حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط…

حروب ارتداد کے اہم دروس وعبر اور فوائد غلبہ و تمکین کی شروط و اسباب اور شریعت الہٰی کے نفاذ کے آثار مجاہدین کے اوصاف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

دین کی نصرت و تائید کرنے والوں کے لیے نصرت و تائید الہٰی کی سنت ان کے حق میں ثابت ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ضمانت لی ہے کہ جو اس کی شریعت پر استقامت اختیار کریں گے اللہ تعالیٰ اپنی قوت و غلبہ سے دشمنوں پر انہیں فتح و نصرت عطا فرمائے گا۔ ارشاد الہٰی ہے:

وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ ۞ اَ لَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ۞  (سورۃ الحج  آیت 40، 41)

ترجمہ: اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔

بشریت کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی جماعت نے اللہ کی ہدایت پر استقامت اختیار کی ہو اور اس کو اللہ نے قوت و غلبہ اور سیادت عطا نہ کی ہو۔

(فی ظلال القرآن: جلد 4 صفحہ 270)

عہد صدیقی میں فضائل کا دور دورہ اور رزائل کا خاتمہ ہوا۔

غلبہ و تمکین سے ہمکنار لوگوں کے اوصاف

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌  ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞ (سورۃ المائدة آیت 54)

ترجمہ: اے ایمان والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے۔

اس آیت کریمہ میں یہ مذکورہ صفات سب سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپؓ کے لشکر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر صادق آتی ہیں جنہوں نے مرتدین سے قتال کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کامل ترین صفات اور اعلیٰ ترین نیکی کے جذبات سے متصف قرار دے کر ان کی مدح کی۔

(عقیدۃ اہلِ السنۃ والجماعۃ فی الصحابۃ الکرام: جلد 2 صفحہ 534)

وہ صفات یہ ہیں:

1: یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ

ترجمہ: وہ اللہ کے محبوب اور اللہ ان کا محبوب۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف منسوب محبت کے سلسلہ میں سلف کا مذہب یہ ہے کہ یہ بغیر کسی تاویل اور تعیین کیفیت کے اللہ کے لیے ثابت ہے اور خالق و مخلوق کے درمیان اس کے خصائص میں کوئی مشارکت نہیں ہے۔

(تفسیر القاسمی: جلد 6 صفحہ 253)

اللہ عزوجل نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کی کیونکہ انہوں نے اس کے دین کی خاطر قربانیاں پیش کیں اور جس چیز کو اللہ نے ان پر فرض نہیں کیا اسے اللہ کا تقرب جانتے ہوئے نبیﷺ کی محبت میں نفلی طور سے انجام دیا اور مندوبات و مستحبات کی ادائیگی کا فرض کی طرح اہتمام کیا۔

(کیف نکتب التاریخ الاسلامی: محمد قطب: صفحہ 90)

یہ لوگ صبر، تقویٰ اور احسان جیسے اخلاق فاضلہ سے متصف رہے جن سے اپنی محبت کا اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا ہے۔ ارشاد الہٰی ہے:

الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ‌ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‌ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 134)

ترجمہ: جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

اور ارشاد ربانی ہے

بَلٰى مَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 76)

ترجمہ: بھلا پکڑ کیوں نہیں ہوگی؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور گناہ سے بچے گا تو اللہ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اللہ تعالیٰ سے عظیم محبت کی، اللہ کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھا، اور اللہ نے جس چیز کو ناپسند کیا اس کو ناپسند رکھا، اللہ کے دوستوں سے دوستی کی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھی، اللہ کے رسول کی اتباع کی، ان کے نقش قدم پر چلے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے رب، خالق اور رازق سے محبت کی کیونکہ محسن کی محبت فطری چیز ہے اور اللہ کے احسان سے بڑھ کر کس کا احسان ہو سکتا ہے؟ جس نے پیدا کیا اور صحیح اندازہ مقرر کیا، آسان شریعت عطا فرمائی اور انسان کو اچھی شکل و ہیئت عطا کی، اطاعت شعاروں سے دائمی جنت کا وعدہ فرمایا، جس میں انواع و اقسام کی نعمتیں پیدا کیں، جنہیں کبھی کسی آنکھ نے نہ دیکھا، کسی کان نے نہ سنا اور کسی انسان کے دل و دماغ کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی۔ اس کی اور اس طرح کے بے شمار احسانات کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے رب سے بے مثال محبت کی۔ چنانچہ بلا کسی تردد کے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اہل و عیال کو قربان کر دیا اور اس کے اسباب آسان کر دیے، جس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس کو اچھی طرح ادا کیا۔

(الایمان واثرہ فی الحیاۃ: القرضاوی صفحہ 1205)

2: اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ۔ (سورۃ المائدہ آیت 54)

ترجمہ: مومنوں کے مقابلہ میں نرم اور کافروں کے مقابلہ میں سخت۔

یہ کامل ایمان والے کی صفت ہے کہ مومن اپنے بھائی اور دوست کے لیے انتہائی متواضع اور نرم اور کافر دشمن کے لیے سخت ہوتا ہے۔

(تفسیر القاسمی: جلد 6 صفحہ 255)

صفحہ 2 از 3