امام العصر، حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ کا…

امام العصر، حضرت مولانا علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ کا فرمان


صفحہ 2 از 2

اس تحقیق سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ کسی گناہ کی وجہ سے اہلِ قبلہ کی تکفیر کی ممانعت کا ضابطہ بھی عام نہیں ہے، الا یہ کہ گناہ سے وہ گناہ مراد لیا جائے جو کفر نہ ہوں تو وہ شخص جس کی تکفیر کسی موجبِ کفر گناہ کی وجہ سے کی جائے وہ تو ضرور اس ضابطہ سے خارج ہو گا، اور اس کو کافر کہا جائے گا۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کی ضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا انکار یا موجباتِ کفر کا ارتکاب اس کو نہ اہلِ قبلہ سے خارج کر دیتا ہے۔ نیز یہ کہ اہلِ قبلہ کے معنیٰ قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑ ھنے والے سمجھنا ناواقفیت کی دلیل ہے۔

(اکفار الملحدين: صفحہ، 105)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

صریح کفر کے مرتکب اہلِ قبلہ کو کافر کہا جائے گا۔ اگرچہ وہ قبلہ سے منحرف نہ ہوں اور اسلام سے خارج ہونے کا قصد بھی نہ کرے۔

(اکفار الملحدين: صفحہ، 113)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

اگر کسی گمراہ فرقہ نے اپنے باطل عقیدہ میں غلو اختیار کیا اور حد سے تجاوز کر گیا تو اس کو کافر قرار دینا ضروری ہے۔ ایسی صورت میں اہلِ حق کے ساتھ اس کی موافقت یا مخالفت کا بھی اعتبار نہ ہو گا، اس لئے کہ وہ مسلمانوں میں داخل ہی نہیں رہا جس کو جان و مال کی امان حاصل ہے، اگرچہ وہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا رہے اور خود کو مسلمان سمجھتا رہے۔ اس لئے کہ مسلمان ہر قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے والے کا نام نہیں ہے بلکہ مسلمان وہ شخص ہے جس کا پورے دینِ اسلام اور عقائد یقینیہ و احکام قطعیہ پر ایمان ہو، یہ شخص یقیناً کافر ہے اگرچہ وہ خود کو کافر نہ سمجھے۔

(اكفار الملحدين: صفحہ، 101)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

اہلِ قبلہ قصد و ارادہ کے بغیر بھی کفریہ عقائد اعمال کی بنیاد پر اسلام سے خارج ہو سکتے ہیں۔ فرماتے ہیں يقولون الحق ويقرؤن القرآن ويمرقون من الاسلام لا يتعلمون منه بشي وہ حق بات زبان سے کہتے ہوں گے، قرآن پڑھتے ہوں گے، اس کے باوجود وہ اسلام سے نکل جائے گے، اور ان کو اسلام سے کوئی علاقہ باقی نہیں رہے گا۔

یہ حدیث شریف ان لوگوں کے قول کی تردید کرتی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں داخل ہونے اور مسلمان کہلانے کے بعد اہلِ قبلہ میں سے کوئی فرد یا گروہ اس وقت تک اسلام سے خارج اور کافر نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ جان بوجھ کر اسلام سے نکلنے کا ارادہ نہ کرے۔ یہ قول بالکل باطل ہے۔

(اکفار الملحدين: صفحہ، 129)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

علامہ ابن تیمیہؒ کے نزدیک وہ تمام افراد اور فرقے جو مسلمان کہلانے اور اہلِ قبلہ میں سے ہونے کے باوجود اسلام کے قطعی اور یقینی عقائد و احکام سے

انحراف و انکار کریں یا انبیاء کرام علیہم السلام پر سب و شتم یا توہین و تذلیل کریں ، وہ نہ صرف کافر و مرتد اور واجب القتل ہیں، بلکہ دوسرے تمام کافروں اور غیر مسلموں سے زیادہ اسلام کے دشمن اور مضرت رساں ہیں۔ ان کی بیخ کنی سب سے زیادہ ضروری اور مقدم ہے۔ نیز یہ کہ ان کی کوئی تاویل بھی مسموع و معتبر نہیں ۔

(اكفار الملحدين: صفحہ، 194)


صفحہ 2 از 2