حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ کا فتوٰی - فتاویٰ…

حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ کا فتوٰی


صفحہ 1 از 3
سوال: کافر، مرتد اور زندیق میں کیا فرق ہے؟ وضاحت فرمائیں؟
جواب: کافر اور مرتد کے درمیان فرق یہ ہے کہ کافر تو وہ ہے جو شروع ہی سے اسلام کو قبول نہ کرے۔ اور مرتد وہ ہے جو دین میں داخل ہونے کے بعد کفر کی طرف لوٹ جائے ۔ دین اسلام کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اسلام کے ان تمام باتوں کو تسلیم کرے جن کا ثبوت قطعی تواتر کے ساتھ ہوا ہے اور جن کو ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے۔
ان میں سے کسی ایک کا انکار پورے دین کو نہ ماننے کے ہم معنیٰ ہیں۔ مثلاً: قرآن کریم کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اول سے آخر تک پورے قرآن مجید کو اللہ تعالیٰﷻ کا کلام مانے اور نہ ماننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ پورے قرآن کا انکار کیا جائے، بلکہ نعوذ باللہ ایک آیت کا انکار بھی پورے قرآن کا انکار ہے۔ 
الغرض تمام ضروریات دین کا ماننے والا مسلمان ہے اور ان میں سے کسی ایک کا منکر کافر ہے۔ وہ جو نہ ماننے کے بعد منکر ہو جائے وہ مرتد ہے۔
جو لوگ پہلے مسلمان تھے، پھر کسی جھوٹے مدعی نبوت کو ماننے لگے، وہ تو کھلے مرتد ہیں۔ اور جو لوگ دعویٰ اسلام کے باوجود کسی جھوٹے مدعی نبوت کو مانتے ہیں، وہ زندیق ہیں۔ کیونکہ جو لوگ اپنے مذہب کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہوں، وہ کافر بھی ہیں اور زندیق بھی۔ 
(فتاویٰ بینات: جلد، 1 صفحہ، 375)
سوال: مسلمان کی تعریف کیا ہے؟
جواب: حضور اکرم ﷺ کے لائے ہوئے پورے دین کو ماننے والا مسلمان ہے، اسلام کے وہ امور جن کا دین میں داخل ہونا قطعی تواتر سے ثابت اور عام و خاص کو معلوم ہو، ان کو ضروریات دین کہتے ہیں۔ ان ضروریات دین میں سے کسی ایک بات کا انکار یا تاویل کرنے والا کافر ہے۔ 
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد، 1 صفحہ، 55)
سوال: آدمی کن باتوں سے کافر ہو جاتا ہے؟
جواب: وہ تمام باتیں جو حضور اکرم ﷺ سے تواتر کے ساتھ منقول چلی آئی ہیں اور جن کو گزشتہ صدیوں کے اکابر مجدّدین بلا اختلاف و نزاع، ہمیشہ مانتے چلے آئے ہیں (ان کو ضروریات دین کہا جاتا ہے) ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے اور منکر کافر ہے۔ کیونکہ ضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا انکار حضور اکرم ﷺ کی تکذیب اور پورے دین کے انکار کو مستلزم ہے، جیسا کہ قرآن مجید کی ایک آیت کا انکار پورے قرآن مجید کا انکار ہے۔ 
اور یہ اصول کسی آج کے ملّا، مولوی کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰﷻ اور حضور اکرم ﷺ کا ارشاد فرمودہ ہے اور بزرگان سلفؒ ہمیشہ اس کو لکھتے آئے ہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حال: جلد، 2 صفحہ، 97)
 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
ایمان نام ہے حضور اکرم ﷺ کے لائے ہوئے پورے دین کو بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے قبول کرنے کا اور اس کے مقابلے میں کفر نام ہے حضور اکرم ﷺ کے دین کی کسی قطعی و یقینی بات کو نہ ماننے کا۔ قرآن کی بے شمار آیات میں مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ کے ماننے کو ایمان اور مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ: میں سے کسی ایک کے نہ ماننے کو کفر فرمایا گیا ہے۔ اس طرح احادیث شریفہ میں بھی یہ مضمون کثرت سے آیا ہے، مثلاً ، (صحیح مسلم شریف: جلد، 1 صفحہ، 37) کی حدیث میں ہے: اور وہ ایمان لائیں مجھ پر اور جو کچھ میں لایا ہوں۔
