فصل:....[ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل: حدیث…

فصل:....[ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ساتویں دلیل: حدیث الرایہ]

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

٭ اس وصف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کسی خصوصیت کو بیان نہیں کیا گیا۔اس لیے کہ دوسرے صحابہ بھی اللہ اور اس کے رسول کو چاہتے تھے ؛ اوراللہ اوراس کا رسول بھی انہیں چاہتے تھے۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے لیے بطور تعین گواہی موجود ہے۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دس بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنت کی خوشخبری سنائی۔اورحضرت قیس بن ثابت کے لیے جنتی ہونے کی گواہی دی؛اور عبد اللہ الحمار کے لیے گواہی دی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے؛ حالانکہ انہیں کئی بار شراب نوشی پر سزا مل چکی تھی۔

٭ رافضی مصنف کا یہ کہنا کہ : ’’اس سے باقی لوگوں سے اس وصف کا انتفاء ثابت ہوتا ہے ۔‘‘اس میں دو جواب ہیں ۔

٭ پہلاجواب: اگراس بات کو تسلیم بھی کرلیا جائے توپھر بھی دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے : ’’کل میں یہ جھنڈا ایسے انسان کو دوں گا جو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنیوالا ہے اوراللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں پر فتح عطا کرے گا۔‘‘ سو یہ مجموعہ [صفات ] آپ کے ساتھ خاص ہیں اوریہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر فتح عطا کی ۔جب یہ متعین فتح آپ کے ہاتھوں پر تھی ؛ تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ دوسروں سے بھی افضل اور امامت کے لیے مختص ہوں ۔

٭ دوسراجواب: یہ کہاجائے کہ : اس بات کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کسی کوئی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میں یہ مال کسی فقیر آدمی یا نیک آدمی کو دوں گا۔یا آج کے دن میں کسی مریض کویا نیک انسان کو بلاؤں گا۔ یا میں اپنا جھنڈا کسی بہادر آدمی کو دوں گا۔ یہ اس طرح کے دیگر کلمات کہے ۔ توان الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائی جاتی کہ جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ کسی دوسرے میں یہ صفات نہیں پائی جاتی۔ بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان صفات کا حامل ایک یہ انسان بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کسی ایک نے اگر کہا ہوکہ وہ ایک ہزار درہم کسی نیک آدمی پریا فقیرپر صدقہ کر وں گا۔پھر اس نے اپنی یہ نذر پوری کردی ‘تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس آدمی کے علاوہ کو ئی دوسرا نیک یا فقیر نہیں ۔اور ایسے ہی اگر یوں کہاجائے کہ یہ مال اس آدمی کو دیدو ‘ جس نے میری طرف سے حج کیاہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی دوسرے نے اس کی طرف سے حج نہ کیا ہو ۔

٭ تیسرا جواب : اگر یہ بات مان لی جائے کہ اس وقت میں آپ ہی افضل تھے ؛ تو اس میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی کہ بعد کے کسی دوسرے وقت میں کوئی دوسرا آپ سے افضل نہ ہو۔

٭ چوتھا جواب :اگر آپ کی افضلیت کو مان بھی لیا جائے تواس سے لازم نہیں آتا کہ آپ ہی امام منصوص علیہ ہیں ۔ بلکہ بہت سارے شیعہ زیدیہ ؛ اور متأخرین معتزلہ اور دوسرے لوگ آپ کی افضلیت کا اعتقاد رکھتے ہیں ‘ مگر وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ برحق مانتے ہیں ۔ ان کے نزدیک مفضول کی ولایت جائز ہے۔ یہ بات بہت سارے ان دوسرے لوگوں کے ہاں بھی جائز جو خلفاء اربعہ میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دینے میں توقف اختیار کرتے ہیں ؛اوروہ لوگ جن کا خیال ہے کہ یہ ایک ظنی مسئلہ ہے ؛ اس میں کسی ایک متعین کی فضیلت پرکوئی دلیل قطعی موجود نہیں ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جس انسان کو صحیح سنت کی معلومات نہ ہوں ‘وہ اس مسئلہ میں شک کا شکار ہوجائے گا۔

٭ جب کہ باقی تمام مشہور ائمہ کا اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ عنہما سے افضل ہیں ۔ یہ اجماع کئی لوگوں نے نقل کیا ہے۔امام بہیقی رحمہ اللہ نے کتاب ’’ مناقب الشافعی‘‘ میں اپنی سند کے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے باقی تمام صحابہ سے افضل ہونے میں صحابہ کرام اورتابعین رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کابھی اختلاف نہیں ہے۔‘‘[یہ جملہ عبارت کتاب ’’مناقِب ِ الشافِعِی‘‘ میں وارد ہوئی ہے؛جو کہ ابوبکر أحمدبن حسین البیہقی کی تالیف ہے۔ دیکھو:۱؍۴۳۴۔اس کے بعد لکھا ہے: ’’ إِنما اختلف منِ اختلف مِنہم فِی علِیِّ وعثمان: مِنہم من قدم علِیًّا علی عثمان، ومِنہم من قدم عثمان علی علِیٍّ۔ ونحن لا نخطیِئُ أحدا مِن أصحابِ رسولِ اللہِّٰ صلی اللہ علیہِ وسلم فِیما فعلوا۔‘‘ بیشک اخلاف کرنے والوں میں یہ اختلاف بعد میں حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں واقع ہوا ہے؛ ان میں کچھ حضرت علی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہما پر اور کچھ اس کے برعکس تقدیم دیتے ہیں ۔ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا ؛ ہم ان میں سے کسی کو بھی غلط نہیں کہتے ۔‘‘ اس سے اہل سنت و الجماعت کا عادلانہ اور صاف و شفاف منہج نکھر کر سامنے آگیا۔]

٭ امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے اوروہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں : آپ فرماتے ہیں : ’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں صحابہ کرام کو ایک دوسرے پر فضیلت دیا کرتے تھے ؛ ہم کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین انسان ابوبکر اوران کے بعدعمرہیں - رضی اللہ عنہما -۔اس بارے میں امام بخاری کاکلام گزر چکا ہے۔

٭ وہ شیعہ جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وقت گزارا؛ ان کا بھی یہی عقیدہ تھا۔یہی عقیدہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی (۸۰) سے زیادہ اسناد سے منقول ہے۔ یہ ایسی قطعی اور یقینی بات ہے جو کسی بھی ایسے انسان پر مخفی نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے احوال کی معرفت رکھتا ہے ۔


صفحہ 2 از 2