حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ کا فتوٰی - فتاویٰ…

حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ کا فتوٰی


صفحہ 2 از 3
حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ، حضرت مولانا منظور نعمانی صاحبؒ کی اس عظیم تالیفی کاوش کو بجا طور پندرہویں صدی کے اوائل کا تجدیدی کارنامہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: 
عام غلط فہمی یہ ہے کہ شیعہ مذہب بھی اسلام کے اندر مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ ہے۔ یہ غلط فہمی اس لیے ہوئی کہ شیعہ پر تقیہ کی سیاہ چادر تنی رہی، ورنہ شیعہ مذہب ناصرف یہ کہ بے شمار ضروریاتِ دین اور متواترات اسلام کا منکر ہے۔ بلکہ اس کا کلمہ بھی جو دین کی اولین احساس ہے مسلمانوں سے الگ ہے، اور قرآن کریم جو دین کا سر چشمہ ہے یہ اس کی تحریف کا بھی قائل ہے۔ جس گروہ کا کلمہ اور قرآن تک مسلمانوں سے الگ ہو ان کو مسلمان کہنا خود اسلام کی نفی ہے۔
(نظام خلافت راشدہ رسالہ: فروری 2014 عیسوی صفحہ، 19)
ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
ضروریاتِ دین ایسے بنیادی امور ہیں، جن کا تسلیم کرنا شرط اسلام ہے، اور ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنا کفر و تکذیب ہے۔ خواہ کوئی دانستہ کرے یا نا دانستہ طور پر،خواہ واقف ہو کے یہ مسئلہ ضروریاتِ دین میں سے ہے یا واقف نہ ہو، بہر صورت کافر ہوگا۔
شرح عقائد نسفى میں یے: 
الایمان فی الشرع هو التصديق بما جاء به من عند الله اي تصديق النبي عليه السلام بالقلب في جميع ما علم بالضرورة مجينه به من عند الله تعالى:
ترجمہ: شریعت میں ایمان کے معنیٰ ہیں ان تمام امور میں آپ ﷺ کی تصدیق کرنا جو آپ اللہ تعالیٰﷻ کی طرف سے لائے ہیں، یعنی ان تمام امور میں نبی کریم ﷺ کی دل و جان سے تصدیق کرنا جن کے بارے میں بداہتًہ معلوم ہے کہ آپ ان کو اللہﷻ کی طرف سے لائے۔ 
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جو شخص ضروریاتِ دین کا منکر ہو وہ حضور اکرم ﷺ پر ایمان نہیں رکھتا۔
علامہ شامیؒ ردالمحتار شرح در مختار میں لکھتے ہیں:
لا خلاف فی کفر المخالف فی ضروریات الاسلام وان کان من اہل القبلۃ المواظب طول عمرہ على الطاعات كما في شرح ترى التحرير:
ترجمہ: جو شخص ضروریاتِ دین میں مسلمانوں کا مخالف ہو، اس کے کافر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، اگرچہ وہ اہل قبلہ ہو اور مدة العمر طاعات اور عبادات کی پابندی کرنے والا ہو، جیسا کہ شرح تحریر میں اس کی تصریح ہے۔
حافظ ابن حزم ظاہریؒ لکھتے ہیں: 
وصح الاجماع علی ان كل من جحد شيئا صح عندنا بالاجماع ان رسول الله ﷺ اتی به فقد كفر، وصح بالنص ان كل من استهزأ بالله تعالى، او بملك من الملائكه او بنبی من الانبياء، عليهم السلام او بآية من القرآن او بفريضۃ من فرائض الدين فهي كلها آیات الله تعالى، بعد بلوغ الحجۃ اليه فهو كافر، ومن قال بنبی بعد النبی عليه الصلوة والسلام اوجحد شينا صح عنده بان النبي ﷺ قاله فهو كافر
