[حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے قاضی؟]: - ردِ رافضیت |…

[حضرت علی رضی اللہ عنہ سب سے بڑے قاضی؟]:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

ا س کا متن خود اس کے موضوع ہونے کی شہادت دیتا ہے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات علم کا شہر ہوئی اور اس کا دروازہ صرف ایک(حضرت علی رضی اللہ عنہ ) ہوئے‘ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و ارشادات کے مبلغ صرف علی رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ اس سے دین اسلام کا فساد لازم آتا ہے۔اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے علم پہنچانے کے لیے صرف ایک شخصیت کا ہونا جائز اور کافی نہیں ؛ بلکہ آپ کے اقوال و ارشادات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے اتنے کثیر التعداد لوگ ہونے چاہئیں کہ جن سے غائب لوگوں تک خبر متواتر حاصل ہو۔ اس لیے کہ خبر واحد سے قرائن کے بغیر علم حاصل نہیں ہوتا۔ اور کبھی خبر واحد اکثر لوگوں سے منتفی یا مخفی ہوتی ہے۔ پس انہیں وہ علم حاصل نہیں ہوتا جو قرآن اور احادیث [وسنن] متواترہ سے حاصل ہوتا ہے۔

اگر شیعہ کہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اگرچہ واحد ہیں ، مگر معصوم ہیں ، اس لیے آپ کی خبر سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ شیعہ پہلے آپ کا معصوم ہونا ثابت کریں ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معصومیت ان ہی کے قول سے ثابت نہیں ہو جائے گی ؛اس دعوی سے پہلے عصمت کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ اس طرح کرنے سے دور لازم آتا ہے۔

اجماع سے بھی آپ کا معصوم ہونا ثابت نہیں ہوتا، اس لیے کہ آپ کی معصومیت پر اجماع منعقد نہیں ہوا ۔ اگرچہ امامیہ کے ہاں اجماع اس لیے حجت ہے کہ اس میں امام معصوم کی رائے بھی شامل ہے۔ مگر بات پھر وہیں پہنچتی ہے کہ صرف اس دعوی کرنے سے کام نہیں بنے گا اس پر معصوم ہونے کے لیے ثبوت بھی چاہیے۔ پس معلوم ہوا کہ اگر دعوی عصمت حق ہوتا تو امام معصوم کے خبر دینے کے علاوہ بھی کسی ذریعہ سے اس کا علم ہونا ضروری تھا۔

پھر یہ بھی ہے کہ اگر اس شہر علم کا آپ کے علاوہ کوئی دروازہ نہ بھی ہو تو تب بھی اس سے نہ ہی عصمت ثابت ہوگی اورنہ ہی باقی امور دین۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ روایت کسی زندیق نے گھڑ لی ہے ؛ جسے جاہل لوگ مدح خیال کرتے ہیں ؛ حالانکہ اس سے اسلام میں قدح لازم آتی ہے ؛ اس لیے کہ دین اسلام صرف ایک فرد واحد سے نہیں پھیلا۔

پھر یہ بات متواتر حقائق کے بھی خلاف ہے۔یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتاب و سنت کا جو علم اکناف عالم پر محیط اسلامی شہروں میں پھیلاتھااور اس سے سب کرۂ ارضی معمور ہو چکاتھا؛ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بڑا کردارہے۔ اہل مکہ اور اہل مدینہ کے احوال تو صاف ظاہر ہیں [ کسی بیان کی ضرورت نہیں ]۔یہی حال اہل بصرہ اور شام کا بھی ہے۔ان شہروں کے علماء کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منفرد روایات حد درجہ قلیل ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علم کی غالب روایات اہل کوفہ کے ہاں ہیں ۔

اہل کوفہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مسند خلافت پر متمکن ہونے سے بھی پہلے قرآن وسنت جانتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ تو بہت بعد میں آئے۔

[پھر یہ بات کیوں کر صحیح ہو سکتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کا واحد دروازہ تھے]۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ فقہاء مدینہ [میں اجلہ التابعین وہ تھے]جنہوں نے خلافت فاروقی میں اکتساب علم کیا۔[ جو خلافت عثمانی سے بھی پہلے کے تربیت یافتہ تھے نہ کہ علوی خلافت کے۔ایسے ہی] حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اہل یمن کو جو تعلیم دی وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تعلیمات سے بہت بڑھ کر تھی؛ اوروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ عرصہ یمن میں رہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل یمن کی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایات سے بڑھ کرہیں ۔حضرت شریح اور دوسرے اکابر تابعین نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ وارد کوفہ ہوئے تو[ وہاں جلیل القدر تابعین کی خاصی تعداد موجود تھی۔ مثلاً ]شریح وہاں کے قاضی تھے؛انہوں نے اور عبیدہ سلیمانی [اوردوسرے فقہاء جیسے علقمہ، مسروق اور ان کے نظائر و امثال] نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پہلے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں پر تربیت حاصل کی تھی۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کوفہ آنے سے پہلے کوفہ اور دوسرے شہروں میں اسلام اور اسلامی تعلیمات پھیل چکے تھے۔

امام محمد بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’روافض میں سے بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں کہ:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ اعلم الناس تھے‘‘حالانکہ یہ جھوٹ ہے۔ کسی صحابی کے علم کا پتہ دوباتوں میں سے کسی ایک بات سے چلتا ہے؛ ان کے علاوہ کوئی تیسری بات نہیں :

پہلی بات:اس کے فتاویٰ و روایات کی تعداد کس قدر ہے۔

دوسری بات: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس حد تک اسے مختلف کاموں پر مامور کیا۔‘‘

صفحہ 2 از 5