فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث…

فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث ’’أنت منی بمنزلۃ‘‘

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 7

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے یہ فرمانا کہ آپ کی مثال ایسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیم اور حضرت عیسی علیہماالسلام کی مثال ۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے یہ فرمانا کہ آپ کی مثال ایسے ہی ہے جیسے حضرت نوح اور حضرت موسی علیہماالسلام کی مثال ۔یہ بات اس سے بہت بڑھ کر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میری نسبت سے آپ کی وہی منزلت ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت سے حضرت ہارون علیہ السلام کی منزلت ۔ اس لیے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابراہیم ‘ حضرت نوح ؛ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام یقیناً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسبت بڑے مقام و مرتبہ والے انبیائے کرام علیہم السلام ہیں ۔ اس حدیث میں ان دونوں صحابہ کرام حضرت ابوبکر اورحضرت عمر رضی اللہ عنہما کو ان چار جلیل القدر انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تشبیہ ہر لحاظ سے ہے۔ بلکہ سیاق کلام کی دلالت کے اعتبار سے مقصود صرف یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ لطافت طبع اور نرم مزاجی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے طبعی تشدد میں حضرت نوح علیہ السلام کی مانند تھے۔

ایسے ہی یہاں پر [حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہارون علیہ السلام کے ساتھ تشبیہ صرف اس اعتبار سے دی گئی ہے ]جس پر سیاق کلام دلالت کرتا ہے ۔ اوروہ یہ ہے کہ جس طرح ہارون موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں ان کے قائم مقام قرا ر پائے تھے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں آپ کے نائب و خلیفہ تھے۔

یہ استخلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت نہیں ہے اور نہ ہی آپ کے دیگر استخلافات کی مانندہے؛ چہ جائے کہ آپ کے بقیہ استخلافات سے افضل ہو۔کئی بارغزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو اپنا نائب اور خلیفہ مقرر کیا جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کئی گنا زیادہ افضل و بڑھ کر تھے۔ایسی صورت میں وہ لوگ جو دیگر مواقع پر خلیفہ بنائے گئے ‘ ان کی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تقدیم یا افضلیت ثابت نہیں ہوتی۔ تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایسی نیابت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا موجب ہو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر مدینہ طیبہ میں مختلف لوگوں کو اپنا نائب بنایا۔ آپ کے مقرر کردہ نائبین اس طرح تھے جیسے حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہماالسلام کے خلیفہ تھے؛یہ اسی استخلاف کی جنس سے ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا تھا۔ بلکہ باقی استخلافات اس لیے اس سے افضل تھے کہ عام استخلافات میں غزوہ تبوک میں پیچھے رہ جانے والوں کی نسبت زیادہ اور افضل لوگ ہوا کرتے تھے۔ اور اس وقت میں مدینہ میں کسی کو نائب بنانے کی ضرورت بھی بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔ اس لیے کہ مدینہ پر دشمن کی یورش[حملہ ] کا خوف ہواکرتا تھا۔

تبوک والے سال تمام حجاز کے عرب مسلمان ہوچکے تھے۔ مکہ مکرمہ فتح ہوچکا تھا؛ اسلام کو غلبہ اور قوت حاصل ہوچکی تھی ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ملک ِ شام کے اہل کتاب کے ساتھ جہاد کیا جائے۔ اس وقت مدینہ میں دشمن سے مقابلہ کرنے والے مجاہدین کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کسی ایک مجاہد کو بھی باقی نہ چھوڑا تھا۔ جیسا کہ باقی تمام غزوات آپ کی عادت مبارکہ تھی کی کچھ مجاہدین کو مدینہ میں باقی چھوڑا کرتے تھے ؛ اس بار آپ نے تمام مجاہدین کو اپنے ساتھ لے لیا تھا‘ کسی ایک کو بھی مدینہ میں باقی نہیں چھوڑا ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تخصیص بالذکر لقب کے مفہوم سے ظاہر ہو رہی ہے۔ لقب دو قسم کا ہوتا ہے:

۱۔ وہ لقب جو جنس کی حیثیت رکھتا ہے۔

۲۔ وہ لقب جو عَلَمْ کا قائم مقام ہوتا ہے۔ مثلاًزید؛ و أنت۔ یہ مفہوم نہایت کمزور ہے۔

اسی لیے تمام فقہاء اور علمائے اصول کا نظریہ یہ ہے کہ اس روایت سے احتجاج نہیں کیا جا سکتا۔مثال کے طور پر جب یہ کہا جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ‘ تو اس سے باقی رسولوں کی نفی نہیں ہوتی۔لیکن اگر سیاق کلام میں کوئی ایسی چیز ہو جس کا تقاضا تخصیص کا ہو تو پھر صحیح مذہب کے مطابق ایسی روایت سے استدلال کرنا جائز ہوتا ہے ۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ﴿ فَفَھَّمْنٰہَا سُلَیْمٰنَ ﴾ [انبیاء ۷۹]

’’ اور ہم نے سلیمان علیہ السلام کو خوب سمجھ عطا کی ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿کَلَّا اِِنَّہُمْ عَنْ رَبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُوْنَ ﴾ [مطففین ۱۵]

’’ہر گز نہیں ‘ بیشک اس دن وہ اپنے رب سے پردہ میں ہوں گے ۔‘‘

ہاں جب تخصیص کی مقتضیٰ سبب کی بنیاد پر ہو تو باتفاق الناس ایسی روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔ یہ روایت بھی اسی ضمن کی روایات میں سے ایک ہے ۔ اس روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بطورخاص ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تھے کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے ساتھ چھوڑے جارہے ہیں ؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ جتنے لوگوں کو خلیفہ یا نائب بنایا گیا تھا ؛ ان میں سے کسی ایک کے بھی ذہن میں یہ بات نہیں آئی [نہ ہی انہوں نے کوئی اعتراض کیا ‘ اور ]نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت پیش آئی کہ وہ دوسرے لوگوں کو اس طرح کی کوئی بات بتائیں ۔پس جب یہاں پر بطور خاص آپ کا تذکرہ کرنے کی وجہ وہ سبب ہے جس کا تقاضا یہ تھا کہ یہ جملہ بطور خاص آپ کے لیے ذکر کیا جائے۔ پس اس حدیث میں کہیں بھی اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ کوئی دوسرا آپ کے لیے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام کی منزلت پر نہیں ہوسکتا ۔جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر؛ جسے شراب پینے کے جرم میں مارا جارہا تھا؛ لعنت کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا:

’’ اس پر لعنت مت کرو؛ اس لیے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے ۔‘‘[تخریج گزرچکی ہے]

صفحہ 3 از 7