فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث…

فصل:....امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسری دلیل؛ حدیث ’’أنت منی بمنزلۃ‘‘

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 7

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے آپ کو امین سمجھ کر اپنا نائب مقرر کیا ہے؛ بغض کی بنا پر نہیں ۔ اور کہ نائب بنائے جانے سے شان میں کوئی کمی نہیں آتی؛ اور نہ ہی اس میں کسی کے لیے کوئی حسد و بغض ہے۔جب حضرت موسی علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب بنارہے ہیں تو پھر یہ فعل نقص کس طرح سے ہوسکتا ہے؟[ جس طرح موسیٰ علیہ السلام نے اپنی عدم موجودگی میں حضرت ہارون کو اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ اسی طرح میں بھی تمہیں نائب مقرر کررہا ہوں ]۔اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مطمئن کردیا۔آپ نے یہ تسلی دی کہ کسی کو نائب بنایا جانا اس کے امین اور صاحب ِمرتبت ہونے کی دلیل ہے ۔اس میں کسی کی اہانت یا خیانت نہیں ۔اس لیے کہ نائب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں تمام امور پر امین و نگہبان ہوگا ؛ چونکہ باقی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں نکل چکے تھے۔

بادشاہوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب وہ کسی جنگ کے لیے نکلتے ہیں تو ان لوگوں کو اپنے ساتھ لیتے ہیں جن سے زیادہ مدد حاصل ہوسکتی ہو۔ یا پھر جن کی ہمراہی کا فائدہ زیادہ ہو۔ جن کے مشورہ کی ضرورت زیادہ ہو ‘ اور جن کی زبان اور ہاتھ اور تلوار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہوسکتا ہو۔

پس پیچھے رہ جانے والوں کے لیے کسی بڑی سیاست کی ضرورت نہیں تھی۔اس لیے ان ساری باتوں کی چنداں حاجت نہیں تھی۔ اس وجہ سے بعض لوگوں نے اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں نقص اور کمی شمار کیا ؛ اور آپ کو آپ کی منزلت سے کم جانا۔اس لیے کہ اس اہم ترین موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنے ساتھ لیکر نہیں گئے جس میں سعی و اجتہاد کی بہت زیادہ ضرورت تھی ؛ بلکہ آپ کو ان مواقع پر چھوڑ دیا جن پر کسی بڑی سعی و اجتہاد کی ضرورت نہ تھی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمادیا کہ آپ کو نائب بناکر پیچھے چھوڑنے سے آپ کی شان میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اس لیے کہ اگر ایسا کرنا نقص یا عیب ہوتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ کبھی بھی ایسا نہ کرتے ۔مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا استخلاف حضرت ہارون علیہ السلام کی خلافت و نیابت کی مانند نہ تھا ۔ اس لیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مناجات باری تعالیٰ کے لیے کوہ طور پر گئے تھے توآپ اکیلے گئے تھے ‘ اور اپنی عدم موجودگی میں ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ اور پورا لشکر حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس وقت مدینہ کا نائب مقرر کیا گیا تھا جب کہ تمام اہل اسلام کا لشکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں جنگ کے لیے جا رہے تھے۔اورمدینہ میں سوائے خواتین ‘ بچوں اور معذوروں کے علاوہ صرف وہ لوگ باقی تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہوئے پیچھے رہ گئے تھے۔

کسی کا یہ کہنا کہ : ’’ یہ چیز فلاں چیز کی منزلت پر ہے ۔‘‘ یا یہ کہنا کہ : ’’ فلاں چیز فلاں دوسری چیز کی مانند ہے ۔‘‘ تو کسی چیز کی دوسری چیز سے تشبیہ سیاق کی دلالت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔اس کا تقاضا ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ یہ دونوں چیزیں ہر لحاظ سے اور ہر چیز میں مساوی ہیں ۔ [ باقی رہا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ تھے:’’اَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی‘‘تو یاد رہے کہ ایسے الفاظ میں تشبیہ ہر لحاظ سے مقصود نہیں ہوتی اور یہ مطلب نہیں ہوتا کہ مُشَبَّہ اور مُشَبَّہ بِہٖ دونوں بالکل مساوی ہیں ۔]

[حدیث استخلاف کی توضیح]:

کیا آپ دیکھتے نہیں ہے کہ صحیحین میں بدر کے قیدیوں والی روایت موجود ہے ۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے بارے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو آپ فدیہ لیکر رہا کردینے کا مشورہ دیا۔اور جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا تو آپ نے ان سب کو قتل کردینے کا مشورہ دیا ۔ اس روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ابھی تمہیں تمہارے دونوں ساتھیوں کے بارے میں بتاؤں گا۔

اے ابو بکر رضی اللہ عنہ ! آپ کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ہے جنہوں نے فرمایا تھا:

﴿ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ [ابراہیم۳۶]

’’پس جو کوئی میری اتباع کرے وہ مجھ سے ہے ‘ اور جو میری نافرمانی کرے بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘

اور حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح ہے جنہوں نے فرمایا تھا:

﴿اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَ اِنْ تَغْفِرْلَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ﴾ [المائدۃ۱۱۸]

’’ اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو معاف فرما دے تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے۔‘‘

اور اے عمر! آپ کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی طرح ہے جنہوں نے فرمایا تھا:

﴿ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ دَیَّارًا ﴾ [نوح ۲۶]

’’کہ اے میرے پالنے والے! تو روئے زمین پر کسی کافر کو رہنے سہنے والا نہ چھوڑ۔‘‘[مسند احمد(۱؍۳۸۳۔۳۸۴) ،مستدرک حاکم(۳؍۲۱۔۲۲)، و اسنادہ ضعیف۔ ابو عبیدہ کا اپنے والد عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے۔]

اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہے جنہوں نے فرمایا تھا:

﴿رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰٓی اَمْوَالِہِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ

[یونس]

’’ اے ہمارے رب!ان کے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کردے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں ۔‘‘

صفحہ 2 از 7