنا خالدؓ نے براہِ راست ایران پر حملہ آور ہونے کا عزم کر لیا اور اس دوران میں اَردشیر کسریٰ کے مر جانے سے ایرانی حکومت خلفشار کا شکار ہوئی۔ ان کے درمیان اس کے جانشین کے انتخاب کے سلسلہ میں سخت اختلاف رونما ہوا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے ان کے خاص لوگوں کو خط تحریر کرتے ہوئے فرمایا:

سیدنا خالد بن ولیدؓ کی جانب سے بادشاہان فارس کے نام!

اما بعد!

اللہ ہی کے لیے تمام حمد ہے، جس نے تمہارے نظام کو توڑ دیا، تمہاری چال ناکام کر دی، تمہارے اندر اختلاف برپا کر دیا، تمہاری قوت کمزور کر دی، تمہارے مال چھین لیے اور تمہارے غلبہ و عزت کو خاک میں ملا دیا۔ لہٰذا جب تمہیں میرا یہ خط ملے، اسلام قبول کرو، محفوظ و مامون رہو گے، یا پھر معاہدہ کر کے جزیہ دینے پر راضی ہو جاؤ، ورنہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں ایسی فوج لے کر تمہارے پاس آؤں گا جو موت سے ایسے ہی محبت کرتی ہے جس طرح تم ذندگی سے محبت رکھتے ہو اور آخرت میں اتنی ہی رغبت رکھتے ہیں جتنی رغبت تمہیں دنیا سے ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 186)

اور ان کے عام لوگوں کو خط تحریر کرتے ہوئے فرمایا:

سیدنا خالد بن ولیدؓ کی طرف سے فارس کے امراء کے نام!

تمام حمد اس اللہ ہی کے لیے ہے جس نے تمہاری حکومت ختم کر دی، تمہارے اندر اختلاف ڈال دیا، تمہاری قوت کمزور کر دی، تمہارے مال چھین لیے، تمہارے غلبہ و عزت کو خاک میں ملا دیا۔ جب میرا یہ خط تمہیں ملے اسلام قبول کر لو، محفوظ و مامون رہو گے یا پھر معاہدہ کر کے جزیہ ادا کرنا قبول کر لو، ورنہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں ایسی فوج لے کر تمہارے پاس آؤں گا جو موت سے ایسے ہی محبت کرتی ہے جس طرح تم ذندگی سے محبت رکھتے ہو اور آخرت میں اتنی ہی رغبت رکھتے ہیں جتنی رغبت تمہیں دنیا سے ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 186)

حیرہ کی فتح سے عراق کو فتح کرنے اور اس کو اسلامی سلطنت کے تابع کرنے سے متعلق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آرزوؤں کا نصف حصہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا، جو ایران پر براہ راست حملہ آور ہونے کی تمہید تھی۔ سیدنا خالدؓ نے اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری اچھے طریقہ سے ادا کی اور تھوڑی ہی مدت میں حیرہ تک پہنچ گئے کیونکہ عراق کے خلاف آپ کی مہم کا آغاز محرم 12 ہجری میں معرکہ کاظمہ سے ہوا اور اسی سال ربیع الاوّل 12 ہجری میں حیرہ فتح ہو گیا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 9 صفحہ 150)

فتح حیرہ کے موقع پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کي کرامت: امام طبری نے اپنی سند سے نقل کیا ہے: ابنِ بُقَیلہ (عمرو بن عبد المسیح) کے ساتھ اس کا ایک خادم تھا۔ اس کی کمر میں اس نے ایک تھیلا لٹکا رکھا تھا۔ سیدنا خالدؓ نے اس تھیلے کو لے لیا اور اس میں جو کچھ تھا اس کو اپنی ہتھیلی پر رکھا۔ پھر فرمایا: عمرو! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی امانت کی قسم، یہ فوری اثر انداز ہونے والا زہر ہے۔ فرمایا: زہر چھپانے کا کیا مقصد؟ اس نے کہا: مجھے ڈر پیدا ہوا کہ اگر آپ لوگوں کو اپنے اندازے کے خلاف پاؤں اور ایسی صورت میں قوم اور بستی والوں کو میری وجہ سے کسی ناخوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑے تو اس وقت میری موت مجھے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کوئی نفس اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کی موت کا وقت نہ آ جائے، اور فرمایا:

بسم اللہ خیر الاسماء رب الارض، ورب السماء، الذی لیس یضر مع اسمہ داء، الرحمن الرحیم۔

ترجمہ: شروع اللہ کے نام سے جو بہترین ناموں والا ہے، آسمان و زمین کا رب ہے، جس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں پہنچا سکتی، وہ رحمن و رحیم ہے۔

لوگ آگے بڑھے، آپ کو روکنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی آپ زہر نگل چکے تھے۔ اس موقع پر عمرو بن عبد المسیح نے کہا: واللہ اے عرب کے لوگو! تم اپنے ارادوں کے مطابق مالک بن کے رہو گے اگر تم میں سے ایک فرد بھی موجود ہے۔ پھر حیرہ والوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: آج کی طرح واضح و روشن دن میں نے نہیں دیکھا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 180)

حافظ ابنِ کثیر نے اس روایت کو ذکر کیا ہے اور اس کو ضعیف قرار نہیں دیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 251)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے اس کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کو ابو یعلی نے روایت کیا ہے اور ابنِ سعد نے دوسری سندوں سے ذکر کیا ہے اور ضعیف نہیں قرار دیا ہے۔

(الاصابۃ لابن حجر: جلد 2 صفحہ 318، 2206)

علامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ نے اس کو کرامات کی مثال میں ذکر کیا ہے۔

مجموع الفتاوی: جلد 11 صفحہ 154)

بعض معاصر مؤلفین نے اس کا انکار کیا ہے اور اسے بعض راویوں کی طرف سے من گھڑت قرار دیا ہے حالانکہ یہ روایت اسناد کے اعتبار سے ثابت ہے۔ طبری، ابنِ سعد، ابنِ کثیر اور ابن تیمیہ علیہما السلام نے اس کو پسند کیا ہے۔ کسی نے اس کی سند کو ضعیف نہیں قرار دیا ہے، اور یہ لوگ اسلامی تاریخ کے بارے میں معاصر مؤلفین کے مقابلہ میں زیادہ علم والے اور انصاف پسند تھے۔

صفحہ 1 از 2