فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث…

فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث ’’أنت منی بمنزلۃ‘‘

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 7

یہ حدیث اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتا ۔ بلکہ آپ نے اس کا تذکرہ بوجہ ضرورت کے کیا تاکہ اس پر لعنت کرنے سے روکا جائے۔

ایسے ہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اسے رہنے دو ‘ اس لیے کہ اس نے غزوہ بدر میں شرکت کی ہے ۔‘‘[تخریج گزرچکی ہے]۔

اس سے یہ ثابت نہیں ہوتاکہ آپ کے علاوہ کوئی دوسرا بدر میں شریک نہیں ہوا؛ بلکہ اس کا تذکرہ اس وجہ سے کیا کہ اس کی غلطی سے درگزر کرلیا جائے۔

ایسے ہی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ مبشرہ کا نام لے کر انہیں جنت کی ضمانت دی ؛ تو اس سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا جنت میں داخل نہیں ہوگا؛ بس اس موقع کا تقاضا یہی تھا اس لیے آپ نے خصوصی تذکرہ فرمایا۔

ایسے ہی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن اورحضرت اسامہ رضی اللہ عنہما کے لیے فرمایا:

’’ اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت کر ؛ اور جو کوئی ان دونوں سے محبت کرے ‘ اس سے بھی محبت کر ۔‘‘[تخریج گزرچکی ہے]

اس سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ان دونوں کے علاوہ کسی اور سے محبت نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ دوسرے ایسے لوگ بھی تھے ؛ جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے بڑھ کر محبت کرتے تھے۔

ایسے ہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا:

’’ جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘[تخریج گزرچکی ہے]

تو اس حدیث کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ ان کے علاوہ باقی سبھی لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ۔

اسی طرح جب آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابراہیم اور حضرت عیسی علیہماالسلام سے تشبیہ دی ؛ تو یہ اس بات میں مانع نہیں ہے کہ آپ کی امت میں کو ئی دوسرا بھی ان دونوں انبیاء کرام علیہماالسلام سے مشابہت رکھتا ہو۔ اور ایسے ہی جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت نوح اور حضرت موسیٰ علیہماالسلام سے تشبیہ دی تو اس سے کہیں بھی یہ ممانعت ثابت نہیں ہوتی کہ امت میں کوئی دوسرا ان دونوں انبیاء کرام علیہم السلام کے مشابہ نہیں ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ : آپ کی امت میں سے جو لوگ انبیائے کرام علیہم السلام سے مشابہت رکھتے ہیں ‘ ان میں سے یہ دو حضرات افضل ترین لوگ ہیں ؟

تواس کے جواب میں کہا جائے گاکہ : اختصاص میں کمال اصل ِ تشبیہ میں مشارکت سے مانع نہیں ہوسکتا۔

ایسے ہی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ’’ آپ صاحب یس کی طرح ہیں ۔‘‘

ایسے ہی آپ نے قبیلہ اشعری کے بارے میں فرمایا: ’’ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں ۔‘‘

یہ صرف اس قبیلہ کیساتھ ہی خاص نہیں ؛ بلکہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی فرمایا : ’’ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں ۔‘‘

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ آپ ہمارے بھائی اور ہمارے مولا[دوست ] ہیں ۔‘‘

یہ بات صرف حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی خاص نہیں تھی ؛ بلکہ آپ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ایسے ہی فرمایا تھا۔

جملہ طور پر اس باب میں امثال اور تشبیہات بہت زیادہ ہیں ۔ ان سے کہیں بھی ہر لحاظ سے تماثل کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کا اعتبار سیاق کلام کے لحاظ سے ہوتا ہے ۔ اور نہ ہی اس کا تقاضا مشبہ کے لیے تشبیہ میں تخصیص کا ہوتا ہے۔ بلکہ اس میں کسی دوسرے کی شراکت بھی ممکن ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ﴾ [البقرۃ ۲۶۱]

’’جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سے سو دانے ہوں ۔‘‘

نیز فرمان الٰہی ہے : ﴿وَاضْرِبْ لَہُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَۃِ [اِذْ جَآئَ ہَا الْمُرْسَلُوْنَ]﴾ [یس۱۳]

’’اور آپ ان کے سامنے ایک مثال (یعنی ایک)بستی والوں کی مثال (اس وقت کا) بیان کیجئے [جبکہ اس بستی میں (کئی)رسول آئے] ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْہَا صِرٌ﴾[آل عمران]

’’یہ کفار جو خرچ کریں اس کی مثال یہ ہے ایک تند ہوا چلی جس میں پالا تھا۔‘‘

یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن میں بیالیس مثالیں بیان کی گئی ہیں ۔

اب کہنے والے کا یہ دعوی کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبوت کے سوا باقی ہر بات میں ہارون علیہ السلام کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ محض باطل کلام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی ’’اَمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی‘‘سے واضح ہوتا ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو راضی کرنا چاہتے تھے۔ اور آپ کا دل خوش کرنا چاہتے تھے۔اس لیے کہ آپ کو یہ خیال پیدا ہوگیا تھا کہ ان کو پیچھے چھوڑ کر جانے سے ان کے درجہ میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلط فہمی کے ازالہ کے لیے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔

آپ کے فرمان : ’’بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی‘‘اسے آپ کا مقصد یہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ہارون علیہ السلام جیسا مرتبہ حاصل ہے۔اس لیے نہیں کہ وہ مقام و مرتبہ جو حضرت ہارون کوحضرت موسیٰ علیہماالسلام سے تھا وہ کسی بھی دوسرے کے لیے نہیں ہوسکتا۔بلکہ کسی دوسرے کے لیے اس کے مشابہ مقام و مرتبہ ہوسکتا ہے۔یہ قول ایسے ہی جیسے مثال کے بیان میں ہوتاہے ؛ اور جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا: ’’ اس کی مثال حضرت ابراہیم اور عیسی علیہماالسلام کی ہے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا: ’’اس کی مثال حضرت موسیٰ اور نوح علیہماالسلام کی ہے ۔‘‘

صفحہ 4 از 7