 ترجمہ: اور اس بات پر صحیح اجماع ثابت ہے کہ جو شخص کسی ایسی بات کا انکار کرے جس کے بارے میں جماعت سے ثابت ہو کہ حضور اکرم ﷺ اس کو لائے تھے، تو ایسا شخص بلا شبہ کافر ہے، اور یہ بات بھی نص سے ثابت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰﷻ کا، کسی فرشتے کا، کسی نبی کا، قرآن کریم کی کسی آیت کا، دین کے فرائض میں سے کسی فریضے کا مذاق اڑائے (واضح رہے کہ تمام فرائض آیت اللہ ہیں) حالانکہ اس کے پاس حجت پہنچ گئی ہو، ایسا شخص کافر ہے، اور جو شخص حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی نبی کا قائل ہو، یا کسی ایسی چیز کا انکار کرے کہ اس کے نزدیک ثابت ہو کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ بات فرمائی ہے، تو وہ بھی کافر ہے۔
اور قاضی عیاض مالکی صاحبؓ: الشفاء  میں لکھتے ہیں:
وكذلك وقع الاجماع على تكفير كل من دافع نص الكتاب او خص حديثا مجمعا على نقله مقطوعا به مجمعا على حمله على ظاهره
ترجمہ: اسی طرح اس شخص کی تکفیر پر بھی اجماع ہے۔
جو کتاب اللہ کی نص کا مقابلہ کرے، یا کسی ایسی حدیث میں تخصیص کرے جس کی نقل پر اجماع ہو، اور اس پر بھی اجماع ہو کہ وہ اپنے ظاہر پر محمول ہے۔
آگے لکھتے ہیں: 
وكذلك نقطع بتكفير كل من كذب وانكر قاعة من قواعدة الشرع وما عرف يقينا بالنقل المتواتر من فعل الرسولﷺ ووقع الاجماع المتصل عليه..... الخ
ترجمہ: اسی طرح ہم اس شخص کو بھی قطعی کافر قرار دیتے ہیں جو شریعت کے قاعدوں میں سے کسی قاعدے کا انکار کرے، اور ایسی چیز کا انکار کرے جو حضور اکرم ﷺ سے نقل متواتر کے ساتھ منقول ہو اور اس پر مسلسل اجماع چلا آتا ہو۔
علمائے امت کی اس قسم کی تصریحات بے شمار ہیں، نمونے کے طور پر چند حوالے درج کیے گئے ہیں.
خلاصہ یہ ہے کہ ضروریاتِ دین کا اقرار و انکار۔ اسلام اور کفر کے درمیان حد فاصل ہے ۔ جو شخص ضروریاتِ دین کو: من و عن: بغیر تاویل کے قبول کرتا ہے، وہ دائرہ اسلام میں داخل ہے، وہ جو شخص ضروریاتِ دین کا انکار کرتا ہے یا ان میں سے ایسی تاویل کرتا ہے کہ جس سے ان کا متواتر مفہوم بدل جائے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ 
اور جو مسائل ایسے ہوں کہ ہیں تو قطعی و اجماعی، مگر ان کی شہرت عوام تک نہیں پہنچی صرف اہل علم تک محدود ہے، ان کو قطعیات تو کہا جائے گا، مگر ضروریات نہیں کہا جاتا۔ ان کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کا انکار کرے تو پہلے اس کو تبلیغ کی جائے، اور ان کا قطعی اور اجماعی ہونا اس کو بتایا جائے، اس کے بعد بھی اگر انکار پر اصرار کرے تو خارج از اسلام ہوگا۔
نوٹ: ضروریاتِ دین کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ان کے الفاظ کو مان لیا جائے، بلکہ ان کے اس معنیٰ و مفہوم کو ماننا بھی ضروری ہے جو حضور اکرم ﷺ سے لے کر آج تک تواتر اور تسلسل کے ساتھ مسلم چلے آتے ہیں۔
فرض کیجیے! ایک شخص کہتا ہے کہ میں قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ قرآن کریم کے بارے میں میرا عقیدہ یہ نہیں کہ یہ حضور اکرم ﷺ پر بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ ﷻ کی طرف سے نازل ہوا، جیسا کہ مسلمان سمجھتے ہیں، بلکہ میں قرآن مجید کو حضور اکرم ﷺ کی اپنی تصنیف کردہ کتاب سمجھتا ہوں۔ کیا کوئی شخص تسلیم کرے گا کہ ایسا شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے؟
یا فرض کیجیے! ایک شخص کہتا ہے کہ میں: محمد رسول اللہ ﷺ سے خود میری ذات مراد ہے۔ کیا کوئی عاقل کہہ سکتا ہے کہ یہ شخص محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتا ہے؟
صفحہ 2 از 3