امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 4

وہ آل ابراہیم علیہ السلام جن کے متعلق ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالیٰ سے سوال کریں کہ ان پر ایسے درود نازل فرمائے جیسے ان پر نازل فرمایا تھا۔ ہم اور ہر ایک مسلمان یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ آل ابراہیم علیہ السلام آل علی رضی اللہ عنہ سے افضل ہیں ۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضل ہیں ۔ پس اس بنیاد پر یہاں پر ایک مشہور سوال وارد ہوتا ہے کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم افضل تھے تو یہاں پر یوں کیوں کہا گیا:(کما صلیت علی إِبراہِیم) جب کہ اصول یہ ہوتا ہے کہ مشبہ کا مقام و مرتبہ مشبہ بہ سے کم ہوتا ہے۔

اس کے کئی ایک جواب دیے گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک جواب یہ بھی ہے کہ : اس میں کوئی شک نہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل میں انبیاء ہوگزرے ہیں ۔ ان میں سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :

’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی آل ابراہیم میں سے ہیں ۔‘‘ پس مجموعی طورپر آل ابراہیم آل محمد سے افضل ہیں ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود پڑھا جاتا ہے تو اس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل اور شامل ہوتے ہیں ۔ مگر پھر بھی ہم اللہ تعالیٰ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت کے لیے اللہ تعالیٰ سے ایسے ہی برکات اور درود طلب کرتے ہیں جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہم السلام کی آل کے لیے طلب کیا تھا۔ تو آپ کے اہل بیت کو اس میں سے وہی کچھ ملتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔ اور یہ باقی سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باقی رہ جاتا ہے۔پس یہ ایسے ہو جاتا ہے کہ آپ کے لیے وہ تمام برکات طلب کی جاتی ہیں جو آل ابراہیم علیہ السلام کے انبیاء کے لیے تھیں ۔ توآپ کے اہل بیت کے فاضل افراد کو وہ حصہ نہیں ملتا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ پس اس اعتبار سے آپ پر صلاۃ پڑھنا بہت عظمت کا باعث بن جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ : یہ تشبیہ اصل میں ہے قدر میں نہیں ۔

چوتھی وجہ:....﴿مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ ﴾ کے الفاظ سورۂ فرقان میں بھی مذکور ہیں ۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ ھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ وَجَعَلَ بَیْنَہُمَا بَرْزَخًا﴾ (الفرقان:۵۳)

’’ یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑواان دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے۔‘‘

اگر مرج البحرین سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں ۔توپھر اس سے حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما دونوں میں سے ایک کی مذمت لازم آتی ہے۔ یہ بات اہل سنت و اہل تشیع کے اجماع سے باطل ہے ۔

پانچویں وجہ :....ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ﴿بَیْنَہُمَا بَرْزَخٌ لَا یَبْغِیَانِ﴾ سے وہ کیا مراد لیتے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ یا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ؟ علاوہ ا زیں ’’یَبْغِیَانِ‘‘ کے لفظ سے مستفاد ہوتا ہے کہ برزخ ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے مانع ہے ۔ اگر اس سے مراد یہی دونوں ہیں تو پھر برزخ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔ جیسا کہ ان لوگوں کا خیال ہے ۔ یا پھر اگر کوئی دوسرا مراد لیا جائے تو ظاہر ہے کہ یہ مدح نہیں بلکہ مذمت ہے۔ 

چھٹی وجہ :....ائمہ تفسیر کا اس ذکر کردہ تفسیر کے خلاف پر اجماع ہے۔جیسا کہ ابن جریر وغیرہ نے ذکر کیا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : آسمانی سمندر اور زمینی سمندر سال میں ایک بار ملتے ہیں ۔ حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’مرج البحرین سے مراد فارس اور روم کے سمندر ہیں ؛ اور ان کے درمیان برزخ الجزائر ہے۔

اور یہ فرمان الٰہی :

﴿یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْ لُؤُ وَالْمَرْجَانُ﴾ [الرحمنِ: 22]

زجاج نے کہا ہے : بیشک یہ نمکین سمندر سے نکلتا ہے۔ لیکن یہاں پر دونوں [نمکین اور میٹھے] سمندروں کو یکجا کرکے یہ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ جب ان دو میں سے کسی ایک سمندرسے یہ چیزیں نکلیں گویا کہ دونوں سمندروں سے نکلیں ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا﴾

فارسی نے کہا ہے : اس سے مراد ان دو میں سے ایک مراد ہے ۔ تویہاں پر مضاف کو حذف کردیا گیا ہے۔

ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہاں یہ فرمایا ہے : (منہما) تثنیہ [دو] کا صیغہ لائے ہیں ؛ اس لیے کہ موتی سمندری صدف میں آسمانی بارش کا قطرہ گرنے سے پیدا ہوتی ہے۔

جہاں تک لؤلؤ[موتی] اور مرجان کا تعلق ہے تو ان کی تفسیر میں دو قول ہیں :

پہلا قول:....جو مرجان موتی سے چھوٹا ہو تاہے جب وہ بڑا ہوجائے تو اسے موتی کہا جاتا ہے۔ یہ اکثر اہل علم کا قول ہے ان میں حضرت ابن عباس؛ قتادہ؛ فرآء اور ضحاک رحمہم اللہ شامل ہیں ۔ زجاج رحمہ اللہ کہتے ہیں : لؤلؤ سمندر سے نکلنے والے دانے کا ایک جامع نام ہے ؛ جب وہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسے مرجان کہا جاتا ہے۔

دوسرا قول:....لؤلؤ یعنی موتی چھوٹے دانے کوکہتے ہیں ؛ جب وہ بڑا ہوجائے تو اسے مرجان کہا جاتا ہے۔ یہ قول مجاہد؛ سدی اور مقاتل رحمہم اللہ کا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں : جب آسمانوں سے بارش برستی ہے تو صدف اپنا منہ کھول لیں ہیں ۔ پس بارش کا جو قطرہ ان کے منہ میں گر جائے وہ موتی بن جاتا ہے۔ جب کہ ابن جریر کہتے ہیں : جیسے ہی قطرہ اس کے منہ میں گرتا ہے تو وہ موتی کی شکل میں بدل جاتا ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مرجان سرخ گھونگھے ہوتے ہیں ۔

زجاج کہتے ہیں : مرجان بہت زیادہ سخت سفید ہوتے ہیں ۔

ابن ابی یعلیٰ سے روایت ہے کہ مرجان بھی موتیوں کی ایک قسم ہے۔


صفحہ 4 از 4