حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ کا فتوٰی - فتاویٰ…

حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ کا فتوٰی


صفحہ 3 از 3
یا فرض کیجیے! ایک شخص تسلیم کرتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے تواتر کے ساتھ آخری زمانے میں حضرت عیسیٰؑ کے نازل ہونے کی خبر دی تھی، لیکن ساتھ ہی کہتا ہے کہ عیسیٰؑ سے خود اس کی ذات مراد ہے۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰؑ کے نزول پر ایمان رکھتا ہے؟
الغرض ضروریاتِ دین میں اجماعی اور متواتر مفہوم کے خلاف کوئی تاویل کرنا بھی درحقیقت ضروریاتِ دین کا انکار ہے۔ ضروریاتِ دین میں ایسی تاویل کرنا الحاد و زندقہ کہلاتا ہے، قرآن کریم میں ہے:
ان الذين يلحدون فی اياتنا لا يخفون علينا، افمن يلقى في النار خير ام من ياتی امانا يوم القيامه اعملوا ما شئتم انه بما تعملون بصير
ترجمہ: جو لوگ ٹیڑھے چلتے ہیں ہماری باتوں میں، وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ، بھلا ایک پڑتا ہے آگ میں، وہ بہتر ہے یا جو آئے گا امن سے، دن قیامت کے، کیے جاؤ جو چاہو، بے شک جو تم کرتے ہو، وہ دیکھتا ہے۔
جو لوگ ضروریاتِ دین میں تاویلیں کر کے انہیں اپنے عقائد پر چسپاں کرتے ہیں، انہیں ملحد و زندیق کہا جاتا ہے، اور ایسے لوگ نہ صرف کافر و مرتد ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر کیونکہ کافر اور مرتد کی توبہ قبول کی جاتی ہے، لیکن زندیق کی توبہ بھی قبول نہیں کی جاتی۔
رقم الحروف نے اپنے رسالے قادیانی جنازہ: میں زندگی کے بارے میں ایک نوٹ لکھا تھا، جسے جیل میں نقل کیا جاتا ہے
جو شخص کفر کا عقیدہ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو اسلام کی طرف اس منسوب کرتا ہو، اور نصوص شرعیہ کی غلط سلط تاویلیں کر کے اپنے عقائدے کفریہ کو اسلام کے نام سے پیش کرتا ہو، اسے زندیق کہا جاتا ہے ۔ علامہ شامیؒ باب المرتد میں لکھتے ہیں:
فان الزنديق يموه كفره يروج عقيده الفاسده ويخرجها في صورة الصحيحه هذا معني ابطان الكفر
ترجمہ: کیونکہ زندگی اپنے کفر پر ملمع کیا جاتا ہے اور اپنے عقیدہ فاسدہ کو رواج دینا چاہتا ہے اور اسے بظاہر صحیح صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور یہی معنیٰ ہے کفر کو چھپانے کے۔
امام الہند حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی صاحبؒ مسوی شرح مؤطا میں لکھتے ہیں:
بيان ذلك ان المخالف للأين الحق ان لم يعترف به ولم يذعن له لا ظاهر أو لا باطناً فهو كافر وان اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهو المنافق ، وان اعترف به ظاهراً ، لكنه يفسر بعض ما ثبت من الدين ضرورة بخلاف ما فسره الصحابة والتابعون واجتمعت عليه الأمة فهو الزنديق
 ترجمہ: شرح اس کی یہ ہے کہ جو شخص دین حق کا مخالف ہے، اگر وہ دین اسلام کا اقرار ہی نہ کرتا ہو اور نہ دین اسلام کو مانتا ہو ، نہ ظاہری طور پر اور نہ باطنی طور پر تو وہ کافر کہلاتا ہے۔اور اگر زبان سے دین کا اقرار کرتا ہو لیکن دین کے بعض قطعیات کی ایسی تاویل کر تا ہو جو صحابہ کرامؓ و تابعینؒ اور اجماع امت کے خلاف ہو تو ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے۔
 خلاصہ یہ کہ جو شخص اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کے رنگ میں پیش کرتا ہو ، اسلام کے قطعی و متواتر عقائد کے خلاف قرآن و سنت کی تاویلیں کرتا ہو، ایسا شخص زندیق کہلاتا ہے۔
( آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد، 1 صفحہ، 63 )
 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
 یہ طے شدہ امر ہے (جس میں کسی کا اختلاف نہیں) کہ محمد رسول اللہﷺ کے لائے ہوئے پورے دین کو :من و عن: تسلیم کرنا اسلام ہے اور دینِ محمدی ﷺ کی کسی بات قبول نہ کرنا کفر ہے کیونکہ یہ حضور اکرم ﷺ کی تکذیب ہے ۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد، 1 صفحہ، 60 )
ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
حضور اکرمﷺ نے خدا تعالٰیﷻ سے پا کر جو دین امت کو دیا ہے ۔ اس پورے کے پورے دین کو اور اس کی ایک ایک بات کو ماننا اسلام ہے ، اور ماننے والے کو مسلمان کہتے ہیں، اور دین اسلام کی جو باتیں حضور اکرم ﷺ نے بیان فرمائی ہیں ان میں سے کسی ایک بات کو نہ ماننا یا اس میں شک یا تردد کا اظہار کرنا کفر کہلاتا ہے۔ پس جو شخص دین اسلام کی کسی قطعی اور یقینی بات کو جھٹلاتا ہے یا اس کا مذاق اڑاتا ہے وہ مسلمان نہیں۔ 
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد، 1 صفحہ، 78 )
 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
 ایسے تمام دینی امور جن کاثبوت حضور اکرم ﷺ سے قطعی تواتر کے ساتھ ثابت ہے، اور جن کا دین محمدی ﷺ میں داخل ہونا ہر خاص و عام کو معلوم ہے ، ان کو ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے ۔ ان تم امور کی تاویل کو بغیر تاویل کے ماننا اسلام ہے ۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا اس میں تاویل کرنا کفر ہے۔ 
 آپ کے مسائل اوران کا حل : جلد، 2 صفحہ، 44 )
ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
ایسے تمام امور جن کا ثبوت حضور اکرم ﷺ سے قطعی تواتر کے ساتھ ثابت ہے،اور جن کا دین محمدی ﷺ میں داخل ہونا ہر خاص و عام کو معلوم ہے ان کو ضروریات دین کہا جاتا ہے ان تمام امور کو بغیر تاویل کے ماننا شرطِ اسلام ہے ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا اس میں تاویل کرنا کفر ہے۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد، 2 صفحہ، 44)

صفحہ 3 از 3