[حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے قاضی؟]: - ردِ رافضیت |…

[حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے قاضی؟]:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

جب فقہ کے ابواب کو دیکھا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فتاوی ہیں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فتاوی کے برابر ہیں ۔ اور جب ہم ان کے درمیان مدت کی نسبت نکالتے ہیں اور مختلف شہروں میں گردش کو دیکھیں اور پھر احادیث کا مقابلہ کریں اور فتاوی کے مقابلہ میں فتاوی کو دیکھیں توہر باشعور اورعقل مند کو اس بات کا علم ضروری حاصل ہوجائے گا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت کئی گنا زیادہ علم تھا۔

ہم مسند عائشہ میں دیکھتے ہیں کہ دو ہزار دو سو دس مسند احادیث ہیں ۔ اور حضرت ابوہریرہ کی مسند میں پانچ ہزار تین سو چوہتر مسند احادیث ہیں ۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ مسند ابن عمر میں اور مسند انس میں مسند عائشہ کے قریب قریب احادیث ہیں ۔اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مسند جابر اور مسند ابن عباس میں سے ہر ایک میں پندرہ سو سے زیادہ احادیث ہیں ۔ اور حضرت ابن مسعود سے آٹھ سو سے کچھ زیادہ مسند احادیث مروی ہیں ۔

یہ جتنے لوگوں کا بھی ہم نے تذکرہ کیا ہے ان میں سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ باقی سب کے فتاوی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فتاوی سے زیادہ ہیں ۔ اس سے اس جاہل کا یہ قول باطل ہو گیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے عالم تھے ۔

یہاں تک کہ اس نے کہا ہے :اگر وہ یہ کہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خمس پر اور یمن میں قضا پر عامل بنایا تھا؟ تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے:ہاں ! حضرت ابوبکر کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کا مشاہدہ علم میں بہت زیادہ قوی اور ثابت تھا اس علم کی نسبت سے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں تھا۔ ایسے رسول اللہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کئی سرایا پر عامل بنایا تھا جن میں مال خمس بھی حاصل ہوا۔ اس حکم کے اعتبار سے بغیر کسی شک و شبہ کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا علم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علم کے مساوی ہوا۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو کوئی ذمہ داری اسی وقت تفویض کرتے تھے جب اسے مطلوبہ ذمہ داری کے متعلق علم بھی ہوتا۔ اور یہ بھی صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مسعود میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ فتوی دیا کرتے تھے۔ اور رسول اللہ کو اس چیز کا علم بھی تھا۔ اور محال ہے کہ ان دونوں حضرات سے بڑھ کر کوئی دوسرا عالم موجود ہو مگر پھر بھی اس اہم منصب پر یہ دوحضرات کام کرتے رہیں ۔ جہاں تک یمن کی قضاکا تعلق ہے تو رسول اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور معاذ بن جبل کو بھی قاضی بنا کر روانہ فرمایا تھا۔ اور اس میں منصب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شریک کار کئی دوسرے لوگ بھی ہیں ان میں سے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی ہیں ۔ مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غالب طور پر پوری جمہور امت سے علم میں منفرد ہیں ۔

[خلفاء اربعہ کے مسائل و فتاویٰ میں موازنہ]:

پھر یہ بھی معلوم ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سفر وحضر میں ؛ نشست وبرخاست گفت و شنیدوقیام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت میں رہا کرتے تھے ۔اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فتاوی و احکام سے بذات خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ آگاہ تھے۔توصحت کے ساتھ بطور ضرورت معلوم ہوا کہ آپ احکام و مسائل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ واقفیت رکھتے تھے۔ علم کا کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسروں پر فائق نہ ہوں یا کم از کم اس میں دوسروں کے برابر نہ ہوں ۔اس سے روافض کا یہ دعوی باطل ثابت ہوگیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام لوگوں سے بڑے عالم تھے۔ وللّٰہ الحمد۔

[نیوش پرگوش علی رضی اللہ عنہ ]:

[اشکال] :شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: 

﴿وَتَعِیَہَآ اُذُنٌ وَّاعِیَۃٌ ﴾ (الحاقۃ 12)

’’ اور یاد رکھنے والا کان اسے یاد رکھے۔‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں : یہ حدیث اہل علم کے ہاں بالاتفاق موضوع ہے۔اور یہ بات بھی اضطراری طور پر معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہر گزیہ نہیں ہے کہ صرف ایک کان کے علاوہ کوئی دوسرا اسے یاد نہ رکھے ؛ اور نہ ہی اس سے کسی متعین شخص کے کان مراد ہیں ۔ یہاں پر مقصود صرف نوع ہے۔ اس میں ہر یاد رکھنے والا کان شامل و داخل ہے۔ 

[فطانت ِعلی رضی اللہ عنہ ]:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نہایت ذہین و فطین اور علم کے بہت بڑے حریص تھے ؛آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے؛دن رات میں ہر وقت آپ کی صحبت میں رہتے ۔ بچپن سے لے کر تا وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ کامل صحبت کا شرف حاصل ہوا ۔ ‘‘

[جواب]:ہم کہتے ہیں : یہ بات کیسے ثابت ہوئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ ذہین اور ان سے زیادہ شائق علم تھے؟ اور آپ نے ان دونوں حضرات سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کیا۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اُمم سابقہ میں مُلہَم موجود تھے، اگر میری امت میں کوئی ملہم من اللہ ہوا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔‘‘

ملہم یا محدث وہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف الہام ہو؛ یہ بشری تعلیم سے زائد ایک قسم کی تعلیم ہے۔

[بخاری ومسلم کی متعدد احادیث سے بھی حضرت ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے علم و فضل پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً]متفق علیہ روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مجھے خواب میں ایک پیالہ پیش کیا گیا جس میں دودھ تھا، وہ میں نے پی لیا، یہاں تک کہ سیر ہونے کا اثر میرے ناخنوں میں ظاہرہونے لگا، پھرجو بچ گیا میں نے وہ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ صحابہ نے عرض کیا:’’ پھر آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ فرمایا:’’ دودھ سے علم مراد ہے۔‘‘

ایسی کوئی روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نہیں ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

صفحہ 4 از 5