فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل؛…

فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل؛ حدیث:وصیت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

اس میں کوئی شک نہیں کہ مطر نامی راوی انتہائی جھوٹا ہے۔ اس کے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے کے باوجود اہل کوفہ میں سے کسی ایک نے بھی اس سے حدیث روایت نہیں کی ۔نہ ہی اس سے یحی بن سعید القطان نے روایت کیا ہے ؛ نہ ہی وکیع نے ‘ نہ ہی ابومعاویہ نے ؛ نہ ہی ابو نعیم نے؛نہ ہی یحی بن آدم اور ان کے امثال دوسرے محدثین نے۔حالانکہ اس وقت کوفہ میں کثرت کے ساتھ شیعہ موجود تھے۔ اور وہاں کے بہت سارے عوام ایسے بھی تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر ترجیح دیتے تھے۔ اور ان کی احادیث اصحاب کتب ستہ نے روایت کی ہیں ۔ یہاں تک کہ ترمذی اور ابن ماجہ ضعفاء تک سے روایت کرتے ہیں ؛ مگر انہوں نے اس انسان سے روایت نقل نہیں کی۔ بیشک یہ روایت عبیداللہ بن موسیٰ نے اپنی خواہش نفس کی وجہ سے اس لیے نقل کی ہے کہ وہ شیعیت کی طرف میلان رکھتا تھا ۔اور اس طرح کے لوگوں سے ایسی روایات نقل کرلیا کرتا تھا بھلے وہ جھوٹے ہی کیوں نہ ہوں ۔

یہی وجہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ جیسے محدث نے عبیداللہ بن موسیٰ سے روایت نقل نہیں کی؛ بخلاف عبدالرزاق کے ۔ امام احمد فرماتے ہیں : ’’ بیشک عبید اللہ اپنے پاس موجود چیز کااظہار کرلیا کرتا تھا بخلاف عبدالرزاق کے۔

ایسے ہی جو روایات اس مطر نامی راوی نے اپنی طرف سے گھڑلی ہیں ان میں سے وہ روایات بھی ہیں جو ابوبکر خطیب نے اپنی تاریخ میں روایت کی ہیں ؛ ان میں عبیداللہ بن موسیٰ کی روایت بھی ہے جسے وہ مطر سے اوروہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتا ہے آپ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا؛ توفرمایا: ’’ میں اور یہ [یعنی علی] بروز قیامت اپنی امت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت ہوں گے ۔‘‘

ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث موضوع ہے۔‘‘ اس افتراء کاسہرا مطر کے سر ہے ؛ اس کے بارے میں ابو حاتم فرماتے ہیں : ’’ ثقہ راویوں کی طرف من گھڑت روایات منسوب کرتا ہے ۔‘‘ اس سے روایت نقل کرنا حلال نہیں ۔

٭ تیسری وجہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرض حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہیں ادا کیا۔ بلکہ صحیح روایت میں ہے :’’ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ کی درع تیس وسق جو کے بدلے ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی۔ یہ غلہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے لیے خریدا تھا۔ ‘‘[البخاری کتاب الجہاد و السیر ؛ باب ما قیل في درع النبی رضی اللّٰہ عنہم ؛ سنن الترمذي ۷؍۳۳۴؛ کتاب البیوع باب ما جاء في رخصۃ في الشرآء إلی أجل ۔ و سنن النسائي ۷؍ ۲۶۷ ؛ کتاب البیوع باب مبایعۃ أہل الکتاب۔ سنن ابن ماجۃ ۲؍۸۱۵ ؛ کتاب الرہون ؛ باب حدثنا ابو بکر ابن ابی شیبۃ۔]

یہ قرض اس گروی سے پورا کیا گیا جو آپ نے اس کے پاس رہن میں رکھی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض نہیں تھا۔ صحیح احادیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’میرے ورثہ ایک دینار یا درھم بھی تقسیم نہیں کریں گے۔ جو کچھ میں اپنے بعد چھوڑ دوں ‘وہ میری ازواج کا خرچہ ہے اور جو کچھ میرے عمال کما لائیں گے وہ صدقہ ہوگا۔‘‘

اگر آپ پر کوئی قرض ہوتا تو اسے آپ کے چھوڑے ہوئے ترکہ سے پورا کردیا جاتا۔ اس لیے کہ قرض کی ادائیگی صدقہ پر مقدم ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے یہ بات ثابت ہے۔


صفحہ 2 از 2