حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط…

حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط و اسباب اور شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار مجاہدین کے اوصاف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

 اسی لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپؓ کی فوج مسلمانوں کی مدد و نصرت میں لگ گئے اور آپؓ بذات خود مرتدین سے قتال کے لیے نکل پڑے اور گیارہ فوجی دستے اہل ایمان سے ظلم کو ہٹانے اور مرتدین کی قوت کو توڑنے کے لیے روانہ کیے۔ وہ مرتدین جنہوں نے کمزور مسلمانوں کو اذیت پہنچائی تھی ان کا کوئی عذر قبول نہ کیا اِلا یہ کہ ان سے مسلمانوں کو بدلہ دلایا اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جیسا کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا اور اسلامی فوج کے دیگر قائدین نے بھی ایسا ہی کیا۔ حضرت ابوبکرؓ معاشرہ میں رعایا کے حقوق و احوال کی رعایت کا پورا اہتمام کرتے، لونڈیوں، خواتین اور بوڑھی عورتوں اور بڑی عمر والوں کے ساتھ تعامل کی کیفیت ہمارے سامنے آ چکی ہے۔ عہد صدیقی میں یہ صفات عام ہوئیں اور لوگوں کی زندگیوں میں رچ بس گئیں۔

3: يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌

ترجمہ: اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔

اللہ کے دشمن سے جہاد کی صفت، عصر صدیقی میں مرتدین سے جنگ اور ان کی قوت توڑنے کی شکل میں اور بعد میں ہونے والی اسلامی فتوحات کی شکل میں نمایاں ہوئی، جس کی تفصیل ان شاء اللہ آئندہ آئے گی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے دشمنان اسلام سے اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے، اللہ واحد کی عبادت کو ثابت کرنے اور اللہ کے حکم اور اسلام کے نظام کو زمین میں قائم کرنے کے لیے جہاد کیا۔ اسلامی قیادت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں جزیرہ عرب کو سارے عالم کی فتح کا مرکز بنانے میں کامیاب ہوئی اور جزیرہ عرب منبع صافی قرار پایا جہاں سے اسلام پوری روئے زمین میں ان نفوس کے واسطہ سے پھیلا جن کو زندگی نے تجربہ کار بنا دیا، تعلیم و تربیت، جہاد اور انسانیت کی سعادت مندی کے لیے نفاذ شریعت جیسے مختلف میدان میں متعدد تجربات کے مالک قرار پائے۔

(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ 491)

حروب ارتداد میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جو جہاد کیا وہ منجانب اللہ اسلامی فتوحات کا پیش خیمہ تھا۔ اس جہاد میں اسلامی پرچم نمایاں ہوئے، قدرتیں ظاہر ہوئیں، طاقتیں اجاگر ہوئیں، میدانی قیادتوں کا انکشاف ہوا اور قائدین نے مختلف انواع و اقسام کے جنگی اسلوب اور منصوبے وضع کیے، سچی، مطیع اور سلیقہ مند فوجی صلاحیتیں نمایاں ہوئیں، انہیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ کس لیے قتال کرتے ہیں؟ کس کے لیے یہ ساری قربانیاں پیش کر رہے ہیں؟ اس لیے ان کا عمل نمایاں اور قربانی و فدائیت عظیم رہی۔

(تاریخ صدر الاسلام للشجاع: صفحہ 142، 143)

اللہ کے فضل و کرم اور پھر سیدنا ابوبکرؓ کی معیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جہاد سے تاریخ میں پہلی مرتبہ جزیرہ عرب اسلام کے پرچم تلے متحد ہو گیا۔ اسلامی دارالخلافہ مدینہ نے اپنا نفوذ پورے جزیرہ عرب پر پھیلا دیا اور پوری امت ایک سربراہ کے پیچھے ایک مبدأ اور ایک فکر کے تحت چلنے لگی۔ یہ فتح و کامیابی اسلامی دعوت کی کامیابی تھی اور اسی طرح اختلاف اور عصبیت کے عوامل و اسباب پر غلبہ حاصل کرکے اسلامی وحدت کی کامیابی تھی اور اسی طرح یہ واضح برہان تھی کہ اسلامی حکومت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سخت ترین مشکلات پر غلبہ حاصل کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔

(تاریخ الدعوۃ الاسلامیۃ: دیکھیے جمیل المصری: صفحہ 256)

اس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کی راہ میں جہاد کرتے، کسی کی ملامت، تنقید اور اعتراض کا خوف نہ کھاتے کیونکہ وہ دین میں مضبوط تھے اور حق کو ثابت کرنے اور باطل کو پامال کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔

(تفسیر المنیر: جلد 6 صفحہ 233)

4: ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ۞ (سورۃ الجمعة آیت 4)

ترجمہ: یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔

 وہ اللہ کے محبوب، اللہ ان کا محبوب، مومنوں کے مقابلہ میں نرم اور کافروں کے مقابلہ میں سخت، اللہ کی راہ میں جہاد، ملامت گروں کی ملامت کی پروا نہ کرنا وغیرہ مذکورہ صفات یہ اللہ رب العالمین کا فضل و کرم ہیں جن کے ذریعہ سے اپنے اولیاء کو بزرگی عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مزید فضل و کرم سے نوازتا ہے کیونکہ اللہ کے فضل و کرم بے پایاں ہیں۔

(تفسیر القاسمی: جلد 1 صفحہ 258)

اللہ کا فضل بڑا وسیع ہے۔ کون اس کے مستحق ہیں اور کون اس کے مستحق نہیں ان کو خوب جانتا ہے۔

(تفسیر المنیر: جلد 6 صفحہ 233)


صفحہ 3 از 3