فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث…

فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث ’’أنت منی بمنزلۃ‘‘

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 7

اگر نائب کا خلیفہ بننا ہی اصل ہے ؛ تو پھر جس انسان کو حجۃ الوداع کے آخری موقع پر نائب بنایا گیا تھا ؛ اسے خلیفہ بننا چاہیے۔وہ اپنے سے پہلے نائبین کی نسبت خلیفہ بننے کا زیادہ حق دارہے۔

خلاصہ کلام ! مدینہ پر نائب بنایا جانا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت نہیں ۔اور نہ ہی یہ افضلیت اور امامت کی دلیل ہے۔ بلکہ آپ کے علاوہ بھی کئی دوسرے لوگوں کو مدینہ میں نائب بنایا گیا۔لیکن رافضیوں کی جہالت کی حد یہ ہے کہ وہ فضائل جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام کے مابین مشترک ہیں انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خصائص شمار کرتے ہیں ۔اگرچہ کوئی دوسرا ان فضائل میں آپ سے زیادہ کامل ہی کیوں نہ ہو۔ جیسا کہ انہوں نے نصوص اور وقائع میں کیا ہے۔

عیسائیوں نے بھی تو ایسے ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جو معجزے عطا کیے تھے؛ عیسائی انہیں صرف آپ کے ساتھ ہی خاص شمار کرنے لگے حالانکہ ان معجزات میں دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام بھی شریک ہیں ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو معجزات عطا ہوئے تھے وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات سے بڑھ کر تھے۔ اورپھر کوئی ایسا سبب بھی نہیں پایا جاتا جو ان معجزات کو ابراہیم وموسیٰ علیہماالسلام کو چھوڑ کر حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ بطور خاص واجب کرتا ہو۔ نہ ہی حلول اور نہ ہی اتحاد؛ ایسی کو ئی بھی چیز نہیں ۔بلکہ اگر یہ ساری چیزیں ممتنع ہیں ‘ تواس میں کوئی شک نہیں کہ تمام[انبیائے کرام] میں حلول اور اتحاد ممتنع ہے۔ اور اگر اس کی تفسیر کسی ممکن بات سے کی جائے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس پر ایمان ؛ اور پھر اس ایمان سے حاصل ہونے والے انوار اوردیگر امور۔تویہ مشترکہ قدر اور ممکن بات ہے۔

یہی حال شیعہ کاہے۔جو معاملات حضرت علی رضی اللہ عنہ اوردوسرے صحابہ کرام کے مابین مشترک او ران سب کو شامل ہیں ‘ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی خاص قراردیتے ہیں ۔اورپھر اسی پر عصمت ‘ امامت اور افضلیت کو مرتب کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ ساری باتیں ممنوع و منتفی ہیں ۔

جس انسان کو سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؛ احوال صحابہ رضی اللہ عنہم معانی القرآن والحدیث کی معرفت ہو ؛ وہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ یہاں پر کوئی ایسی خصوصیت نہیں ہے جس کی وجہ سے آپ کی امامت یا افضلیت کا وجوب ثابت ہوتا ہو۔ بلکہ یہ مشترکہ فضائل ہیں ۔ ان سے حاصل ہونے والا فائدہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان و ولایت کا ثبوت ہے؛ اوران ناصبی لوگوں پر رد ہے جو آپ کو گالی دیتے ؛ فاسق کہتے ؛ اور کافر قرار دیتے ہیں ۔اورآپ کی شان میں ایسے ہی نازیبا کلمات کہتے ہیں جو رافضی خلفاء ثلاثہ کی شان میں کہتے ہیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے ثابت ہونے میں نواصب پرویسے ہی رد ہے جیسے خلفاء ثلاثہ کے فضائل کے اثبات میں روافض پر رد ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر روافض اورخوارج دونوں ہی تنقید کرتے ہیں ۔جب کہ شیعان عثمان آپ کے امام برحق ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت پر جرح کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی بدعت میں شیعان علی سے بہتر ہیں جو آپ کے علاوہ دوسرے لوگوں پر جرح کرتے ہیں ۔ جب کہ زیدیہ جو کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے دوستی رکھتے ہیں ‘ اس معاملہ میں اضطراب کا شکار ہیں ۔