اس سے مسلمان اور کافر کی تعریف معلوم ہو جاتی ہے۔ یعنی جو شخص محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی تمام قطعی و یقینی باتوں کو من و عن  مانتا ہو مسلمان ہے، اور جو شخص قطعیاتِ دین کی میں سے کسی ایک کا منکر ہو یا اس کے معنیٰ و مفہوم کو بگاڑتا ہو، وہ مسلمان نہیں، بلکہ کافر ہے۔ 
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد، 1 صفحہ، 56)
 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
ضروریات دین کا انکار کرنا یا اس میں خلاف مقصود تاویل کرنا دونوں کو علماء کرام نے موجبِ کفر بتلایا ہے۔
(فتاویٰ بینات: جلد، 1 صفحہ، 249)
ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
امت مسلمہ میں کوئی خلاف اس بارے میں نہیں کہ جو کوئی متواترات سے انکار کرے چاہے اس کا کرنا فرض ہو یا ترک حرام ہو، اس سے توبہ نہ کرے تو کافر ہے اور واجب القتل ہے۔ 
(فتاوی بینات: جلد، 1 صفحہ، 252)
 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
ضروریات دین تین قسم کے ہیں۔ پہلی قسم یہ کہ تصریح نص قرآنی سے ثابت ہوں جیسے ماں بیٹی سے نکاح کا حرام ہونا۔ دوسری قسم یہ کہ سنت متواترہ سے ثابت ہوں۔ تواتر خواہ لفظی ہو خواہ معنوی، عقائد میں ہو یا اعمال میں، فرض ہو یا نفل ہو۔ تیسری قسم یہ کہ اجماع قطعی سے ثابت ہوں جیسے سیدنا صدیق اکبرؓ و سیدنا فاروق اعظمؓ کی خلافت وغیرہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس قسم کے امور سے اگر انکار کیا جائے تو اس شخص کا ایمان ۔۔۔۔۔ قرآن اور انبیاء کرام علیہم السلام پر صحیح نہیں ہے۔
(فتاوی بینات: جلد، 1 صفحہ، 255)
 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
اہل قبلہ کے اس وقت تک تکفیر نہیں کی جاتی جب تک ضروریات دین کا یا کسی ایسی چیز کا جس پر اجماع منعقد ہو، انکار نہ کرے مثلاً حرام کو حلال سمجھنا۔ 
جو شخص تکذیب کرے یا کلیات شریعت میں سے کسی قاعدہ سے انکار کرے یا جو چیز نبی کریم ﷺ سے متواتر ثابت ہے اس کا انکار کرے اس کی تکفیر قطعی و یقینی ہے۔ 
(فتاویٰ بھی: جلد، 1 صفحہ، 253)
 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
جو شخص ضروریاتِ دین کا منکر ہو، ایسا شخص تو مسلمان ہی نہیں۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل: جلد 5، صفحہ 69)
 ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
صحیح اصول یہ ہے کہ جو شخص حضرت محمد ﷺ کے پورے دین کو مانتا ہو اور ضروریات دین میں سے کسی بات کا انکار نہ کرتا ہو نہ توڑ مروڑ کر ان کو غلط معانی پہناتا ہو، وہ مسلمان ہے۔کیونکہ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا اس کے معنیٰ و مفہوم کو بگاڑنا کفر ہے۔
(فتاوی ختم نبوت: جلد، 1 صفحہ، 96)
ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
شیعہ فرقہ اثنا عشریہ کے تکفیر کے بارے میں حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی صاحبؒ کے مرتب کرتا استفتاء پر ہندوستان میں مفصل جواب مولانا حبیب الرحمن الاعظمی صاحبؒ نے مدلل طور پر تحریر کیا جبکہ پاکستان میں مولانا مفتی ولی حسن صاحبؒ کو اس فرقہ کے کفر کو بے نقاب کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور برطانیہ میں مقیم سینکڑوں جید اور ممتاز علمائے کرامؒ نے اس فتویٰ کی کی تائید کی۔  
صفحہ 1 از 3