پس اپنی زندگی میں نائب مقرر کرنا جانشینی کی ایک قسم ہے۔ہر حکمران کے لیے ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ ضروری نہیں کہ ہر وہ انسان جو زندگی میں امت کے بعض امور پر جانشین بننے کے قابل ہو ؛ وہ موت کے بعد بھی خلیفہ بننے کی صلاحیت کا مالک ہو۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کئی لوگوں کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا ؛ مگریہ لوگ آپ کے بعد خلیفہ بننے کے قابل نہیں تھے جیسے بشیر بن عبد المنذر وغیرہ۔

نیز اس لیے بھی کہ آپ کی زندگی میں لوگوں کے حقوق کی ادائیگی آپ سے مطلوب ہے۔ جیسے کہ یہ چیز حکمرانوں سے مطلوب ہوتی ہے۔جب کہ موت کے بعد آپ سے کوئی بھی ایسی چیز مطلوب نہیں ۔اس لیے کہ آپ نے تبلیغ رسالت کا فریضہ پورا کردیا‘اور امانت کا حق ادا کردیا؛ امت کی خیر خواہی کی؛اوراس وقت تک اللہ کی بندگی کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام آپہنچا۔ آپ کی زندگی میں دشمنوں سے جہاد کرنا؛ مال فئے تقسیم کرنا؛شرعی حدود کا قیام؛عمال کا تعین آپ پر واجب تھا؛ اور ان کے علاوہ دوسرے امور جو کہ آپ کے بعد کے حکمرانوں پر واجب تھے ۔ مگر موت کے بعد تو ان میں سے کوئی ایک چیز بھی آپ پر واجب نہیں تھی۔

پس اپنی زندگی میں نائب مقررکرنا ایسا نہیں ہے جیسے موت کے بعد کے لیے نائب مقرر کرنا ہے۔اس لیے کہ انسان جب کسی کو اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو تربیت دینے کے لیے اپنا نائب مقرر کرتا ہے ؛ تو اس نائب کی حیثیت محض ایک ایجنٹ [ وکیل] کی ہوتی ہے ؛یہ صرف وہی کچھ کریگا موکّل نے جس کا حکم دیا ہے۔ اور اگر کوئی اپنے مرنے کے بعد اپنی اولاد پر کسی کو اپنا نائب مقرر کریگا تو اس کی حیثیت مستقل نائب [و ولی ] کی ہوگی ۔ یہ ان لوگوں کی مصلحت کے مطابق ہی ایسے کام کرے گا جن کا حکم اللہ اوراس کے رسول نے دیا ہے۔ اس کی حیثیت محض میت کے ایجنٹ [وکیل] کی نہیں ہوگی ۔

یہی حال حکمرانوں کا بھی ہے ۔ جب ان میں سے کوئی ایک کسی کواپنا نائب مقرر کریگا تووہ نائب بعض متعین امور میں ویسے ہی کرے گا جیسے اس کو حکم ملے گا۔ ہاں اگر اسے موت کے بعد نائب مقرر کیا جائے تو وہ اپنی ولایت میں اللہ اوراس کے رسول کے احکام کے مطابق ہی تصرف کرے گا۔اس تصرف کی نسبت اسی کی طرف ہوگی میت کی طرف نہیں ہوگی۔ بخلاف اس کے کہ اگر اس کی زندگی میں اس کے حکم سے کوئی کام کرے تو اس کی نسبت نائب بنانے والے کی طرف ہوگی۔ تو دونوں باتوں کے درمیان بہت بڑا فرق موجود ہے۔

صفحہ 6 از 7